Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
88 - 135
تنبیہ  ۵ :
جبکہ علّامہ عمر نے کراہت تحریم کا استظہار کیا علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں تو اُن کا کلام مقرر رکھا مگر ردالمحتار میں رائے جانب کراہت تنزیہ گئی لہٰذا دلائل تحریم کا جواب دینا چاہا۔ علامہ عمر نے تین دلیلیں پیش فرمائی تھیں:

(۱) کلامِ امام زیلعی میں کراہت کو مطلق رکھنا۔

(۲) اسراف سے نہی کی حدیثوں کا مطلق یعنی بے قرینہ صارفہ ہونا۔

(۳) منتقٰی میں اُسے منہیات سے گننا۔

علّامہ شامی نے اول کا یہ جواب دیا کہ مطلق کراہت ہمیشہ تحریم پر محمول نہیں
کما ذکرنا انفا ۲؎اھ
جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا اھ
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     مکروہات الوضو         داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۰)
واشاربہ الی ماقدمہ قبل ھذا بصفحۃ عن البحران المکروہ نوعان احدھما ماکرہ تحریما وھو المحمل عند اطلاقھم الکراھۃ کما فی زکاۃ فتح القدیر ثانیھما المکروہ تنزیھا وکثیرا مایطلقونہ کما شرح المنیۃ۔۱؎
 (ردالمحتار) اس سے ان کا اشارہ اس کلام کی طرف ہے جو اس سے ایک صفحہ پہلے بحر کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ مکروہ کی دو قسمیں ہیں ایک مکروہ تحریمی۔۔۔یہی مطلق کراہت بولنے کے وقت مراد ہوتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں کتاب الزکوٰۃ میں ہے۔۔۔ اور دوسری قسم مکروہ تنزیہی۔۔۔۔ اوربار ہا اسے بھی مطلق بولتے ہیں جیسا کہ منیہ کی شرح میں ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     مکروہات الوضو         داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۹)
اقول ف۱:
اس میں کلام نہیں کہ فقہا ء بارہا ف۲ کراہت مطلق بولتے اور اُس سے خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی وتحریمی دونوں کو عام مراد لیتے ہیں مگر یہ وہاں ہے کہ ارادہ کراہت تحریم سے کوئی صارف موجود ہو مثلاً دلیل سے ثابت یا خارج سے معلوم ہو کہ جسے یہاں مطلق مکروہ کہا مکروہ تحریمی نہیں یا جو افعال یہاں گنے اُن میں مکروہ تنزیہی بھی ہیں
کما یفعلونہ فی مکروھات الصلاۃ
(جیسے مکروہات نماز میں ایسا کرتے۔ ت) بے قیام دلیل ہمارے مذہب میں اصل وہی ارادہ کراہت تحریم ہے
کما مرعن نص المحقق علی الاطلاق وکتب المذ ھب طافحۃ بذلک
(جیسا کہ نص محقق علی الاطلاق کی تصریح گزری اور کتب مذہب اس کے بیان سے لبریز ہیں۔ ت) تو کراہت تنزیہ کی طرف پھیرنا ہی محتاج دلیل ہے ورنہ استدلال نہر تام ہے اب یہ جواب دلیل دوم کی جواب سے محتاج تکمیل ہوا اور اُسی کی تضعیف بھی جلوہ نما۔دوم سے یہ جواب دیا کہ صارف موجود ہے مثلاً جس نے آبِ نہر سے وضو میں اسراف کیا اگر اُسے سنت نہ جانا تو ایسا ہوا کہ نہر سے کوئی برتن بھر کر اُسی میں اُلٹ دیا اس میں کیا محذور ہے سوا اس کے کہ ایک عبث بات ہے۔
ف۱:معروضۃ علی العلامۃ ش۔
ف۲:اگر فقہا خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی و تحریمی دونوں سے عام پر اطلاق کراہت فرماتے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ اس کے مطلق سے مراد کرا ہت تحریمی ہے جب تک دلیل سے اسکا خلاف نہ ثابت ہو ۔
اقول ف۳ :
اس کا مبنٰی اُسی خیال پر ہے کہ علّامہ نے قول اول وچہارم کو ایک سمجھا ہے ورنہ قول چہارم میں لب نہراسراف کی تحریم کہاں اور ماورا میں کہ پانی کی اضاعت ہے صارف کیا۔
ف۳:معروضۃ اخری علیہ ۔
وقد قدمنا مایکفی ویشفی ومنہ ف۴ تعلم مافی تعبیرہ بالوضوء بماء النھر اما استنادہ الی ان حدیث فمن زاد علی ھذا ونقص فقد تعدی وظلم محمول علی الاعتقاد عندنا کما فی الھدایۃ وغیرھا قال فی البدائع انہ الصحیح حتی لوزاد اونقص واعتقد ان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید قال وقدمنا انہ صریح فی عدم کراھۃ ذلک یعنی کراھۃ تحریم ۱؎ اھ
اس پر ہم کافی وشافی بحث کر چکے ہیں ۔ اسی سے وہ نقطہ بھی معلوم ہوم جاتا ہے جو ''وضو بماء النہر ''سے تعبیر میں ہے رہاان کایہ اسناد کہ حدیث ''جس نے اس پر زیادتی یا کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز اور ظلم کیا ''ہمارے نزدیک اعتقاد پر محمول ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اور بدائع میں فرمایا کہ یہی صحیح ہے یہاں تک کہ اگر کمی بیشی کی اور اعتقاد یہ ہے کہ تین بار دھونا ہی سنت ہے تو وعید اس سے لاحق نہ ہوگی۔علامہ شامی نے کہا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ ا س میں کراہت یعنی کراہت تحریم نہیں اھ۔
ف۴: معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     مکروہات الوضو         داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۰)
فاقول  : لایفید فـــ ماقصدہ من قصر الحکم علی کراھۃ التنزیہ مطلقا مالم یعتقد خلاف السنۃ کیف ولو کان ترک الاسراف سنۃ مؤکدۃ کما یقولہ النھر کان تعودہ مکروھا تحریما ووقوعہ احیانا تنزیھا والحدیث حاکم علی من زاد مطلقا ای ولو مرۃ بانہ ظالم فلزم تاویلہ بما یجعل الزیادۃ ممنوعۃ مطلقا فحملوہ علی ذلک فمن زاد اونقص مرۃ ولم یعتقد لم یلحقہ الوعید ،الا تری انھم ھم الناصون بان من غسل الاعضاء مرۃ ان اعتاد اثم کما قدمناہ عن الدر ومعناہ عن الخلاصۃ وقد صرح بہ فی الحلیۃ وغیرما کتاب ۔
فاقول :
اس سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو ان کامقصد ہے کہ اسراف بہرحال مکروہ تنزیہی ہے جب تک مخالف سنت کا اعتقاد نہ ہو ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟اگر ترک اسراف سنت مؤکدہ ہے۔ جیساکہ صاحب نہر اس کے قائل ہیں تو اس کی عادت بنا لینا مکروہ تحریمی ، اور احیانا ہونا مکروہ تنزیہی ہوگا اور حدیث یہ حکم کرتی ہے کہ مطلقاجو زیادتی کرے خواہ ایک ہی بار وہ ظالم ہے تو اس کی تاویل اس امر سے ضروری ہوئی جوزیادتی کو مطلقا ممنوع قرار دے دے اس لیے علما  نے اسے اس معنٰی پر محمول کیا ۔۔۔اب جو ایک بار زیاتی یا کمی کرے اور مخالفت کا اعتقاد نہ رکھے تو وعید اسے شامل نہ ہوگی کیا یہ پیش نظر نہیں کہ علما ء اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ جو اعضا ء ایک بار دھوئے اگر اس کا عادی ہوتو گناہ گارجیسا کہ درمختار کے حوالے سے ہم نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی خلاصہ سے نقل کیا اور اس کی تصریح حلیہ وغیرہامتعدد کتابوں میں موجود ہے۔
ف: معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
Flag Counter