آدمی کے پاس جو مال زائد بچا اور اُس نے ایک فضو ل کام میں اُٹھا دیا جیسے بے مصلحت شرعی مکان کی زینت وآرائش میں مبالغہ، اس سے اُسے تو کوئی نفع ہوا نہیں اور اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو دیتا تو اُن کو کیسا نفع پہنچتا تو اس حرکت سے ظاہر ہوا کہ اس نے اپنی بے معنی خواہش کو اُن کی حاجت پر مقدم رکھا اور یہ خلافِ مروت ہے۔
(۴) طاعتِ الٰہی کے غیر میں اٹھانا۔ قاموس میں ہے :
الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ ۱؎ اھ
اسراف تبذیریا وہ جو غیر طاعت میں خرچ ہو ۔ (ت)
( ۱؎القاموس المحیط باب الفاء فصل السین تحت السرف مصطفی البابی مصر ۳ /۱۵۶)
ردالمحتار میں اسی کی نقل پر اقتصار فرمایا۔
اقول :
ظاہرف ہے کہ مباحات نہ طاعت ہیں نہ اُن میں خرچ اسراف مگر یہ کہ غیر طاعت سے خلاف طاعت مراد لیں تو مثل تفسیر دوم ہوگی اور اب علّامہ شامی کا یہ فرمانا کہ:
لایلزم من کونہ غیر طاعۃ ان یکون حراما نعم اذا اعتقد سنیتہ (ای سنیۃ الزیادۃ علی الثلث فی الوضوء) یکون منھیا عنہ ویکون ترکہ سنۃ مؤکدۃ ۲؎۔
اس کے غیر طاعت ہونے سے حرام ہونا لازم نہیں آتا، ہاں( وضوء میں تین بار سے زیادہ دھونے کے) مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو تو وہ منہی عنہ ہے اور اس کا ترک سنّتِ مؤکدہ ہوگا۔( ت)
ف: معروضۃ علی العلامۃ ش والقاموس المحیط۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی ۱ /۹۰)
(۵) حاجتِ شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا
کما تقدم فی صدر البحث عن الحلیۃ والبحروتبعھما العلامۃ الشامی
( جیسا کہ اس مبحث کے شروع میں حلیہ وبحر کے حوالے بیان ہوااور علامہ علامہ شامی نے ان دونوں کا اتبا ع کیا ۔ ت)
اقول اولا :
مراتب ف۱ خمسہ کہ ہم اوپر بیان کر آئے اُن میں حاجت کے بعد منفعت پھر زینت ہے اور شک نہیں کہ ان میں خرچ بھی اسراف نہیں جب تک حدِ اعتدال سے متجاوز نہ ہو،
قال اللہ تعالٰی
قل من حرم زینۃ اللّٰہ التی اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق ۱؎
اے نبی! تم فرمادو کہ اللہ کی وہ زینت جو اُس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی اور پاکیزہ رزق کس نے حرام کئے ہیں۔(ت)
مگر یہ تاویل کریں کہ حاجت سے ہر بکار آمد بات مراد ہے۔
ف۱: تطفل علی الحلیۃ والبحروش۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم۷ /۳۲)
ثانیا :
شرعیہ ف۲ کی قید بھی مانع جامعیت ہے کہ حاجت دنیویہ میں بھی زیادہ اڑانا اسراف ہے مگر یہ کہ شرعیہ سے مراد مشروعہ لیں یعنی جو حاجت خلافِ شرع نہ ہو تو یہ اُس قول پر مبنی ہوجائے گا جس میں اسراف وتبذیر میں حاجت جائزہ وناجائز ہ سے فرق کیا ہے۔ اگر کہیے ان علماء کا یہ کلام دربارہ وضو ہے اُس میں تو جو زیادت ہوگی حاجت شرعیہ دینیہ ہی سے زائد ہوگی۔
ف۲: تطفل اخر علیہم۔
اقول :
اب مطلقاً حکم ممانعت مسلم نہ ہوگا مثلاً میل چھڑانے یا شدّت گرما میں ٹھنڈ کی نیت سے زیادت کی تو اسراف نہیں کہہ سکتے کہ غرض صحیح جائز میں خرچ ہے۔ شاید اسی لئے علّامہ طحطاوی نے لفظ شرعیہ کم فرما کر اتنا ہی کہا
الاسراف ھو الزیادۃ علی قدر الحاجۃ ۲؎
(ضرورت سے زیادہ خرچ اسراف ہے۔ ت)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۶)
اقول:
مگر یہ تعریف اگر مطلق اسراف کی ہو تو جامعیت میں ایک اور خلل ہوگا کہ قدر حاجت سے زیادت کیلئے وجود حاجت درکار اور جہاں حاجت ہی نہ ہو اسراف اور زائد ہے ہاں حلیہ واتباع کی طرح خاص اسراف فی الوضوء کا بیان ہوتو یہ خلل نہ ہوگا۔
(۶) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ نہایہ ابن اثیر ومجمع بحار الانوار میں ہے: