محقق حلبی کا یہ استناد کہ اکیلا فــ ۱سجدہ (یعنی سجدہ تلاوت وسجدہ شکر کے سوا محض سجدہ بے سبب) جبکہ عبادت مقصودہ نہ تھا تو علماء نے اُس پر حکم کراہت دیا تو وضوئے جدید کی کراہت بدرجہ اولٰی۔
فــ ۱: سجدہ بے سبب کا حکم ۔
اقول :
خود محقق فـ ۲رحمہ اللہ نے آخر غنیہ میں سجدہ نماز وسہو وتلاوت ونذر وشکر پانچ سجدے ذکر کرکے فرمایا:
اما بغیر سبب فلیس بقربۃ ولامکروہ ۲؎ نقلہ عن المجتبی مقرا علیہ ونقلہ عن الغنیۃ فی ردالمحتار ایضا واقر ھذا ھھنا واعتمد ذاک ثمہ الا ان یحمل ماھنا علی کراھۃ التنزیہ وما ثم علی نفی المأ ثم ای کراھۃ التحریم فیتوافقان لکن یحتاج الحکم بکراھتہ ولو تنزیہا الی دلیل یفیدہ شرعا کما تقدم وھو لم یستند ھھناا لی نقل فاللّٰہ تعالی اعلم۔
یعنی سجدہ بے سبب میں نہ ثواب نہ کراہت۔ غنیہ میں اسے مجتبٰی سے نقل کر کے برقرار رکھا، اور غنیہ سے اسے ردالمحتار میں بھی نقل کیا اور وضو علی الوضو کے بیان میں غنیہ کے قول (سجدہ بے سبب کی کراہت ) کوبرقرار رکھااور آخر باب سجدہ تلاوت میں سجدہ بے سبب کے غیر مکروہ ہونے پر اعتماد کیا مگر تطبیق یوں ہوسکتی ہے یہاں جو کراہت مذکور ہے وہ کراہت تنزیہیہ پر محمول ہو اور وہاں جو نفی کراہت ہے وہ نفی گناہ یعنی کراہت تحریم کی نفی پرمحمول ہو لیکن کراہت کا حکم کرنے کے لئے اگر چہ کراہت تنزیہیہ ہی ہو اس دلیل کی حاجت ہے جو شرعا اس کی کراہت بتاتی ہو جیسا کہ یہ قاعدہ ذکر ہوا اور یہاں انہوں نے کسی نقل سے استناد نہ کیا اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
فــ ۲ تطفل ثامن علیہما ۔
(۲؎ غنیۃ المستملی فصل مسائل شتی سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۶و۶۱۷)
عاشرا :وباللہ ف التوفیق
سجدہ سب سے زیادہ خاص حاضری دربار ملک الملوک عزجلالہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثروا الدعاء رواہ مسلم وابو داؤد۱؎ والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۔
سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اس میں دعا بکثرت کرو (اسے مسلم ،ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا )
فــ: تطفل تاسع علیہا۔
( ۱؎ صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب ما یقال فی الرکوع والسجود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۱)
(سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب الدعاء فی الرکوع والسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۲۷)
(سنن النسائی کتاب افتتاح الصلوۃ باب اقرب ما یکون العبد من اللہ نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۱۷۰و۱۷۱)
اور دربار شاہی میں بے اذن حاضری جرأت ہے اور سجدہ بے سبب کے لئے اذن معلوم نہیں ،ولہٰذا شافعیہ کے نزدیک حرام ہے کما صرح بہ الامام الا ردبیلی الشافعی فی الانوار جیسا کہ امام اردبیلی شافعی نے انوار میں تصریحات کی۔ ت) اس بناء پر اگر سجدہ بے سبب مکروہ ہو تو وضو کا اُس پر قیاس محض بلا جامع ہے۔
رہا علامہ شامی کا اُس کی تائید میں فرمانا کہ ہدیہ ابن عماد میں ہے:
قال فی شرح المصابیح انما یستحب الوضوء اذا صلی بالوضوء الاول صلٰوۃ کذا فی الشرعۃ والقنیۃ اھ وکذا ماقالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیرعندحدیث من توضأ علی طھران المراد الوضوء الذی صلی بہ فرضا او نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فمن لم یصل بہ شیا لایسن لہ تجدیدہ اھ ومقتضی ھذا کراھتہ وان تبدل المجلس مالم یؤدبہ صلاۃ اونحوھا ۱؎ اھ
( ۱؎ ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۱)
اقول :
شرعۃ الاسلام میں اس کا پتا نہیں ،اس میں صرف اس قدر ہے:
التطھر لکل صلاۃ سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام ۲؎۔
ہر نماز کے لئے وضو کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔ (ت)
( ۲؎ شرعۃ الاسلام مع شرح مصابیح الجنا ن فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳)
ہاں سید علی زادہ نے اُس کی شرح میں مضمون مذکور شرح مصابیح سے نقل کیا اور اُس سے پہلے صاف تعمیم کا حکم دیا،
حیث قال فالمؤمن ینبغی ان یجدد الوضوء فی کل وقت وان کان علی طہر قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من توضأ علی طھر کتب لہ عشر حسنات وقال فی شرح المصابیح تجدید الوضوء فی کل وقت انما یستجب اذا صلی بالوضوء الاول صلاۃ والا فلا ۱؎ اھ
ان کے الفاظ یہ ہیں : تومومن کو چاہیے کہ ہر وقت تازہ وضو کرے اگرچہ باوضو رہا ہو،حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے باوضو ہوتے ہوئے وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔۔۔اورشرح مصابیح میں کہا کہ ہر وقت تجدید وضو مستحب ہونے کی شرط یہ ہے کہ پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ،ورنہ نہیں ۔
( ۱؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳)
قلت وبہ ظھر ان قولہ کذا فی الشرعۃ ای شرحہا اشارۃ الی قولہ قال فی شرح المصابیح لاداخل تحت قال۔
قلت اسی سے ظاہر ہوا کہ ابن عماد کی عبارت ''کذافی الشرعۃ ۔۔۔۔ایساہی شرعۃ الاسلام یعنی اسکی شرح میں ہے '' کا اشارہ ان کی عبارت''قال فی شرح المصابیح '' (شرح مصابیح میں کہا ) کی طرف ہے ۔ یہ شرح مصابیح کے کلام میں شامل نہیں (ت)
بہرحال
اولا :
قنیہ کا فــ ۱ حال ضعف معلوم ہے اور شرح شرعہ بھی مبسوط ونہایہ وعنایہ ومعراج الدرایہ وکافی وفتح القدیر وحلیہ وسراج وخلاصہ وناطفی میں کسی کے معارض نہیں ہوسکتی نہ کہ اُن کا اور اُن کے ساتھ اور کتب کثیرہ سب کے مجموع کا معارضہ کرے۔ پھر اعتبار منقول عنہ کا ہے اور شرح فــ۲ مصابیح شروح حدیث سے ہے معتمدات فقہ کا مقابلہ نہ کرے گی نہ کہ مسئلہ اتفاق
فــ ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــ ۲:کتب شروح حدیث میں جو مسئلہ کتب فقہ کے خلاف ہو معتبر نہیں ۔
علامہ مصطفی رحمتی نے شرح مشارق ابن ملک کے نص صریح کو اسی بنا پر رد کیا اور اُسے اطلاقات کتب مذہب کے مقابل معارضہ کے قابل نہ مانا اور خود علامہ شامی نے اُسے نقل کرکے مقرر فرمایا۔
حیث قال علی قولہ لکن فی شرح المشارق لابن ملک لو وطئہا وھی نائمۃ لایحلہا للاول لعدم ذوق العسیلۃ فیہ ان ھذا الکتاب لیس موضوعا لنقل المذھب واطلاق المتون والشروح یردہ وذوق العسیلۃ للنائمۃ موجود حکما الا یری ان النائم اذا وجد البلل یجب علیہ الغسل وکذا المغمی علیہ ۱؎ الخ
تفصیل یہ ہے کہ درمختار میں لکھا لیکن ابن ملک کی شرح المشارق میں ہے کہ اگر عورت سو رہی تھی اور اس سے وطی کی تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی اس لئے کہ اس کے حق میں ذوق عسیلہ (مر دکے چھتے کا مزہ پانے) کی شرط نہ پائی گئی اس پر علامہ رحمتی نے یہ اعتراض کیا:اس میں خامی یہ ہے کہ کتاب نقل مذہب کے لئے نہ لکھی گئی اور متون وشروح کے اطلاق سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اور سونے والی کے لئے بھی مزہ پانے کی شرط حکما موجود ہے کیا دیکھا نہیں کہ سونے والا تری پائے تواس پر غسل واجب ہوجاتاہے اسی طرح وہ بھی جو بے ہوش رہا ہو ۔(ت)
( ۱ ؎ردا لمحتار کتاب الطلاق باب الرجعۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۰)
ثانیا :
علامہ مناوی فــ۱ شافعی ہیں فقہ میں اُن کا کلام نصوص فقہ حنفی کے خلاف کیا قابل ذکر۔
فـــ ۱:معروضۃ اخری علیہ۔
ثالثا فـــ۲ :
وہی مناوی اسی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں کہ شرح کبیر کی تلخیص ہے اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں