بیہودہ صرف نہ کرو بیشک اللہ تعالٰی بیہودہ صرف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
( ۱؎القرآن الکریم ۶ /۱۴۱و۷ /۳۱)
قال اللہ تعالٰی :
ولا تبذر تبذیراo ان المبذرین کانوا اخوان الشٰیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ۲؎o
مال بیجا نہ اُڑا بیشک بیجا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۱۷ /۲۶، ۲۷)
اقول :
اسراف فــ کی تفسیر میں کلمات متعدد وجہ پر آئے:
فــ:اسراف کے معنی کی تفصیل وتحقیق۔
(۱) غیر حق میں صرف کرنا۔ یہ تفسیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمائی۔
الفریابی وسعید بن منصور وابو بکر بن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد وابنا جریر والمنذر وابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ والبیھقی فی شعب الایمان واللفظ لابن جریر کلھم عنہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی قولہ تعالی
"ولا تبذر تبذیرا "
قال التبذیر فی غیر الحق وھو الاسراف ۳؎۔
فریابی ، سعید بن منصور، ابو بکر بن ابی شیبہ ادب المفرد میں،بخاری ، ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم بافادہ تصحیح، شعب الایمان میں بیہقی اور ا لفاظ ابن جریر کے ہیں۔ یہ سب حضرات عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ارشاد باری تعالٰی
'' ولا تبذر تبذیرا''
کے تحت راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا تبذیر غیرحق میں صرف کرنا اور یہی اسراف بھی ہے۔ (ت)
(۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ ۱۷/ ۲۶ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۵ )
اور اسی کے قریب ہے وہ کہ تاج العروس میں بعض سے نقل کیا :
وضع الشیئ فی غیر موضعہ ۱؎
یعنی بیجا خرچ کرنا۔
( ۱؎تاج العروس باب الفا فصل السین دار احیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۱۳۸)
ابن ابی حاتم نے امام مجاہد تلمیذ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی:
لوانفقت مثل ابی قبیس ذھبا فی طاعۃ اللّٰہ لم یکن اسرا فاولو انفقت صاعا فی معصیۃ اللّٰہ کان اسرافا ۲؎۔
اگر تو پہاڑ برابر سونا طاعت الہی میں خرچ کردے تو اسراف نہیں اور اگر ایک صاع جو گناہ میں خرچ کرے تو اسراف ہے۔
(۲؎ تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶ /۱۴۱ مطبع نزا رمصطفی الباز مکۃ المکرمہ)
(مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ /۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ /۱۷۶)
کسی نے حاتم کی کثرت داد ودہش پر کہا: لا خیر فی سرف اسراف میں خیر نہیں۔ اُس نے جواب دیا:
لاسرف فی خیر ۳؎
خیر میں اسراف نہیں۔
(۳؎مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ /۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ /۱۷۶)
اقول :
حاتم کا مقصود تو خدا نہ تھا نام تھا
کمانص علیہ فی الحدیث
(جیسا کہ حدیث میں نص وارد ہے۔ ت) تو اس کی ساری داد ودہش اسراف ہی تھی مگر سخائے خیر میں بھی شرع مطہر فــ اعتدال کا حکم فرماتی ہے۔
فــ:مصارف خیر میں اعتدال چاہیے یا اپنا کل مال یک لخت راہ خدا میں دے دینے کی بھی اجازت ہے اس کی تحقیق ۔
قال اللّٰہ تعالی :
ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا ۴؎o
باری تعالی کا ارشادہے اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا نہ رکھ اورنہ پور اکھول دے کہ تو بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا ۔( ت)
( ۴؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۱۹)
وقال تعالٰی:
والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقترو اوکان بین ذلک قواما ۱؎ o
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ (ت)
( ۱؎القرآن الکریم۲۵ /۶۷)
آیہ کریمہ
واٰتوا حقہ یوم حصادہ ولا تسرفوا ۲؎
(اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو۔ت)کی شانِ نزول میں ثابت عــــہ بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قصہ معلوم ومعروف ہے۔
رواھا ابن جریر وابن ۳؎ابی حاتم عن ابن جریج۔
( ۲ ؎القرآن الکریم ۶ /۱۴۱)
(۳؎الدر المنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶/۱۴۱ دارا حیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۳۱)
(جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ۶/۱۴۱ دار احیا ء التراث العربی بیروت۸ /۷۴ )
عـــہ: نیز ایک صاحب انڈے برابر سونا لے کر حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک کان میں سے پایا میں اسے تصدق کرتا ہوں اس کے سوا میری ملک میں کچھ نہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا، انہوں نے پھر عرض کی، پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی، حضور نے وہ سونا ان سے لے کر ایسا پھینکا کہ اگر ان کے لگتا تو درد پہنچاتا یا زخمی کرتا اور فرمایا تم میں ایک شخص اپنا پورا مال لاتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر بیٹھا لوگوں سے بھیک مانگے گا خیر الصدقۃ ماکان عن ظھر غنی۔ بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے رواہ ابو داؤد۴؎ وغیرہ عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (اس کو ابو داؤد وغیرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ت) (منہ)
(۴؎سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ باب الرجل یخرج من مالہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ /۳۶،۲۳۵)
اُدھر صحاح کی حدیث جلیل ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدق کا حکم فرمایا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ خوش ہوئے کہ اگر میں کبھی ابو بکر صدّیق پر سبقت لے جاؤں گا تو وہ یہی بار ہے کہ میرے پاس مال بسیا رہے اپنے جملہ اموال سے نصف حاضرِ خدمت اقدس لائے۔ حضور نے فرمایا: اہل وعیال کیلئے کیا رکھا؟ عرض کی اتنا ہی۔ اتنے میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ حاضر ہوئے اور کل مال حاضر لائے گھر میں کچھ نہ چھوڑا۔ ارشاد ہوا: اہل وعیال کیلئے کیا رکھا؟ عرض کی: اللہ اور اس کا رسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس پر حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں میں وہی فرق ہے جو تمہارے ان جوابوں میں۔
اور تحقیق یہ ہے کہ عام کیلئے وہی حکم میانہ روی ہے اور صدق عـــہ توکل وکمال تبتُّل والوں کی شان بڑی ہے۔
عــــہ : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا:
انفق بلالا ولا تخشی من ذی العرش اقلالا ۔رواہ البزار عن بلال وابو یعلی والطبرانی فی الکبیر۱؎
والاوسط والبیہقی فی شعب الایمان عن ابی ہریرۃوالطبرانی فی الکبیرکالبزارعن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہم باسانید حسان۔
اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالک سے کمی کا اندیشہ نہ کر۔( بزاز نے حضرت بلال سے اور ابو یعلی اور طبرانی نے کبیر میں ،اور اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ سے ،اور طبرانی نے کبیر میں، جبکہ بزاز نے ا بن مسعود رضی اللہ عنہم سے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا۔ت)
اس حدیث کا موردیوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خرمنِ خرمہ ملاحظہ فرمایا، ارشاد ہوا:بلال ! یہ کیا ہے؟ عرض کی: حضورکے مہمانوں کیلئے رکھ چھوڑاہے۔ فرمایا :
اما تخشی ان یکون لک دخان فی نار جہنم ۲؎
کیا ڈرتا نہیں کہ اس کے سبب آتشِ دوزخ میں تیرے لئے دُھواں ہو، خرچ کر، اے بلال !اور عرش کے مالک سے کمی کا خوف نہ کر۔ بلکہ خود انہی بلال سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: اے بلال! فقیر مرنا اور غنی نہ مرنا۔ عرض کی اس کیلئے کیا طریقہ برتوں ؟ فرمایا:
مارزقت فلاتخباء وما سئلت فلا تمنع
جو تجھے ملے اُسے نہ چُھپا اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے انکار نہ کر۔ عرض کی یا رسول اللہ! یہ میں کیونکر کرسکوں۔ فرمایا :
اگر کہیے ان پر تاکید اس لئے تھی کہ وہ اصحابِ صُفّہ سے تھے اور ان حضرات کرام کا عہد تھا کہ کچھ پاس نہ رکھیں گے۔
اقول :
(میں کہتا ہوں) ہاں، اور ہم بھی نہیں کہتے کہ ایسا کرنا ہر ایک پر لازم ہے مگر ان حضرات پر اس کے لازم فرمانے ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کام فی نفسہٖ محمود ہے اور ہر صادق التوکل کو اس کی اجازت ، ورنہ ان کو بھی منع کیا جاتاجیسے ایک صاحب نے عمر بھر رات کو نہ سونے کا عہد کیا اور ایک نے عمر بھر روزے رکھنے کا، ایک نے کبھی نکاح نہ کرنے کا۔ اس پر ناراضی فرمائی، اور ارشاد ہوا :میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور شب کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور نکاح کرتا ہوں
فمن رغب عن سنتی فلیس منی
تو جو میری سنّت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں،رواہ عن حضرت انس رضی اللہ عنہ ۲؎ ۔
(۲؎صحیح البخاری کتاب النکاح ۲ /۷۵۷ و صحیح مسلم کتاب النکاح ۱ /۴۴۹)
ایک شخص نے پیادہ حج کرنے کی منّت مانی، ضُعف سے دو۲ آدمیوں پر تکیہ دیے کر چل رہا تھا، اُسے سوار ہونے کا حکم دیا اور فرمایا :
ان اللہ تعالٰی عن تعذیب ھذانفسہ لغنی ۔ رویاہ۳؎ عنہ رضی اللہ عنہ ۱۲منہ
اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔( اس کوشیخین نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔۲۱منہ۔ت)
(۳؎صحیح البخاری ابواب العمرۃ ۱ /۲۵۱ وصحیح مسلم کتاب النذر۲/ ۴۵ قدیمی کتب خانہ کراچی )