ردالمحتار سُنن صلاۃ میں نہرالفائق سے بحوالہ کشف کبیر کلام امام ابی الیسر نقل کرکے فرمایا:
فی شرح التحریر المراد الترک بلا عذر علی سبیل الاصرار وفی شرح الکیدانیۃ عن الکشف قال محمد فی المصرین علی ترک السنۃ بالقتال وابو یوسف بالتادیب اھ فیتعین حمل الترک علی الاصرار توفیقا بین کلامھم ۱؎۔
شرح تحریر میں ہے کہ ترک سے مراد بلا عذر ترک بطور اصرار ترک کرنا اور شرح کیدانیہ میں کشف سے ہے امام محمد نے ترک سنت پر قتال کااور امام ابو یوسف نے تادیب کا حکم دیا اھ متین ہے کہ ترک کو اصرار پر محمول کیا جائے تاکہ ان حضرات کے کلام میں تطبیق ہوجائے (ت)
(۱؎رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۱۹)
اُسی میں ہے:
کونہ سنۃ مؤکدۃ لایستلزم الا ثم بترکہ مرۃ واحدۃ بلا عذر فیتعین تقیید الترک بالاعتیاد ۲؎۔
اُس کا سنّت مؤکدہ ہونا اسے مستلزم نہیں بلا عذر ایک بار ترک سے بھی گناہ گار ہوجائے گاتو متعین ہے کہ ترک کے ساتھ عادت کی قید لگائی جائے۔ (ت)
(۲؎رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۱۹)
اُسی کے ف۱ سنن وضؤ میں دربارہ نیت ہے :
یاثم بترکہا اثما یسیرا کما قدمنا عن الکشف والمراد الترک بلا عذر علی سبیل الاصرار کما قدمنا عن شرح التحریر وذلک لانھا سنۃ مؤکدۃ کما حققہ فی الفتح ۳؎۔
نیت وضو کے ترک سے کچھ گناہ گار ہوگا جیسا کہ کشف کے حوالے سے ہم نے سابقا نقل کیا اور مراد یہ ہے کہ بلاعذر بطور اصرار ترک کرے جیساکہ شرح التحریر کے حوالے سے ہم نے پہلے لکھا یہ اس لئے جیساکہ فتح القدیر میں تحقیق کی کہ وضومیں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔( ت)
ف ۱ :مسئلہ وضومیں نیت نہ کرنے کی عادت سے گناہ گار ہو گا اس میں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔
(۳؎رد المحتار کتاب االطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۷۳)
فتح القدیر میں ہے :
حکی فی الخلاصۃ خلافافی ترکہ (ای ترک رفع الیدین عند التحریمۃ) قیل یاثم وقیل لاقال والمختار ان اعتادہ اثم لاان کان احیانا انتھی وینبغی ان نجعل شقی ھذا القول محمل القولین فلا اختلاف ولا اثم لنفس الترک بل لان اعتیادہ للاستخفاف والا فمشکل اویکون واجبا ۱؎۔
خلاصہ میں اس کے ترک پر اختلاف منقول ہے (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع بدین کے ترک پر) ایک قول ہے گنہگار ہوگا اور ایک ہے کہ نہیں ہوگا، اور مختار یہ ہے کہ اگر عادت بنالی ہے تو گنہگار ہوگا۔ اگر احیانا ہو تو نہ ہوگا انتہی اور مناسب ہے کہ اس قول کی دونوں شقوں کو دونوں قولوں کا محمل بنا لیا جائے تو نہ تو اختلاف ہوگا اور نہ ہی گناہ ہوگا نفس ترک میں، بلکہ صرف عادت بنالینے کی صورت میں ہوگا کہ اس میں استخفاف کا پہلو نکلتا ہے ورنہ مشکل ہے، یا پھر وہ چیز واجب ہو۔ (ت)
( ۱؎فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲)
جماعت مردوں کیلئے سنت مؤکدہ ہے، اور کہا گیاواجب ہے، اور عامہ علماء اور ثمرہ اختلاف ایک بار ترک سے گنا ہگار ہونے سے حکم میں ظاہر ہو گا ۔(ت)
( ۲ ؎الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲)
اُسی کے سُننِ وضو میں ہے:
وتثلیث ف۱الغسل المستوعب ولا عبرۃف۲ للغرفات ولو اکتفی بمرۃ ان اعتادہ اثم والالا ۱؎۔
تین بار اس طرح دھونا کہ ہر مرتبہ پورے عضو کا احاطہ ہو جائے اس میں چُلوؤں کی تعداد کا اعتبار نہیں اگرایک بار دھونے پر اکتفا کی توبصورت عادت گنہگار ہے ا ورعادت نہ ہو تو نہیں۔( ت)
ف۱ :مسئلہ طہارت میں ہر عضو کا پورا تین بار دھونا سنت موکدہ ہے ترک کی عادت سے گناہ گار ہوگا
ف۲مسئلہ پانی ڈالنے کی گنتی معتبر نہیں جتنا دھونے کا حکم ہے اس پر پورا پانی بہہ جانا معتبر ہے مثلا ہاتھ پر ایک بار پانی ڈالا کہ تہائی کلائی پر بہا باقی پر بھیگا ہاتھ پھیرا دوبارہ دوسری تہائی دھلی سہ بارہ تیسری ۔تو یہ ایک ہی بار دھونا ہوا ہر بار پورے ہاتھ پر کہنی سمیت پانی ذرہ ذرہ پر بہتا تو تین بار ہوتا اس طرح دھونے کی عادت سے گناہ گار ہوگا اور اگر سو بار پانی ڈالا اور ایک ہی جگہ بہا کچھ حصے کسی دفعہ نہ بہا اگرچہ بھیگا ہاتھ پھیرا تو وضو ہی نہ ہو گا ۔
ان توضأ مرۃ مرۃ ان فعل لعزۃ الماء لعذر البرد اولحاجۃ لایکرہ وکذا ان فعلہ احیانا اما اذا اتخذ ذلک عادۃ یکرہ ۲؎ اھ
اگر ایک بار وضو کیا اس وجہ سے کہ پانی کم یاب ہے یا ٹھنڈک لگنے کا عذر یا کوئی حاجت ہے تو مکروہ نہیں اسی طرح اگر احیانا ایساکیا لیکن جب اسے عادت بنالے تو مکروہ ہے اھ ۔
ف۱ اگر پانی کم ہے یا سردی سخت ہے اور کسی ضرورت کے لئے پانی درکار ہے اس وجہ سے اعضا ایک ایک بار دھوئے تو مضائقہ نہیں ۔
(۲؎خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۲ )
اقول : ای تحریما لانہ سنۃ مؤکدۃ وھی محمل الاطلاق والمنفیۃ عن فعلہ احیانا من دون عذر۔
اقول :
یعنی مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ سنت مؤکدہ ہے اورکراہت مطلق بولنے سے یہی مراد ہوتی ہے اور بلا عذر احیا نا کرنے سے جس کراہت کی نفی کی گئی ہے اس سے بھی یہی تحریمی مراد ہے (ت)
اس کے نظائر کثیروافر ہیں،
فلا نظر الی ماوقع فی البحر صدر سنن الصلاۃ وقدردہ فی ردالمحتار ببعض ماذکرنا ھنا وباللّٰہ التوفیق۔
تو وہ قابل توجہ نہیں جو بحر میں سنن نماز کے شروع میں تحریرہے اور ردالمحتار میں یہاں ہمارے ذکر کردہ بعض کلام کے ذریعہ اس کی تر دید بھی کردی ہے ، اور توفیق خدا ہی سے ہے ۔ (ت)
خُوب تریہ ف۱ ہے جب ہمارے مشایخ عراق نے جماعت کو واجب اور مشائخ خراسان نے سنتِ مؤکدہ فرمایا اور مفیدمیں یوں تطبیق دی کہ واجب ہے اور اُس کا ثبوت سنت سے خود علامہ عمر نے نہر میں اسے نقل کرکے فرمایا:
ھذا یقتضی الاتفاق علی ان ترکہا (مرۃ) بلا عذر یوجب اثما مع انہ قول العراقیین والخراسانیین علی انہ یاثم اذا اعتاد الترک کما فی القنیۃ ۱؎ اھ
اس کا مقتضا یہ ہے بلاعذر ایک بار ترک کرنے سے گناہ گار ہونے پراتفاق ہو حالاں کہ یہ مشائخ عراق کا قول ہے،اور اہل خراسان یہ کہتے ہیں کہ جب ترک کی عادت ہو تو گناہ گار ہوگا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔(ت)
( ۱؎النہرالفائق کتاب الصلوٰۃ باب ا لامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۲۳۸)
فائدہ:
اس مسئلہ پر باقی کلام اور سنت کی تعریف واقسام اور سنّت غیر مؤکدہ کی تحقیق احکام اور اُس کا مستحب سے فرق اور مکروہ تحریمی وتنزیہی کی بحث جلیل اور یہ کہ مکروہ تنزیہی اصلاً گناہ نہیں اور یہ کہ مکروہ تحریمی مطلقاً گناہ ہے اور یہ کہ وہ بے اصرار ہرگز کبیرہ نہیں اور ان مسائل میں فاضل لکھنوی کی لغزشوں کا بیان یہ سب ہمارے رسالہ