| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول : وھذا ان شاء اللّٰہ تعالی سرقول الامام الاجل فخرالاسلام ان تارک السنۃ المؤکدۃ یستوجب اساء ۃ ۳؎ای بنفس الترک وکراھۃ ای تحریمیۃ ای عند الاعتیاد اذھی المحل عند الاطلاق ولھذا قال الامام عبدالعزیز فی شرحہ ان الاساء ۃ دون الکراھۃ۴؎ واکتفی فی السنۃ الزائدۃ بنفی الاساء ۃ لان نفی الادنی یدل علی نفی الاعلی بالاولی وحیث ان الکراھۃ التنزیھیۃ ادنی من الاساء ۃ فنفی الاعلی لایستلزم نفی الادنی ولذا ذکر توجہ اللائمۃ حکم ترک مطلق السنۃ ثم قسمھا قسمین وفرق بلزوم الاساء ۃ وعدمہ فتحصل ان المؤکدۃ وغیرھا تشتر کان فی توجہ الملام علی الترک وتتفار قان فی ان ترک المؤکدۃ اساءۃ وبعد التعود کراھۃ تحریم ولیس فی ترک غیرھا الاکراھۃ التنزیہ ولعمری ان اشارات ھذا الامام الھمام ادق من ھذا حتی لقبوہ ابا العسر واخاہ الامام صدر الاسلام ابا الیسر۔
اقول:
اور یہی ان شاء اللہ تعالی امام الاجل فخر الاسلام کے اس ارشاد کارمز ہے کہ ''سنت مؤکدہ کا تارک اساء ت کا مستحق ہے ''یعنی نفس ترک سے '' اور کراہت کا '' مستحق ہے یعنی کراہت تحریمیہ کا، جب کہ عادت ہو اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت کراہت تحریمیہ ہی مراد ہوتی ہے ۔ اس لئے امام عبد العزیز بخاری نے اپنی شرح میں فرمایا کہ :اساء ت کا درجہ کراہت سے نیچے ہے اور سنت زائدہ میں نفی اسا ء ت پر اکتفا کی اس لئے کہ ادنی کی نفی سے اعلٰی کی نفی بدرجہ اولٰی معلوم ہوجائے گی۔اور چونکہ کراہت تنزیہیہ اساء ت سے ادنٰی ہے تو اعلی ٰ کی نفی سے ادنٰی کی نفی لازم نہ آئے گی اس لئے مستحق ملامت ہونا مطلق سنت کے ترک کا حکم بتایا پھرسنت کی دوقسمیں کیں اور اساء ت لازم آنے اور نہ لازم آنے سے دونوں میں فرق کیا تو حاصل یہ نکلا کہ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ دونوں اس حکم میں مشترک ہیں کی ترک پر ملامت ہوگی اوردونوں آپس میں یوں جداجدا ہیں کہ مؤکدہ کا ترک اسا ء ت اورعادت کے بعد کراہت تحریم ہے اور غیر مؤکدہ کے ترک میں صرف کراہت تنزیہ ہے بخدا اس امام ہمام کے ارشادات اس سے بھی زیادہ دقیق ہوتے ہیں یہاں تک کہ علماء نے انہیں ''ابو العسر''اور ان کے برادر امام صدرالاسلام کو ''ابوالیسر'' کا لقب دیا ۔(ت)
(۳؎اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹) (۴؎کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ /۳۱۰)
جہاں جہاں کلمات علما ء میں اُس پر حکم اثم ہے اُس سے مراد بحال اعتیاد ورنہ اُس میں اور واجب میں فرق نہ رہے۔
اقول ف۱ : والفرق بتشکیک الاثم کما لجاء الیہ فی البحر لایجدی لان التشکیک حاصل فی الواجبات انفسھا۔
اقول :
اور گناہ کی تشکیک سے فرق جیسا کہ بحر میں اس کا سہارا لیا ہے کارآمد نہیں اس لئے کہ تشکیک تو خو د واجبات میں بھی حاصل ہے(اسی میں کم درجہ کا گناہ ہے اسی میں اس سے سخت ) ۔ت
فـــ۱:تطفل علی البحر ۔
اور جب اُس کا مطلق ترک گناہ نہیں تو مکروہ تحریمی بے عادت نہیں ہوسکتا کہ ہر مکروہ تحریمی ف۲ گناہ ومعصیت صغیرہ ہے ۔
ف: مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے ۔
ردالمحتار صدر واجبات صلوٰۃ میں ہے:
صرح العلامۃ ابن نُجیم فی رسالتہا المؤلفۃ فی بیان المعاصی بان کل مکروہ تحریما من الصغائر ۱؎۔
علامہ ابن نُجیم نے بیان معاصی سے متعلق اپنے رسالہ میں تصریح فرمائی ہے کہ ہر مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے۔(ت)
( ۱ ؎رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ /۳۰۶ )
منیہ میں ہے:
لایترک ف۳ رفع الیدین ولو اعتاد یاثم ۲؎۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترک نہ کرے اگر ترک کی عادت کرے تو گنہگا رہوگا (ت)
(۲؎منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۷۸)
ف :۳ مسئلہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین سنت مؤکدہ ہے ترک کی عادت سے گناہ گار ہوگا ورنہ مکروہ ضرور۔
غنیہ میں ہے:
لانہ سنۃ مؤکدۃ اما لو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتیاد لایاثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ ۳؎۔
اس لئے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر بغیر عادت کے کسی وقت ترک کر دیا تو گناہگارنہ ہوگا اور یہ حکم تمام سنن مؤکدہ میں ہے ۔(ت)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۰)
حلیہ میں کلام مذکور امام الیسر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
وھو حسن لکن بعد وجود الدلیل الدال علی لحوق الاثم لتارک السنۃ بمجرد الترک لھا ولیس ذلک بالسھل الواضح ۴؎۔
یہ کلام عمدہ ہے مگراس کے بعد تارک سنت کے لئے محض ترک سے ہی گناہ لاحق ہونے پر دلالت کرنے والی دلیل مل جائے اور یہ بہت آسان نہیں ۔(ت)
(۴؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )