Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
98 - 135
سادسا  :
رزین فــ ۳نے عبداللہ فــ ۴ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضا مرتین مرتین وقال ھو نور علٰی نور ۲؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضائے کریمہ دو دوبار دھوئے اور فرمایا یہ نور پر نور ہے۔
(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح     باب سنن الوضوء     الفصل الثالث     قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۷)
فــ ۳: تطفل سادس علیہما۔

فــ ۴: وضو پر وضو کے مسائل ۔
ایک ہی بار کے دھونے میں نور حاصل تھا پھر دوبارہ اور سہ بارہ نور پر نور لینا فضول نہ ہوا تو اس پر اور زیادت کیوں فضول ہوگی حالانکہ اُنہی رزین کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الوضوء علی الوضوء نور علٰی نور ۳؎
وضو پر وضو نور پر نور ہے۔ (ت)
(۳؎ کشف الخفاء     حدیث۲۸۹۷     دار الکتب العلمیہ بیروت     ۲ /۳۰۳)
سابعا:
ابو داؤد وترمذی وابن ماجہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من توضا علی طھر کتب لہ عشر حسنات ۱؎۔
جو باوضو وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جائیں ۔
(۱؎سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ با ب الرجل یجددا لوضومن غیر حدیث آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۹)

(سنن التررمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو لکل الصلوٰۃ حدیث ۵۹ دار الفکر بیروت۱ /۱۲۲و۱۲۳ )

(سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الوضو علی الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۹ )
مناوی نے تیسیر میں کہا:
ای عشر وضوء ات ۲؎
یعنی دس بار وضو کرنے کا ثواب لکھا جائے۔
( ۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضأ علی طہر مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۴۱۱ )
ظاہر ہے کہ حدیثوں میں فصل نماز وغیرہ کی قید نہیں تو مشایخ کرام کا اتفاق اور حدیث کریم کا اطلاق دونوں متوافق ہیں اسی بنا پر سیدی عارف باللہ علّامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ تعالٰی نے یہاں محقق حلبی کا خلاف فرمایا،ردالمحتار میں ہے :
لکن ذکر سیدی عبدالغنی النابلسی ان المفہوم من اطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاۃ اومجلس اخرو لااسراف فیما ھو مشروع اما لوکررہ ثالثا او رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکروا لاکان اسرافا محضا اھ فتامل ۳؎اھ۔
سیدی عبدالغنی النابلسی نے فرمایا کہ حدیث کے اطلاق کا مفہوم تو یہ ہے کہ یہ مشروع ہے خواہ اس کے درمیان کسی نماز یا کسی مجلس سے فصل نہ ہواور جو چیز مشروع ہو اس میں اسراف نہیں ہوتا، لیکن اگر تیسری چوتھی مرتبہ کیا تو اُس کی مشروعیت کیلئے اُن چیزوں سے فصل ضروری ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ور نہ تو محض اسراف ہوگا اھ تو تا مل کرو اھ۔ (ت)
( ۳؎ ردا لمحتار     کتاب الطہارۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت         ۱ /۸۱)
اقول : لکن فــ اطلاق الحدیثین یشمل الثالث والرابع ایضا وایضا اذالم یکن اسرافا فی الثانی لم یکن فی الثالث والرابع وکان المولی النابلسی قدس سرہ القدسی نظر الی لفظ الوضوء علی الوضوء فھما وضواٰن فحسب وکذلک من توضأ علی طھر۔
اقول :
لیکن دونوں حدیثوں کا اطلاق تو تیسری اور چوتھی بار کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ہے کہ جب دوسری بار میں اسراف نہ ہوا تو تیسری چوتھی بار میں بھی نہ ہوگا ، شاید علامہ نابلسی قدس سرہ کی نظر لفظ وضو علی الوضوء پر ہے کہ یہ صرف دو وضو ہوتے ہیں اور یہی حال اس کا ہے جس نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا ۔
ف :تطفل علی المولی النابلسی ۔
اقول : ووھنہ لایخفی فقولہ تعالی
وھنا علی وھن ۱؎
لایدل ان ھناک وھنین فقط وکان الشامی الی ھذا اشار بقولہ تأمل وسیاتی ماخذ کلام العارف مع الکلام علیہ قریبا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
اقول اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں،دیکھیے ارشاد باری تعالٰی وھن علی وھن (کمزوری پر کمزوری ) یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ '' تأمل '' سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء اللہ تعالٰی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)
        (۱ ؎القرآن الکریم     ۳۱ /۱۴)
اقول :
اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں،دیکھیے ارشاد باری تعالٰی وھن علی وھن (کمزوری پر کمزوری ) یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ '' تأمل '' سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء اللہ تعالٰی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)
        (۱ ؎القرآن الکریم     ۳۱ /۱۴)
ثامنا اقول فــ۱  :
حل یہ ہے کہ جو وضو فرض ہے وہ وسیلہ ہے کہ شرط صحت یا جواز ہے اور شروط وسائل ہوتے ہیں مگر جو وضو مستحب فــ ۲ ہے وہ صرف ترتبِ ثواب کیلئے مقرر فرمایا جاتا ہے تو قصد ذاتی سے خالی نہیں اگرچہ اُس سے عمل مستحب فیہ میں حُسن بڑھے کہ مستحب فــ ۳ کی یہی شان ہے کہ وہ اکمال سنن کیلئے ہوتا ہے اور سنن اکمال واجب اور واجب اکمال فرض۔
فــ ! تطفل سابعا علی الغنیۃ والقاری ۔

فــ ۲:مصنف کی تحقیق کہ جو وضو یا غسل مستحب ہے وہ وسیلہ محضہ نہیں خود بھی مخصوص ہے ۔

فــ ۳: مستحب سنت کی تکمیل ہے سنت واجب کی واجب فرض کی فرض ایمان کی ۔
اقول  :
اور فرض اکمال ایمان کیلئے اس سے اُن کا غیر مقصود ہونا لازم نہیں آتا۔
خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین میں ہے:الواجبات اکمال الفرائض والسنن اکمال الواجبات والاداب اکمال السنن ۱؎۔
واجبات فرائض کا تکملہ ہیں اور سنتیں واجبات کا تکملہ اورآداب سنتوں کا تکملہ ۔ (ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ     الفصل الثانی واجبات الصلوٰۃ عشرۃ     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۵۱)

(خزانۃ المفتین     فرائض الصلوٰۃ وواجباتہا     قلمی (فوٹو )    ۱ /۲۶)
درمختار باب ادر اک الفریضہ میں ہے:یأتی بالسنۃ مطلقا ولو صلی منفرداعلی الاصح لکونھا مکملات ۲؎۔
سنّت کی ادائیگی کا حکم مطلقاً ہے اگر چہ تنہا نماز پڑھے یہی اصح ہے اس لئے کہ (فرائض وواجبات ) کی تکمیل کرنے والی ہیں۔(ت)
(۲؎ الدر المختار        ادراک الفریضۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۰)
اُسی کی بحث تراویح میں ہے:
ھی عشرون رکعۃ حکمۃ مساواۃ المکمل للمکمل ۳؎
تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اس میں حکمت یہ ہے کہ مکمل، مکمل کے برابر ہوجائے۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار         کتا ب الصلوٰۃ     باب الوتر والنوافل     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۹۸)
ولہذا ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ وضوئے بے نیت پر ثواب نہیں۔ 

بحرالرائق میں ہے:
اعلم ان النیۃ لیست شرطافی کون الوضوء مفتاحا للصلاۃ قیدنا بقولنا فی کونہ مفتاحا لانھا شرط فی کونہ سببا للثواب علی الاصح ۴؎۔
واضح ہو کہ وضو کے کلید نماز بننے میں نیت شرط نہیں کلید نماز بننے کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ وضو کے سبب ثواب بننے میں بر قول اصح نیت ضرور شرط ہے۔(ت)
(۴؎ البحرالرائق    کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴)
اور مستحب پر ثواب ہے تو وضوئے فـــ۱ مستحب محتاج نیت ہوا اور وسائل محضہ محتاج نیت نہیں ہوتے۔
فــ ۱: وضوئے مستحب بے نیت ادا نہ ہوگا ۔
فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے:
اذالم ینو حتی لم یقع عبادۃ سببا للثواب فھل یقع الشرط المعتبر للصلاۃ حتی تصح بہ اولا قلنا نعم لان الشرط مقصود التحصیل لغیرہ لالذاتہ فکیف حصل حصل المقصود وصار کستر العورۃ باقی شروط الصلاۃ لایفتقر اعتبارھا الی ان تنوی.۱؎۔
بے نیت وضو کر لیا جس کے باعث وہ عبادت سبب ثواب نہ بن سکا تو کیا اس (بے نیت وضو ) سے نماز صحیح ہوجائے گی اور یہ اس وضوکی جگہ ہو جائے گی جس کی شرط نماز میں رکھی گئی ہے ہم جواب دیں گے ہاں اس لئے کہ شرط دوسری چیز کو بروئے کار لانے کے لئے مقصود ہے بذات خود مقصود نہیں تو یہ جیسے بھی حاصل ہومقصود حاصل ہوجائے گا جیسے ستر عورت اور باقی شرائط نماز ہیں کہ ان کے قابل اعتبار ہونے کے لئے ان میں نیت ہونے کی ضرورت نہیں ۔(ت)
(۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۵و۲۶)
تو ثابت ہوا کہ وضوئے مستحب وسیلہ نہیں
وھو المقصود والحمدللّٰہ الودود۔
Flag Counter