کا اطلاق کم از کم مستحب پر آتا ہے اور اسراف مباح خالص میں اُس سے بھی زیادہ ہے
مگر یہ کہ جو کچھ لاینبغی نہیں سب کو ینبغی مان لیں کہ مباح کاموں کو بھی شامل ہوجائے
ولیس ببعید
(اور یہ بعید نہیں۔ ت) اور عبث محض اگرچہ بعض جگہ مباح بمعنی غیر ممنوع ہو مگر زیر لاینبغی داخل ہے تو اس میں جو کچھ اُٹھے گا اس تفسیر پر داخل تبذیر ہوگا۔
(۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔ قاموس میں ہے:
ذھب ماء الحوض سرفا فاض من نواحیہ ۳؎۔
حوض کا پانی اسکے کناروں سے بہ گیا ۔ (ت)
(۳؎القاموس المحیط باب الفاء فصل السین مصطفی البابی مصر ۳/۱۵۶)
تاج العروس میں ہے:
قال شمر سرف الماء ماذھب منہ فی غیر سقی ولا نفع یقال اروت البئر النخیل وذھب بقیۃ الماء سرفا۔۴؎
شمر نے کہا سَرف الماء کے معنی وہ پانی جوسینچائی یا کسی فائدہ کے بغیر جاتا رہاکہا جاتا ہے کنویں نے کھجوروں کو سیراب کر دیا اور باقی پانی سرف (بے کار ) گیا ۔(ت)
(۴؎ تاج العروس باب الفاء فصل السین داراحیاء التراث العربی بیروت۶ /۱۳۸)
تفسیر کبیر وتفسیر نیشا پوری میں ہے:
اعلم ان لاھل اللغۃ فی تفسیر الاسراف قولین الاول قال ابن الاعرابی السرف تجاوز ماحد لک الثانی
قال شمر عـــــہ۱ سرف المال عـــــہ ۲ماذھب منہ فی غیر منفعۃ ۱؎۔
واضع ہو کہ اسراف کی تفسیر میں اہل لغت کے دوقول ہیں : اول ،ابن الاعرابی نے کہا سرف کام معنی مقررہ حد سے تجاوز شمر نے کہا سرف الما ل وہ جو بے فا ئدہ چلا جائے(ت)
عـــہ۱ وقع ھھنا فی نسخۃ النیسا بوری المطبوعۃ بمصر عمر بالعین وھو تحریف منہ۔ (م)
یہاں تفسیر نیشاپوری کے مصری مطبوعہ نسخہ میں شمر کے بجائے عین سے عمر چھپ گیا ہے ،یہ تحریف ہے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۲ ھکذا ھو المال باللام فی کلا التفسیرین وقضیۃ التاج انہ الماء بالھمزۃ منہ۔ (م)
یہ دونوں تفسیروں میں اسی طرح "لام" سے مال لکھا ہوا ہے اور تا ج العروس کا تقاضہ ہے کہ یہ ہمزہ سے ''ماء''ہو ۱۲منہ(ت)
( ۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) تحت الآیۃ ۶ /۱۴۱ دار الکتب العلمہ بیروت ۱۳ /۱۷۵،۱۷۶ )
اقول :
منفعت کے بعد بھی اگرچہ ایک مرتبہ زینت ہے مگر ایک معنی پر زینت بھی بے فائدہ نہیں۔ ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ومانع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اُس عبداللہ کی تعریف ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کی گٹھری فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بعد تمام جہان سے علم میں زائد ہے اور ابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مورث علم ہے رضی اللہ تعالٰی عنہ وعنہ وعنہم اجمعین۔ تبذیر ف کے باب میں علما ء کے دو قول ہیں:
ف :تبذیر و اسراف کی معنی میں فرق کی بحث ۔
(۱) وہ اور اسراف دونوں کے معنی ناحق صرف کرنا ہیں۔
اقول :
یہی صحیح ہے کہ یہی قول حضرت عبداللہ بن مسعود وحضرت عبداللہ بن عباس وعامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا ہے، قول اول کی حدیث میں اس کی تصریح گزری اور وہی حدیث بطریق آخر ابن جریر نے یوں روایت کی:
کما اصحاب محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نتحدث ان التبذیر النفقۃ فی غیر حقہ ۲؎۔
ہم اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان کرتے تھے تبذیر غیر حق میں خرچ کرنے کا نا م ہے۔( ت)
(۲؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ /۲۶،۲۷ داراحیاء التراث ا لعربی بیروت ۱۵ /۸۶)
سعید بن منصور سنن اور بخاری ادب مفرد اور ابن جریر وابن منذر تفاسیر اور بیہقی شعب الایمان میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
المبذر المنفق فی غیر حقہ ۔۱؎
(مبذر وہ جو غیرحق میں خرچ کرے ۔ت)
(۱؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷/۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۶)
(الدر المنثور بحوالہ سعید بن منصور والبخاری فی الادب و ابن المنذر ولبیہقی شعب الایمان دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۳۹)
ابن جریرکی ایک روایت اُن سے یہ ہے:
لاتنفق فی الباطل فان المبذر ھو المسرف فی غیر حق وقال مجاھد لوانفق انسان مالہ کلہ فی الحق ماکان تبذیرا ولو انفق مدا فی الباطل کان تبذیرا ۲؎۔
باطل میں خرچ نہ کر کہ مُبذّر وہی ہے جو ناحق میں خرچ کرتا ہو۔مجاہد نے کہا:کہ اگر انسان اپنا سارا مال حق میں خرچ کردے توتبذیر نہیں اور اگر ایک مُد بھی باطل میں خرچ کردے توتبذیر ہے۔(ت)
(۲؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ /۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۷)
نیز قتادہ سے راوی:
التبذیر النفقۃ فی معصیۃ اللّٰہ تعالی وفی غیر الحق وفی الفساد۳؎۔
تبذیر:اللہ کی معصیت میں غیر حق میں اورفساد میں خرچ کرناہے۔ (ت)
(۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷/ ۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۷)
نہایہ ومختصر امام سیوطی میں ہے :
المباذر والمبذر المسرف فی النفقۃ ۴؎۔
مباذر و مبذر:خرچ میں اسراف کرنے والا۔ (ت)
(۴؎ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثرباب الباء مع الذال،تحت لفظ بذر دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۱۰مختصر احیاء العلوم)
نیز مختصر میں ہے:
الاسراف التبذیر۵؎
(اسراف کا معنی تبذیر ہے۔ت)
(۵؎ مختصر احیاء العلوم)
قاموس میں ہے:
بذرہ تبذیرا خربہ و فرقہ اسرافا۱؎
بذرہ تبذیرا اسے خراب کیا اور بطور اسراف بانٹ دیا۔(ت)
( ۱؎ قاموس المحیط باب الراء فصل الباء مصطفی البابی مصر ۱ /۳۸۳)
تعریفات السید میں ہے :
التبذیر تفریق المال علی وجہ الاسراف ۲؎
تبذیر:بطور اسراف مال بانٹنا۔(ت)
(۲؎التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۲۳)
اسی طرح مختار الصحاح میں اسراف کو تبذیر اور تبذیر کو اسراف سے تفسیر کیا۔
(۲) اُن میں فرق ہے تبذیر خاص معاصی میں مال برباد کرنے کا نام ہے ابنِ جریر عبدالرحمن بن زید بن اسلم مولائے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
لاتبذر تبذیرا لا تعط فی المعاصی۳؎
''لاتبذر تبذیرا''
کا معنی''معاصی میں نہ دے''۔(ت)
(۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷/ ۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۷)
اقول اس تقدیر پر اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عبث میں صرف کو بھی شامل اور عبث مطلقاً گناہ نہیں تو از انجا کہ اسراف ناجائز ہے یہ صرف معصّیت ہوگا مگر جس میں صرف کیا وہ خود معصیت نہ تھا اور عبارت ''لاتعط فی المعاصی''(اس کی نافرمانی میں مت دے۔ت) کا ظاہر یہی ہے کہ وہ کام خود ہی معصیت ہو بالجملہ تبذیر کے مقصود وحکم دونوں معصیت ہیں اور اسراف کو صرف حکم میں معصیت لازم،
وھذا ھو المشتھر الیوم و وقع فی التاج عن شیخہ عن ائمۃ الاشتقاق ان التبذیر یشمل الاسراف فی عرف اللغۃ اہ۴؎ ،وبہ صرح العلامۃ الشہاب فی عنایۃ القاضی ومفادہ ان التبذیر اعم ولم یفسراہ۔
اوراس وقت یہی مشہور ہے،اور تاج العروس میں اپنے شیخ کی روایت سے اشتقاق سے نقل کیا ہے کہ لغت کے عرف میں تبذیر،اسراف کوشامل ہے اھ-اسکی صراحت علّامہ شہاب خفاجی نے عنایۃ القاضی میں کی ہے اور اس کا مفاد یہ ہے کہ تبذیر اعم ہے اور دونوں نے اس کی تفسیر نہ کی ہے۔(ت)
(۴؎تاج العروس باب الراء،فصل الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶)
بعض نے یوں فرق کیا کہ مقدار میں حد سے تجاوز اسراف ہے اور بے موقع بات میں صرف کرنا تبذیر، دونوں بُرے ہیں اور تبذیر بدتر۔
قال الخفاجی وفرق بینھما علی مانقل فی الکشف بان الاسراف تجاوز فی الکمیۃ وھو جہل بمقادیر الحقوق والتبذیر تجاوز فی موقع الحق وھو جہل بالکیفیۃ وبمواقعھا وکلاھما مذموم والثانی ادخل فی الذم ۱؎۔
خفاجی نے فرمایا:جیساکشف میں نقل کیا ہے ان دونوں میں یہ فرق کیا گیاہے کہ اسراف مقدار میں حد سے آگے بڑھنا اور یہ حقوق کی قدروں سے نا آشنائی ہے - اور تبذیر حق کی جگہ سے تجاوز کرنا اور یہ کیفیت ہے اور اس کے مقامات سے نا آشنائی ہے،اور دونوں ہی مذموم ہیں اورثانی زیادہ براہے۔(ت)
( ۱؎ عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۷ /۲۶ دار الکتب العلمیۃبیروت ۶ /۴۲)
اس تقدیر پر دونوں متباین ہوں گے۔
اقول :
اگرچہ مقدار سے زیادہ صرف بھی بے موقع بات میں صرف ہے کہ وہ مصرف اس زیادت کا موقع ومحل نہ تھا ورنہ اسراف ہی نہ ہوتا مگر بے موقع سے مراد یہ ہے کہ سرے سے وہ محل اصلا مصرف نہ ہو۔
بالجملہ احاطہ کلمات فــ سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاک دورہ کرتے ہیں دو ہیں ایک مقصدمعصیت دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع وکراہت۔
فـــ:مسئلہ اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ایسا ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں۔