Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
90 - 135
ثانیا اقول  :
اگر مکرو ہ فــ۱ تنزیہی شرعاً حقیقۃً منہی عنہ ہوتا واجب الاحتراز ہوتا
لقولہ تعالی وما نھٰکم عنہ فانتھوا۱؎
(کیونکہ باری تعالی ٰ کا ارشاد ہے اورتمہیں جس چیز سے روکیں اس سے باز آجاؤ۔)تو مکروہ تنزیہی نہ رہتا بلکہ حرام یا تحریمی ہوتا اور ہم نے اپنے رسالہ جمل مجلیۃ ان المکروہ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیۃ میں دلائل قاہرہ قائم کئے ہیں کہ وہ ہرگز شرعاً منہی عنہ نہیں۔
فــ۱:معروضۃ سابعۃعلیہ۔
(۱؎القرآن الکریم ۵۹ /۷)
ثالثا  :
خود علّامہ فــ۲ شامی کو جابجا اس کا اعتراف ہے کلام حلیہ
الظاھر ان السنۃ فعل المغرب فورا وبعدہ مباح الی اشتباک النجوم
(ظاہر یہ ہے کہ مغرب کی ادائیگی فوراً مسنون اوراسکے بعدستاروں کے باہم مل جانے تک مباح ہے ۔ ت) نقل کرکے فرمایا :
الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینافی کراھۃ التنزیہ ۲؎۔
ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے مباح سے وہ مراد لیا ہے جو ممنوع نہ ہو تویہ مکروہ مکروہ تنزیہی ہونے کے منافی نہیں ۔( ت)
فــ۲:معروضۃثامنۃ علیہ ۔
(۲؎ رد المحتار کتاب الصلوۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۴۶)
آخر کتاب الاشربہ میں سید علاّمہ ابو السعود سے نقل کیا:
المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ ۳؎ اھ
(مکروہ تنز یہی مباح کے ساتھ جمع ہوتا ہے۔ ت)
(۳؎رد المحتار کتاب الاشربہ     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۹۶)
 رابعا وخامسا اقول فــ۳ :
عجب تریہ کہ صدر حظر میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماع بتایا کہ مکروہ تنزیہی ممنوع نہیں۔
فــ۳ معروضۃ تاسعۃ علیہ۔
ثم ادعی فــ۴ تبعا لزلۃ وقعت فی التلویح واقمنا فی رسالتنا بسط الیدین الدلائل الساطعۃ علی بطلانھا ونقلنا مائۃ نص من ائمتنا وکتب مذھبنا متونا وشروحا وفتاوی منھا کتب نفس الشامی کردالمحتار ونسمات الاسحار علی خلافھا ان المکروہ تحریما ایضا غیر ممنوع عند الشیخین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما وسبحن اللّٰہ ای ا عجب اعجب منھذا ان یکون المکروہ تنزیھا منھیا عنہ والمکروہ تحریما غیر ممنوع۔
پھر تلویح میں واقع ہونے والی ایک لغزش کی تبعیت میں یہ دعوی کر دیا کہ شیخین (امام اعظم وامام ابو یوسف ) رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک مکروہ تحریمی بھی ممنوع نہیں خداہی کے لئے پاکی ہے اس سے زیادہ عجیب کون سا عجب ہوگا کہ مکروہ تنزیہی تو منہی عنہ ہو اور مکروہ تحریمی ممنوع نہ ہو ہم نے اس کے بطلان پر اپنے رسالہ بسط الیدین میں روشن دلائل قائم کیے ہیں اوراسکے خلاف سو ۱۰۰نصوص اپنے آئمہ اور اپنے مذہب کی کتب متون وشروح وفتاوی سے نقل کیے ہیں جن میں خودعلامہ شامی کی کتابیں رد المحتا ر،نسمات الاسحار وغیرہ بھی ہیں۔(ت)
فــ۴:معروضۃ عاشر ۃ علیہ ۔
سادسا :
عجب تر یہ کہ جب شارح نے جواہر سے آب جاری میں اسراف جائز ہونا نقل فرمایا علامہ محشی نے قول کراہت کے خلاف دیکھ کر اس کی یہ تاویل فرمائی کہ جائز سے مراد غیر ممنوع ہے۔
ففی الحلیۃ عن اصول ابن الحاجب انہ قدیطلق ویراد بہ مالایمتنع شرعا وھو یشمل المباح والمکروہ والمندوب والواجب ۱؎۔
کیونکہ حلیہ میں اصول ابن حاجب سے نقل ہے کہ کبھی جائز بولا جاتا ہے اوراس سے وہ مراد ہوتا ہے جو شرعا ممنوع نہ ہویہ مباح، مکروہ، مندوب اور واجب سب کو شامل ہے۔(ت) یعنی اب کراہت کے خلاف نہ ہوگا مکروہ تنزیہی بھی شرعاً ممنوع نہیں۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول فــ۱ :یہ ایک تو اُس دعوے کا رد ہوگیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃً منہی عنہ ہے۔
فـــ۱: المعروضۃ الحادیۃ عشرۃعلیہ ۔
سابعا فــ۲ :
اصل تحقیق علّامہ محشی کے خلاف خود قول صاحب نہر کی تسلیم ہوگئی خود علامہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ کتب میں مفہوم مخالف معتبر ہے جب عبارت جواہر کے معنے یہ ٹھہرے کہ جاری پانی میں ممنوع نہیں صرف مکروہ تنزیہی ہے تو صاف مستفاد ہوا کہ آب غیر جاری میں ممنوع ومکروہ تحریمی ہے اور یہی مدعائے صاحبِ نہر تھا بالجملہ نہر کی کسی دلیل کا جواب نہ ہوا۔ رہا یہ کہ پھر آخر حکم منقح کیا ہے اس کیلئے اولا تحقیق معنی اسراف کی طرف عود کریں پھر تنقیح حکم وباللہ التوفیق۔
ف۲: المعروضۃا لثانیۃ عشرۃ علیہ۔
Flag Counter