مسئلہ ۲۱۳: از بریلی مسئولہ ابن سید صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں شام پنجشنبہ کو ابر محیط تھا رؤیت نہ ہوئی مگر دوسرے دن چاند کو قدرے بڑا دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہو کہ شاید کل کا ہو جنتری میں اگر چہ عید اتوار کی لکھی مگرساتھ ہی رؤیت کو مشکوک لکھ دیا ہے ایسی صورت میں شرعاً عید دو شنبہ کی ہونا چاہئے یا اتوار کی،اگر عید قربانی اتوار کو کرلیں تودرست ہوگی یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب :شرع مطہر میں رؤیت کا اعتبار ہے(خود یہیں دیکھا جائے یا دوسرے شہر کی رؤیت پر شرعی شہادتیں گزریں) حدیث میں فرمایا:
ان اﷲامدہ لرؤیتہ۱؎
(اﷲتعالٰی نے اس کا مدار رؤیت پر رکھا ہے۔ت)
(۱؎سنن الدارقطنی کتاب الصیام نشرالسنۃ ملتان ۲ /۱۶۳)
خط یا تار یاعقلی قیاسوں یا دوسرے شہر کی حکایتوں کا شرع میں اصلاً اعتبار نہیں مثلاً کچھ لوگ آئے اور بیان کیا کہ وہاں فلاں دن کی عید ہے یا وہاں رؤیت ہوئی اس پر اصلاً لحاظ نہیں جب تک گواہان عادل شرعی خود اپنا دیکھنا نہ بیان کریں ، درمختار میں ہے:
لالو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔۲؎
اس صورت میں ثبوت نہیں ہوگا اگر گواہوں نے غیروں کی رؤیت پر گواہی دی ہو کیونکہ یہ حکایت ہے(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
جنتر یوں کا مشکوک لکھنا تو آپ ہی مشکوک و مہمل ہے اگر وُہ یقینی بھی لکھیں توبھی شرع میں اس پر اعتبار نہیں، درمختار میں ہے:
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعدولاعلی المذھب۔۳؎
صحیح مذہب کے مطابق نجومیوں کے قول کا اعتبار نہیں اگر چہ وُہ عادل ہوں۔(ت)
(۳؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۸)
چاند کے بڑے ہونے پر بھی لحاظ ناجائز ہے، حدیث میں فرمایا:
اقتراب الساعۃ انتقاخ الاھلۃ۔۴؎رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
قربِ قیامت(کی نشانیوں) میں سے ہے کہ چاند بڑا نظر آئے گا۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
(۴؎ المعجم الکبیر للطبرانی،حدیث ۱۰۴۵۱،المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۰ /۲۴۴)
دوسری حدیث میں ہے:
من اقتراب الساعۃ ان یری الھلال قبلا فیقال ھو للیلتین۔۱؎رواہ فی الاوسط عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ چاند واضح ہوگا تو کہا جائے گا کہ دوسری رات کا ہے۔اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت انس رضی ا ﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
دونوں حدیثوں کا حاصل یہ کہ قربِ قیامت کی یہ بھی ایک علامت ہے کہ ہلال پُھولا ہُوا نکلے، لوگ کہیں کل کا ہے، پس ایسی صورت میں اتوار کی عید اور قربانی بالکل باطل اور خلافِ شرع ہے۔ عید کوئی دنیوی تقریب نہیں حکمِ الٰہی ہے، جب مطابقِ شرع نہ ہو محض بیکار بلکہ گناہ ہے، بالفرض اگر چاند پنجشنبہ ہی کو ہوگیا ہے جب بھی دوشنبہ کو نماز قربانی بلاشبہ صحیح ہے اور جمعہ کو ہواتویکشنبہ کو نماز و قربانی محض باطل، تو ایسے امر میں پڑنا شرع اور عقل دونوں کے خلاف ہے، مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ شرع کے کام شرع کے طور پر کریں اپنے خیالات کو دخل نہ دیں۔
وباﷲالتوفیق، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : مسئولہ محمد امین خاں تاجر سبز منڈی شہجہانپور ۲۰رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہلالِ رمضان مبارک یا عیدین اگر دس یا پانچ آدمیوں مسلمانوں نے مشاہدہ کیا اور کل ناقصان شرعی ہیں،محلوق اللحیہ ہے کوئی قصر اللحیہ، کوئی ستر کشادہ رکھتا ہے کسی کی عورت بلا حجاب پیش اجانب جاتی ہے، کوئی سُود لیتا ہے کوئی کذب وغیبت میں مبتلا رہتا ہے ، کوئی اور منہیات میں۔لیکن وہ سب معاملات میں ایسے ثقہ ہیں کہ مفتی کو ان کی شہادت پریقین تام ہوتا ہے کہ اس امر خاص یعنی شہادت مسلمان میں یہ لوگ کا ذب نہیں اور کوئی متقی اس شہادت میں اُن کا شریک نہیں کہ متقی پرہیزگار شہر میں بہت کمیاب ہیں، یا دیہات میں ایسا اتفاق ہوکہ وہاں ایسے لوگ زیادہ ہوتے ہیں اور متقی پرہیز گار شاذونادر، اس صورت میں روزہ رمضان شریف کافرض ہوگا یا نہیں؟ اور نمازِ عید درست ہوگی یا نہیں؟ اور مفتی کو ایسے لوگوں کی شہادت باوجود یقین اہلِ شہر پر فرضیتِ صوم کا حکم کرنا جائز ہے یانہیں؟اگر روزہ نہ رکھے تو اثم ہے یا نہیں؟اور اگررکھ کر توڑڈالے تو اس پر کفارہ واجب ہے یانہیں؟
الجواب :صحیح یہ ہے کہ مسلمان اگرچہ فاسق ہو اہلِ شہادت ہے مگر اس کی شہادت قبول کرنی ناجائز ہے ماسوااُس حالت کے کہ اُس کے بارے میں کہ حاکم کو تمرّی صدق ہوکہ یہ بھی تبین میں داخل ہے۔
جیساکہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذانہ دے بیٹھو، پھراپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔(ت)
(۱؎القرآن ۴۹ /۶)
جب مفتی اہلِ فتوٰی کو ان کے بارے میں تمرّی صدق ہو تو اُس کا حکم حجتِ شرعیہ ہے، رمضان و فطر واجب ہوجائیں گے اور اسکے حکم کے بعد عوام میں کسی کو خلاف کی گنجائش نہ ہوگی۔ واﷲتعالٰی اعلم