Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
92 - 135
(۲) حکمِ الٰہی کی حد سے بڑھنا۔ یہ تفسیر ایاس بن معٰویہ بن قرہ تابعی ابن تابعی ابن صحابی کی ہے۔
ابن جریر وابو الشیخ عن سفین عــــہ بن حسین عن ابی بشر قال اطاف الناس بایاس بن معویۃ فقالوا ما السرف قال ماتجاوزت بہ امر اللّٰہ فھو سرف ۱؎۔
ابن جریر اور ابو الشیخ سفیان بن حسین سے راوی ہیں وہ ابو البشر سے، انہوں نے کہا اِیاس بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہوکرلوگوں نے ان سے پوچھا : اسراف کیا ہے ؟ فرمایا جس خرچ میں تم امر الہی سے تجاوز کر جاؤ وہ اسراف ہے ۔ (ت)
عــــہ وقع فی نسخۃ الدرالمنثور المطبوعۃ بمصرسعید بن جبیروھو تصحیف اھ منہ عفی عنہ۔

در منثورمطبوعہ مصر کے نسخہ میں سعید بن جبیر واقع ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ عفی عنہ
( ؎۱ جامع البیان (تفسیرابن جریر ) تحت الآیۃ۶/۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۸ /۷۴ )

(الدرالمنثور بحوالہ ابی الشیخ تحت الآیۃ۶/۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۳۲)
اور اسی کی مثل اہل لغت سے ابن الاعرابی کی تفسیر ہے
کما سیاتی من التفسیر الکبیر
(جیسا کہ تفسیر کبیر سے ذکر آئے گا۔ ت) تعریفات السید میں ہے :
الاسراف تجاوز الحد فی النفقۃ۲؎
(نفقہ میں حد تجاوز کرنا اسراف ہے۔ ت)
(۲؎التعریفات للسیدالشریف     انتشارات ناصر خسرو تہران ایران     ص۱۰)
اقول  :
یہ تفسیر مجمل ہے حکم الٰہی وضو میں کُہنیوں تک ہاتھ، گِٹّوں تک پاؤں دھونا ہے، مگر اس سے تجاوز اسراف نہیں بلکہ نیم بازو ونیم ساق تک بڑھانا مستحب ہے جیسا کہ احادیث سے گزرا تو امر سے مراد تشریع لینی چاہئے یعنی حدِ اجازت سے تجاوز، اور اب یہ تفسیر ایک تفسیر تبذیر کی طرف عود کرے گی۔
(۳) ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرعِ مطہر یا مروّت کے خلاف ہو اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔

طریقہ محمدیہ میں ہے :
الاسراف والتبذیر ملکۃ بذل المال حیث یجب امساکہ بحکم الشرع اوالمرؤۃ بقدر مایمکن وھما فی مخالفۃ الشرع حرامان وفی مخالفۃ المروء ۃ مکروھان تنزیھا ۳؎ اھ
اسراف اور تبذیر:
 اس جگہ مال خرچ کرنے کا ملکہ(نفس کی قوت راسخہ ) جہاں شریعت یا مروت روکنا لازم کرے اور مروت امکانی حد تک پہنچانے کے کام میں نفس کی سچی رغبت کو کہتے ہیں اسراف وتبذیر شریعت کی مخالف میں ہوں تو حرام ہیں اور مروت کی مخالف میں ہوں تومکروہ تنزیہی ہیں اھ
(۳؎طریقہ محمدیہ السابع والعشرون الاسراف والتبذیر مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱ /۱۵و۱۶)
اقول  : وزاد ملکۃ لیجعلھما من منکرات القلب لانہ فی تعدیدھا ومثل الشارح العلامۃ سیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی مخالفۃ المروء ۃ بدفعہ للا جانب والتصدق بہ علیھم وترک الاقارب والجیران المحاویج ۱؎ اھ
اقول:
ان دونوں کو منکرات قلب سے قرار دینے کے لئے لفظ ملکہ کا اضا فہ کر دیا کیونکہ یہاں وہ دل کی برائیاں ہی شمار کرا رہے ہیں ۔اور شارح علامہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے مخالفت مروت کی مثال یہ پیش کی ہے کہ حاجت مندوں قرابت داروں اورہمسایوں کو چھوڑ کر دور والوں کو مال دے اوران پر صدقہ کرے اھ
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ السابع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۸)
اقول  : اخرج الطبرانی فــــ۱ بسند صحیح عن ابی ھریرۃفـــ۲ رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لایقبل اللّٰہ صدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ ویصرفہا الی غیرھم والذی نفسی بیدہ لاینظر اللّٰہ الیہ یوم القیمۃ ۲؎ اھ فھو خلاف الشرع لامجرد خلاف المروء ۃ واللّٰہ تعالی اعلم۔
اقول  :
طبرانی نے بسند صحیح حضرت ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :اے امت محمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا خدااس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے کچھ ایسے قرابت دارہوں جواس کے صلہ کے محتاج ہوں اور وہ دوسروں پرصرف کرتا ہو اس کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے خدا اسکی طرف روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا اھ تو یہ (حاجت مند اقارب کو چھوڑ کر اجانب کو دینا ) صرف مروت ہی کے خلاف نہیں شریعت کے بھی خلاف ہے اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے ۔( ت)
ف۱ تطفل علی المولی النابلسی ۔

ف۲مسئلہ جس کے عزیز محتا ج ہوں اسے منع ہے کہ انہیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے حدیث میں فرمایا ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگا اور اللہ تعالی ٰ روزقیامت اس کی طرف نظرنہ فرمائے گا ۔
(۲؎مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الاقارب دارلکتاب بیروت ۳ /۱۱۷)
Flag Counter