معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہٰذا اُس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہٖ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہٰذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ واستہلاک ہے کہ اہم بالافادہ یہی ہے معاصی میں صرف معصیت ہونا تو بدیہی ہے زید نے سونے چاندی کے کڑے اپنے ہاتھوں میں ڈالے یہ اسراف ہوا کہ فعل خود گناہ ہے اگرچہ تھوڑی دیر پہننے سے کڑے خرچ نہ ہوجائیں گے اور بلا وجہ محض اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے تو اسراف نہیں کہ نہ فعل گناہ ہے نہ مال ضائع ہوا اور اگر دریا میں پھینک دیے تو اسراف ہوا کہ مال کی اضاعت ہوئی اور اضاعت کی ممانعت پر حدیث صحیح ناطق صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اللّٰہ تعالی کرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال ۱؎۔
بے شک اللہ تعالٰی تمہارے لئے مکروہ رکھتا ہے فضول بک بک اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب ما ینہی عن اضاعت المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۴)
(صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نہی عن کثر ۃ المسائل الخ قدیمی کتب خا نہ کراچی ۲ /۷۵ )
یہ تحقیق معنی اسراف ہے جسے محفوط وملحوظ رکھناچاہئے کہ آئندہ انکشاف احکام اسی پر موقوف وباللہ التوفیق۔
فائدہ ـ: فــ یہاں سے ظاہر ہوا کہ وضو وغسل میں تین بار سے زیادہ پانی ڈالنا جبکہ کسی غرض صحیح سے ہو ہرگز اسراف نہیں کہ جائز غرض میں خرچ کرنا نہ خود معصیت ہے نہ بیکار اضاعت۔ اس کی بہت مثالیں اُن پانیوں میں ملیں گی جن کو ہم نے آب وضوء سے مستثنٰی بتایا نیز تبرید وتنظیف کی دو مثالیں ابھی گزریں اور ان کے سوا علماء کرام نے دو صورتیں اور ارشاد فرمائی ہیں جن میں غرض صحیح ہونے کے سبب اسراف نہ ہوا:
(۱) یہ کہ وضو علی الوضوء کی نیت کرے کہ نور علٰی نور ہے۔
(۲) اگر وضو کرتے میں کسی عضو کی تثلیث میں شک واقع ہو تو کم پر بنا کرکے تثلیث کامل کرلے مثلاً شک ہوا کہ منہ یا ہاتھ یا پاؤں شاید دو ہی بار دھویا تو ایک بار اور دھولے اگرچہ واقع میں یہ چوتھی بار ہو اور ایک بار کا خیال ہوا تو دوبار، اور یہ شک پڑا کہ دھویا ہی نہیں تو تین بار دھوئے اگرچہ واقع کے لحاظ سے چھ بار ہوجائے یہ اسراف نہیں کہ اطمینانِ قلب حاصل کرنا غرض صحیح ہے۔
فــ:مسئلہ ان صحیح غرضوں کا بیان جن کے لئے وضو و غسل میں تین تین با ر سے زیادہ اعضاء کا دھونا داخل اسرف نہیں بلکہ جائز وروا یا محمود و مستحسن ہے ۔
ہم امر چہارم میں ارشاد اقدس حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر آئے کہ:
دع ما یریبک الی مالا یریبک ۲؎
شک کی بات چھوڑ کروہ کر جس میں شک نہ رہے۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۵)
کافی امام حافظ الدین نسفی میں ہے :
ھذا (ای وعید الحدیث من زاد علی ھذا اونقص فقد تعدی وظلم) اذا زادہ معتقدا ان السنۃ ھذا فاما لو زاد لطمانیۃ القلب عند الشک اونیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لانہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم امر بترک مایریبہ الی مالا یریبہ ۱؎۔
حدیث پاک '' جس نے اس سے زیادتی یا کمی کی وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا '' کی وعید اس صورت میں ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھتے ہوئے زیادہ کرے کہ زیادہ کرناہی سنت ہے لیکن شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کرے یادوسرے وضو کی نیت ہو تو کوئی حرج نہیں ا س لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےحکم دیا ہے کہ شک کی حالت چھوڑ کر وہ صورت اختیار کرے جس میں شک نہ رہے ۔(ت)
(۱؎الکافی شرح الوافی)
فتح القدیر میں قولِ ہدایہ :
الوعید لعدم رویتہ سنۃ
(وعید اس لئے ہے کہ وہ سنت نہیں سمجھتا ہے۔ ت) کے تحت میں ہے:
فلو راٰہ و زاد لقصد الوضوء علی الوضوء اولطمانیۃ القلب عند الشک اونقص لحاجۃ لاباس بہ ۲؎۔
تو اگر تثلیث کو سنت مانا اور وضو پر وضو کے ارادے یا شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کیا یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی تو کوئی حرج نہیں(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتا ب الطہارت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۷)
عنایہ میں ہے :
اذا زاد لطمانیۃ القلب عند الشک اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ فان الوضوء علی الوضوء نور علی نور وقد امر بترک مایریبہ الی مالا یریبہ ۳؎۔
شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے یا دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیا تو حرج نہیں اس لئے کہ وضو پر وضو نور علٰی نور ہے اور اسے حکم ہے کہ شک کی صورت چھوڑ کر وہ راہ اختیار کرے جس میں اسے شک نہ ہو (ت)
(۳؎ عنایہ مع الفتح القدیر علی الہدایۃ کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۷)
حلیہ میں ہے :
الوعید علی الاعتقاد المذکور دون نفس الفعل وعلی ھذا مشی فی الھدایۃ ومحیط رضی الدین والبدائع ونص فی البدائع انہ الصحیح لان من لم یرسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فقد ابتدع فلیحقہ الوعید وان کانت الزیادۃ علی الثلاث لقصد الوضو علی الوضوء اولطمانینۃ القلب عند الشک فلا یلحقہ الوعید وھو ظاھر وھل لو زاد علی الثلث من غیر قصد لشیئ مما ذکر یکرہ الظاھر نعم لانہ اسراف ۱؎۔
وعید اعتقاد مذکور پر ہے خود فعل پر نہیں ۔ اسی کو ہدایہ، محیط رضی الدین اور بدائع میں بھی اختیار کیا ہے ، اور بدائع میں صراحت کی ہے کہ یہی صحیح ہے اس لئے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنت کو نہ مانے وہ بد مذہب ہے اسے وعیدلاحق ہوگی۔اگر تین پراضافہ وضو علی وضو کے ارادے سے ہے یا شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی اوریہ ظاہرہے۔سوال یہ ہے کہ اگرمذکورہ با توں میں سے کسی کا قصد ہوئے بغیراس نے تین بار سے زیادہ دھویا مکروہ ہے یانہیں ،ظاہریہ ہے کہ مکروہ ہے کیونکہ یہ اسراف ہے ۔( ت)
( ۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اسی طرح نہایہ ومعراج الہدایہ ومبسوط وسراج وہاج وبرجندی ودرمختار وعالمگیری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے مگر بعض متاخرین شراح کو ان صورتوں میں کلام واقع ہوا: