| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
وہ تنظیف فــ۱ ہے اور دین کی بنا نظافت پر ہے اور شک نہیں کہ تجدید موجب تنظیف مزید، ولہٰذا فــ ۲جمعہ وعیدین وعرفہ عــــہ واحرام ووقوف عرفات ووقوف مزدلفہ حاضری حرم وحاضری سرکار اعظم ودخول منٰی ورمی جمار ہرسہ روزہ شب برات وشب قدر وشب عرفہ وحاضری مجلس میلاد مبارک وغیرہا کے غسل مستحب ہوئے،
فــ۱:تطفل ثالث علیہما۔ فــ۲:مسئلہ ان بعض اوقات و مواقع کا ذکر جن کے لیے غسل مستحب ہے ۔ عـــہ قال فی الدر و فی جبل عرفۃ ۱؎ قال ش'' اقحم لفظ جبل اشارۃ الی ان الغسل للوقوف نفسہ لالد خول عرفات ولا للیوم وما فی البدائع من انہ یجوز ان یکون علی الاختلاف ای للوقوف اوللیوم کما فی الجمعۃ ردہ فی الحلیۃ بان الظاھر انہ للوقوف قال وما اظن ان احد اذھب الی استنانہ لیوم عرفۃ بلا حضور عرفات اھ عــــہ در مختار میں ہے میں''جبلِ عرفات پرغسل '' شامی میں ہے لفظ جبل اس بات کی جانب اشارہ کے لئے بڑھا دیا کہ غسل خود وقوف کی وجہ سے ہے عرفات میں داخل ہونے یا روز عرفہ کی وجہ سے نہیں اور بدائع میں جو ہے کہ ''ہوسکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہوکہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے یا اس دن کی وجہ سے ہے جیسے جمعہ میں اختلاف ہے ''حلیہ میں اسکی تردید یوں کی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے۔ اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ کسی کا یہ مذہب ہو کہ عر فات کی حاضری کے بغیر روزعرفہ کا غسل مسنون ہے ۔اھ
( ۱؎ ا لدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ مجتبائی دہلی ۱ /۳۲)
واقر ہ فی البحر والنہر لکن قال المقد سی فی شرح نظم الکنز لا یستبعد سنیتہ للیوم لفضیلتہ حتی لوحلف بطلاق امرأتہ فی افضل الایام العام تطلق یوم العرفۃ ذکرہ ابن ملک فی شرح الشارق اھ ۲؎
اوراسے بحر ونہر میں برقراررکھا لیکن مقدسی نے شرح نظم کنز میں لکھا کہ:''دن کے باعث اس غسل کا مسنون ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ دن فضیلت رکھتا ہے یہا ں تک کہ اگر یہ کہا کہ میری عور ت کو سال کے سب سے افضل دن میں طلاق تو روز عرفہ اسپرطلاق واقع ہوگی اسے ابن ملک نے شرح مشارق میں ذکر کیا اھ
( ۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۱۴)
اقول : ھذاصاحب ف الدر ناصا علی استنانہ ای استحبابہ لیلۃ عرفۃ وقدعد ھافی التاتارخانیہ والقہستانی فالیوم احق فلذا افردت عرفۃ من الوقوف وکذا دخول من رمی الجمار تبعاللتنویر شرح الغزنویۃ کما نقل عنہ ش واللہ تعالٰی اعلم اھ۱۲ منہ
اقول یہ خود صاحب درمختارہیں جنہوں نے عرفہ کی شب غسل مسنون یعنی مستحب ہونے کی صراحت فرمائی اور تاتار خانیہ وقہستانی نے بھی اسے شمار کیا اسی طرح دخول منٰی کو رمی جمار سے الگ کیا تنویر اور شرح غزنویہ کی تبعیت میں جیسا کہ اس سے علامہ شامی نے نقل کیا ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (ت)
فــ: تطفل علی الدر۔
درمختار میں قول ماتن :
سن لصلاۃ جمعۃ وعید الخ
ماتن نے کہا جمعہ وعیدین کیلئے سنّت ہے الخ۔ (ت) کے بعد ہے
وکذا الدخول المدینۃ ولحضور مجمع الناس الخ ۱؎
اسی طرح مدینہ میں داخل ہونے والے اور لوگوں کے مجمع میں حاضر ہونے کیلئے سنت ہے الخ۔( ت)
( ۱؎ ا لدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ مجتبائی دہلی ۱ /۳۲)
ان سب میں نماز کیلئے وسیلہ ہونا کہاں کہ جنابت نہیں۔
رابعا فـــ ۱:
صرف وسیلہ ہی ہوکر مشروع ہوتا تو ایک بار کوئی فعل مقصود کرلینے کے بعد بھی تجدید مکروہ ہی رہتی کہ پہلا وضو جب تک باقی ہے وسیلہ باقی ہے تو دوبارہ کرنا تحصیل حاصل وبیکار واسراف ہے۔
فــ۱ تطفل رابعۃ علی الغنیۃ والقاری ۔
خامسا :
بلکہ ف۲ چاہئے تھا کہ شرع مطہر وضو میں تثلیث بھی مسنون نہ فرماتی کہ وسیلہ تو ایک بار دھونے سے حاصل ہوگیا اب دوبارہ سہ بارہ کس لئے۔
ف۲: تطفل خامس علیہما ۔