Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
89 - 135
ثم ف العجب انی رأیت العلامۃ نفسہ قدصرح بھذا فی سنن الوضوء فقال'' لایخفی ان التثلیث حیث کان سنۃ مؤکدۃ واصر علی ترکہ یاثم وان کان یعتقدہ سنۃ واما حملھم الوعید فی الحدیث علی عدم رؤیۃ الثلث سنۃ کما یاتی فذلک فی الترک ولو مرۃ بدلیل ماقلنا (قال) وبہ اندفع مافی البحر من ترجیح القول بعدم الاثم لواقتصر علی مرۃ بانہ لواثم بنفس الترک لما احتج الی ھذا الحمل اھ واقرہ فی النھر وغیرہ وذلک لانہ مع عدم الاصرار محتاج الیہ فتدبر ۱؎ اھ
پھر حیرت یہ ہے کہ میں نے دیکھا علامہ شامی نے سنن وضو کے باب میں خود اس کی تصریح کی ہے وہ لکھتے ہیں مخفی نہیں کہ تین بار دھونا جب بھی ہو سنت مؤکدہ ہے اور جو اس کے تر ک پر اصرار کرے گناہ گار ہے اگرچہ اس کے سنت ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو۔اور علماء کا وعید حدیث کو تثلیث کے سنت نہ ماننے پرمحمول کر نا جیسا کہ آرہا ہے یہ تو ایک بار تر ک کرنے میں بھی ہے جس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے بیان کی ۔۔۔۔آگے لکھا :اسی سے وہ دفع ہو جاتا ہے جو بحر میں صرف ایک با ر ترک تثلیث سے گناہگار نہ ہونے کے قول کو یہ کہہ کر ترجیح دی ہے کہ اگر نفس ترک سے گنا ہ گار ہوجاتا تو حدیث کی یہ تعبیر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی ا ھ اس کلام کو نہر وغیرہ میں برقرار رکھا ہے یہ کلام دفع یوں ہوجاتا ہے کہ عدم اصرار کے باوجود تاویل حدیث کی ضرورت ہے تو اس پر غور کرو ا ھ۔
ف:معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     سنن الوضو     داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۰،۸۱)
وقال بعیدہ صریح مافی البدائع انہ لاکراھۃ فی الزیادۃ والنقصان مع اعتقاد سنیۃ الثلٰث وھو مخالف لمامر من انہ لواکتفی بمرۃ واعتادہ اثم ولما سیاتی ان الاسراف مکروہ تحریما ولھذا فرع فی الفتح وغیرہ علی القول بحمل الوعید علی الاعتقاد بقولہ فلوزاد لقصد الوضوء علی الوضوء اولطمانیۃ القلب عند الشک اونقص لحاجۃ لاباس بہ فان مفاد ھذا التفریع انہ لو زاد اونقص بلا غرض صحیح یکرہ وان اعتقد سنیۃ الثلث، وبہ صرح فی الحلیۃ فیحتاج الی التوفیق بین مافی البدائع وغیرہ ویمکن التوفیق بما قدمنا انہ اذا فعل ذلک مرۃ لایکرہ مالم یعتقدہ سنۃ وان اعتادہ یکرہ وان اعتقد سنیت الثلث الا اذا کان لغرض صحیح ۱؎ اھ ولکن سبحن من لاینسی۔
اس کے کچھ آگے لکھاہے بدائع کی تصریح یہ ہے کہ تثلیث کو سنت مانتے ہوئے کم وبیش کر دینے میں کوئی کراہت نہیں ہے، اور یہ اس کے مخالف ہے جو بیان ہوا کہ اگرایک بار دھونے پر اکتفاء کرے اور اس کا عادی ہو تو گنہگار ہو گا اور اس کے بھی خلاف ہے جو آگے آرہا ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اور اسی لئے فتح القدیر وغیرہ میں وعید کو اعتقاد پر محمو ل کرنے کے قول پر یہ تفریع کی ہے کہ اگر وضوپر وضو کے ارادے سے یا شک کی حالت میں اطمینان قلب کے لئے زیادتی کی یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں کیوں کہ اس تفریع کامفاد یہ ہے کہ اگر کسی غرض صحیح کے بغیر کمی بیشی کی تومکروہ ہے اگرچہ تثلیث کے مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور حلیہ میں اسکی تصریح کی ہے۔توبدا ئع اوردوسری کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تطبیق دینے کی ضرورت ہے اوریہ تطبیق اس کلام سے ہو سکتی ہے جو ہم نے پہلے تحریر کیا کہ جب ایک بار ایسا کرے تو مکروہ نہیں جبکہ اسے سنت نہ سمجھے اور اگر اس کا عادی ہوتو مکروہ ہے اگر چہ تثلیث کو سنت مانے مگر جب کسی غرض صحیح کے تحت ہو اھ۔لیکن پاک ہے وہ جسے نسیان نہیں ۔
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     سنن الوضو     داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۱،۸۲)
اقول :
وانت تعلم ان الکراھیۃ المنفیۃ فیما اذا نقص مرۃ ھی التحریمیۃ کما قدمنا لان ترک السنۃ المؤکدۃ مرۃ واحدۃ ایضا مکروہ ولولم یکن تحریما وعلی التعود یحمل التفریع المذکور فی الفتح والکافی والبحر وعامۃ الکتب فان نفی الباس یستعمل فی کراھۃ التنزیہ کما نصوا علیہ فاثباتہ المستفاد ھھنا بالمفھوم المخالف یفید کراھۃ التحریم۔
اقول  :
ناظر کومعلوم ہے کہ کبھی ایک بارکمی کردینے پر کراہت کی جو نفی کی گئی ہے اس سے کراہت تحریم مراد ہے جیساکہ ہم نے سابقا بیان کیا اسلئے کہ سنت مؤکدہ کا ایک بار بھی ترک مکروہ ہے اگرچہ مکروہ تحریمی نہ ہو اور عادت ہونے کی صورت پر وہ تفریع محمول ہوگی جو فتح ،کافی ، بحر میں مذکور ہے اس لئے کہ'' لابأس بہ'' (اس میں حرج نہیں ) کراہت تنزیہ میں استعمال ہوتاہے جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح کی تو''بأس''(حرج ) جو یہاں مفہوم مخالف سے مستفادہے وہ کراہت تحریم کا افادہ کررہا ہے۔
ھذا الکلام معہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی بما قرر نفسہ وعند العبد الضعیف منشؤ اخر لحمل العلماء الحدیث علی الاعتقاد کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
یہ علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی کے ساتھ خود انہی کی تقریر وتحریر سے کلام ہوا اور بندہ ضعیف کے نزدیک حدیث کو اعتقاد پر محمول کیے جانے کامنشا دوسرا ہے جیساکہ آ ۤگے ان شاء اللہ تعالٰی ذکرہوگا۔
سوم سے یہ جواب دیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃً اصطلاحا منہی عنہ ہے اگرچہ لغتا اسے منہی عنہ کہنا مجاز ہے کما فی التحریر (ت)
اقول ف ۱اولا :
رحمہ اللہ تعالی العلامۃ یہاں تحریرمیں اصطلاح سے امام محقق علی الاطلاق کی مراداصطلاح نحویاں ہے نہ کہ اصطلاح شرح یا فقہ یعنی جب کہ مکروہ تنزیہی میں صیغہ نہی اور بعض مندوبات میں صیغہ امرہوتا ہے اور نحوی صیغہ ہی کودیکھتے ہیں اختلاف معانی سے انہیں بحث نہیں کہ یہاں فعل یا ترک طلب حتمی ہے یا غیر حتمی تو ان کی اصطلاح میں حقیقۃ مندوب مامور بہ ہوگا اور مکروہ تنزیہی منہی عنہ مگرلغۃ ف۲ ان کو مامور بہ اور منہی عنہ کہنا مجاز ہے کہ لغت میں ما مور بہ واجب اور منہی عنہ نا جائز سے خاص ہے اوریہی عرف شرع واصطلاح فقہ ہے تو نحویوں کے طور پر لا تفعل کا صیغہ ہونے سے فقہاکیوں کر منہیات میں داخل ہونے لگا تحریر کی عبارت محل مذکور سابقاملخصا یہ ہے
ف۱:معروضۃ ثالثہ علیہ ۔

ف۲:مکروہ تنزیہی لغتا و شرعا منہی عنہ نہیں اگرچہ نحویوں کے طور اس میں صیغہ نہی ہو ۔
مسئلۃ   : اختلف فی لفظ المامور بہ فی المندوب قیل عن المحققین حقیقۃ والحنفیۃ وجمع من الشافعیۃ مجاز ویجب کون مراد المثبت ان الصیغۃ فی الندب یطلق علیھا لفظ امر حقیقۃ بناء علی عرف النحاۃ فی ان الامر للصیغۃ المقابلۃ للماضی واخیہ مستعملۃ فی الایجاب اوغیرہ فالمندوب مامور بہ حقیقۃ والنافی علی ماثبت ان الامر خاص فی الوجوب والاول (ای نفی الحقیقۃ) اوجہ لابتنائہ علی الثابت لغۃ وابتناء الاول علی الاصطلاح (للنحویین) ومثل ھذہ المکروہ (تنزیھا) منھی (عنہ) اصطلاحا (نحویا) حقیقۃً مجاز لغۃ (لان النھی فی الاصطلاح یقال علی لاتفعل استعلاء سواء کان للمنع الحتم اولا اما فی اللغۃ فیمتنع ان یقال حقیقۃ نہی عن کذا الا اذا منع منہ ) ۱؎اھ مزیدا مابین الاھلۃ من شرحہ التقریر والتحبیرلتلمیذہ المحقق ابن امیر الحاج رحمھما اللّٰہ تعالٰی۔
مندوب کے بارے میں لفظ ماموبہ کے بارے میں اختلاف ہے کہا گیا کہ محققین سے منقول ہے کہ وہ حقیقۃ مامور بہ ہے.اورحنفیہ اورایک جماعت شافعیہ سے منقول ہے کہ مجازاًہے۔ ضروری ہے کہ مثبت کی مرادیہ ہوکہ ندب میں جو صیغہ ہوتا ہے اس پر لفظ امر حقیقتاًبولا جاتا ہے اس بنیاد پر کہ نحویوں کاعرف یہ ہے کہ امر اس صیغہ کو کہتے ہیں جو ماضی ومضارع کے مقابلے میں ہوتاہے یہ ایجاب یا غیرایجاب میں استعمال ہوتا ہے تو مندوب بہ حقیقۃ ما مور بہ اور نافی اس پر ہے جو ثابت ہوا کہ امر وجوب میں خاص ہے اوراول ( یعنی نفی حقیقت) اوجہ ہے اسلئے کہ وہ اس پر مبنی ہے جو لغتا ثابت ہے اور پہلے کی بنیاد (نحویوں کی )اصطلاح پر ہے اوراسی کی طرح مکروہ(تنزیہی )بھی(نحوی)اصطلاح میں حقیقتا منہی عنہ ہے اور لغت میں مجازااس لئے کہ اصطلاح میں نہی کا اطلاق بطور استعلاء''لاتفعل''(مت کر) پرہوتا ہے خواہ منع حتمی ہو یا نہ ہولیکن لغت میں حقیقتا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں کام سے نہی کی مگراسی وقت جب کہ اس سے اسی وقت منع کردیا ہو۔ اھ ہلالین کے درمیان اضافہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد (یعنی محقق ابن امیر الحاج) کی شرح التقریروالتحبیرسے ہیں۔
(۱؎التحریر فی اصول الفقہ       المقالۃ الثانیۃ       الباب الاول مصطفٰی البابی مصر     ص۲۵۵تا۲۵۷ )

(التقریر والتحبیر      المقالۃ الثانیۃ      الباب الاول      دار الفکر بیروت        ۲ /۱۹۱۔۱۹۰)
Flag Counter