وضو عبادت ف مقصودہ نہیں بلکہ نماز وغیرہ کیلئے وسیلہ ہے ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے تو جب تک اُس سے کوئی فعل مقصود مثل نماز یا سجدہ تلاوت یا مس مصحف واقع نہ ہولے اُس کی تجدید مشروع نہ ہونی چاہئے کہ اسراف محض ہوگی۔ یہ اعتراض محقق ابراہیم حلبی کا ہے۔
فــ:مسئلہ بعض نے فرمایا کہ وضو پر وضو اسی وقت مستحب ہے کہ پہلے سے وضو کوئی نمازیا سجدہ تلاوت وغیرہ کوئی فعل جس کے لئے با وضو ہونے کا حکم ہے ادا کر چکا ہوبغیر اس کے تجدید وضو مکروہ ہے ۔ بعض نے فرمایا کہ ایک بار تجدید تو بغیر اس کے بھی مستحب ہے،ایک سے زیادہ بے اسکے مکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ ہمارے ائمہ کا کلام اور نیز احادیث خیر الانام علیہ افضل الصلوۃ السلام مطلقا تجدید وضو کو مستحب فرماتی ہیں اوران قیدوں کا کوئی ثبوت ظاہر نہیں ۔
خلاصہ میں اعضائے وضو چار بار دھونے کی کراہت میں دو قول نقل کرکے فرمایا تھا:
ھذا اذالم یفرغ من الوضوء فان فرغ ثم استأنف الوضوء لایکرہ بالاتفاق ۱؎۔
یہ اس صورت میں ہے کہ ابھی وضو سے فارغ نہ ہواہو اگرفارغ ہوگیا پھرازسر نو وضو کیا تو بالاتفاق مکروہ نہیں ۔( ت )
اسی طرح تاتارخانیہ میں امام ناطفی سے ہے کما فی ش اس سے ثابت کہ ایک وضو سے فارغ ہو کر معاً بہ نیت وضو علی الوضو شروع کردینا ہمارے یہاں بالاتفاق جائز ہے اور کسی کے نزدیک مکروہ نہیں۔ اس پرعلامہ حلبی نے وہ اشکال قائم کیا اور علامہ علی قاری نے مرقات باب السنن الوضوء فصل ثانی میں زیر حدیث
فمن زاد علی ھذا فقد اساء وتعدی ۲؎
(جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا اور حد سے آگے بڑھا۔ت) اُن کی تبعیت کی۔
(۲؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب سنن الوضو تحت الحدیث۴۱۷ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ /۱۲۴)
اقول اولا فــــ۱ :
جب ائمہ ثقات نے ہمارے علماء کا اتفاق نقل کیا اور دوسری جگہ سے خلاف ثابت نہیں تو بحث کی کیا گنجائش۔
فــ۱ تطفل علی الغنیۃ وعلی القاری ۔
ثانیا فــ ۲:
عبادت غیر مقصودہ بالذات ہونے پر اتفاق سے یہ لازم نہیں کہ وہ وسیلہ ہی ہو کر جائز ہو بلکہ فی نفسہ بھی ایک نوع مقصودیت سے حظ رکھتا ہے ولہٰذا اجماع ہے کہ ہر وقت باوضو رہنا فــ۳ ہر حدث کے بعد معاً وضوء کرنا مستحب ہے۔
فـــ۲ :تطفل اٰخر علیہما۔
فــ۳ مسئلہ ہروقت با وضو رہنا مستحب ہے اور اس کے فضائل۔
فتاوٰی قاضی خان وخزانۃ المفتین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں وضوئے مستحب کے شمار میں ہے:
ومنھا المحافظۃ علی الوضوء وتفسیرہ ان یتوضأ کلما احدث لیکون علی الوضوء فی الاوقات کلھا ۳؎۔
اسی میں سے وضو کی محافظت یہ ہے کہ جب بے وضو ہو وضو کر لے تاکہ ہمہ وقت با وضورہے وضو کی محافظت اسلام کی سنت ہے۔(ت)
(۳؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۹)
بلکہ امام رکن الاسلام محمد بن ابی بکر نے شرعۃ الاسلام میں اُسے اسلام کی سُنّتوں سے بتایا فرماتے ہیں:
المحافظۃ علی الوضوء سنۃ الاسلام ۱؎
(ہمیشہ باوضو رہنا اسلام کی سنّت ہے۔ ت)
( ۱؎ شرعۃ الاسلام مع شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲)
اُس کی شرح مفاتیح الجنان ومصابیح الجنان میں بستان العارفین امام فقیہ ابو اللیث سے ہے :
بلغنا ان اللّٰہ تعالٰی قال لموسٰی علیہ الصلاۃ والسلام یا موسٰی اذا اصابتک مصیبۃ وانت علی غیر وضوء فلا تلو من الانفسک ۲؎۔
یعنی ہم کو حدیث پہنچی کہ اللہ عزّوجل نے موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا اے موسٰی! اگر بے وضو ہونے کی حالت میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو خود اپنے آپ کو ملامت کرنا۔
( ۲؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲)
اُسی میں کتاب خا لصۃ الحقائق ابو القاسم محمود بن احمد فارابی سے ہے:
قال بعض اھل المعرفۃ من داوم علی الوضوء اکرمہ اللّٰہ تعالی بسبع خصال ۳؎ الخ
یعنی بعض عارفین نے فرمایا جو ہمیشہ باوضو رہے اللہ تعالٰی اُسے سات۷ فضیلتوں سے مشرف فرمائے:
(۳؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲)
(۱) ملائکہ اس کی صحبت میں رغبت کریں۔
(۲) قلم اُس کی نیکیاں لکھتا رہے۔
(۳) اُس کے اعضاء تسبیح کریں۔
(۴) اُسے تکبیر اولٰی فوت نہ ہو۔
(۵) جب سوئے اللہ تعالٰی کچھ فرشتے بھیجے کہ جن وانس کے شر سے اُس کی حفاظت کریں۔
(۶) سکرات موت اس پر آسان ہو۔
(۷) جب تک باوضو ہو امانِ الٰہی میں رہے۔
اُسی میں بحوالہ مقدمہ غزنویہ وخالصۃ الحقائق انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے :
من احدث ولم یتوضأ فقد جفانی ۴؎
جسے حدث ہو اور وضو نہ کرے اس نے میرا کمالِ ادب جیسا چاہئے ملحوظ نہ رکھا۔
(۴؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۴)
اقول :
مگر ظاہراً یہ حدیث بے اصل ہے،تشہد بہ قریحۃ من نظرہ فیہ بتمامہ وایضا لوصح لوجبت استدامۃ الوضوء ولا قائل بہ واللّٰہ تعالٰی اعلم جوپوری حدیث میں غور کرے تواسکی طبیعت اس کی شہادت دے گی اور اگر یہ درست ہوتی تو ہمیشہ با وضو رہنا واجب ہوتا اور کوئی اس کا قائل نہیں ۔