اقول : تقسیم ف۱ اول میں کمال اجمال اور مذہب شافعی سے الیق ہونے کے علاوہ صحت مقابلہ اس پر مبنی کہ ہر مندوب کا ترک مکروہ ہو وقد علمت انہ خلاف التحقیق (تُو نے جان لیا یہ خلافِ تحقیق ہے۔ ت) نیز سنّت ومندوب ف۲ میں فرق نہ کرنا مذہب حنفی وشافعی کسی کے مطابق نہیں۔ یہی ف۳ دونوں کمی تقسیم دوم میں بھی ہیں، سوم وچہارم میں عدم مقابلہ بدیہی کہ سوم ف۴ میں جانبِ فعل چار چیزیں ہیں ا ور جانبِ ترک دو۔ چہارم ف۵ میں جانبِ فعل پانچ ہیں اور جانب ترک تین۔
ف۱:تطفل علی المشہور۔
ف۲:تطفل اٰ خرعلیہ ۔
ف۳:معروضتان علی مسلم الثبوت ۔
ف۴:تطفل علی التوضیح والمولٰی خسرو ۔
ف۵:تطفل علی الشمس الفناری ۔
پھر جانب ترک بسط ف۱ اقسام کرکے تصحیح مقابلہ کیجئے تو اُسی مقابلہ نفل وکراہت سے چارہ نہیں مگر بتوفیق اللہ تعالٰی تحقیق فقیر سب خللوں سے پاک ہے ،اُس نے ظاہر کیا کہ بلکہ احکام گیارہ ہیں پانچ جانبِ فعل میں متنازلاً فرض(۵) واجب(۴) سنّت مؤکدہ (۳) غیرمؤکدہ (۲) مستحب(۱) اور پانچ جانبِ ترک میں متصاعداً خلاف(۱) اولی (۲) مکروہ تنزیہی (۳) اساءت(۴) مکروہ تحریمی (۵) حرام جن میں میزان مقابلہ اپنے کمال اعتدال پر ہے کہ ہر ایک اپنے نظیر کا مقابل ہے اور سب کے بیچ میں گیارھواں مباح خالص۔اس تقریر منیر کو حفظ کرلیجئے کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گی اورہزار ہا مسائل میں کام دے گی اور صد ہا عقدوں کو حل کرے گی کلمات اس کے موافق مخالف سب طرح کے ملیں گے مگر بحمداللہ تعالٰی اس سے متجاوز نہیں فقیر طمع رکھتا ہے کہ اگر حضور سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حضور یہ تقریر عرض کی جاتی ضرور ارشاد فرماتے کہ یہ عطر مذہب وطراز ومُذَہَّب ہے والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔ اس تحقیق انیق کے بعد قول سوم ہرگز دوم کی طرف راجع ہوکر منتفی نہیں بلکہ وہی من حیث الروایۃ سب سے اقوی ہے کہ خاص نص ظاہر الروایۃ کا مقتضی ہے۔
ف۱:تطفل اٰ خرعلی ھٰؤلاء الثلثۃ ۔
تنبیہ(۴)
علامہ عمر نے جبکہ قول چہارم اختیار فرمایا امام اجل قاضی خان وغیرہ کا ترک اسراف کو سنّت فرمانا بھی اسی طرف راجع کرنا چاہا کہ سنّت سے مراد مؤکدہ ہے اور اُس کا ترک مکروہ تحریمی۔
اقول :
اقوال بعض متاخرین میں ف۲ اُس کی تائیدوں کا پتا چلے گا ۔
ف ۲:تطفل علی النہر ۔
بحرالرائق ف۳ آخر مکروہات الصلوٰۃ پھر ردالمحتار میں ہے:
سنّت جب مؤکدہ قوی ہو تو بعید نہیں کہ اس کا ترک واجب کی طرح مکروہ تحریمی ہو۔ (ت)
ف۳:مسئلہ سنت مؤکدہ کا ترک ایک آدھ بار مورث عتاب ہے مگر گناہ نہیں ہاں ترک کی عادت کرے تو گناہ گار ہوگا اور اس بارے میں دفع اوہام وتوفیق اقوال علماء کرام ۔
(۱؎البحرالرائق کتاب الصلوۃ با ب ما یفسد الصلوٰ ۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۲)
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۹)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۲۷۶)
ابو السعود علی مسکین پھر طحطاوی علی الدرالمختار صدر مکروہاتِ نماز میں ہے:
الفعل اذا کان واجبا اومافی حکمہ من سنۃ الھدٰی ونحوھا فالترک یکرہ تحریما وان کانت سنۃ زائدۃ اومافی حکمہا من الادب ونحوہ یکرہ تنزیھا ۱؎ اھ
فعل جب واجب ہو یا واجب کے حکم میں ہو جیسے سنتِ ہدٰی وغیرہا تو اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت زائدہ ہو یا وہ ہو جو اُس کے حکم میں ہے یعنی ادب اوراس کی مثل تو اس کا تر ک مکروہ تنزیہی ہے۔ (ت)
( ۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۲۶۹،۲۷۰)
(فتح المعین کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۴۱)
اقول اوّلا : تبعاف۱ القھستانی فانہ ذکرہ ثمہ ولم ینقلہ عن احد بل زعم ان کلامھم یدل علیہ فما کان للسید الازھری ان یسوقہ مساق المنقول۔
ان دونوں حضرات (ابو سعود و طحطاوی ) نے قہستانی کی پیروی کی ہے ۔قہستانی نے یہ بات مکروہات نماز کے شروع میں ذکر کی اور اسے کسی سے نقل نہ کیا بلکہ یہ دعوی کیاکہ کلام علماء اس پر دلالت کرتا ہے۔تو سید ازہری کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اسے اس طرح ذکر کریں جیسے وہ کوئی منقول قاعدہ ہے۔
سنت ہدی کے بعد :''اور اس کے مثل'' کہا پتا نہیں اس سے کیا مراد ہے خود سنت موکدہ کو واجب کا حکم نہیں ملتاجب تک کہ اس کے تر ک کی عادی نہ ہو پھر اس کے بعد کس چیز میں وہ حکم ثابت ہوگا کیا اس کا بھی کوئی قائل مل سکتا ہے؟
ف۲ معروضۃ علی القہستانی والسیدین ابی السعود وط۔
کشف بزدوی وتحقیق علی الحسامی بحث عزیمت ورخصت میں اصول امام ابو الیسر فخر الاسلام بزدوی سے ہے:
حکم السنۃ ان یندب الی تحصیلہا ویلام علی ترکہا مع لحوق اثم یسیر ۱؎۔
سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کی بجا آوری کی دعوت ہو اور اس کے ترک پر ملامت ہو ساتھ میں کچھ گناہ بھی لاحق ہو ۔(ت)
(۱؎کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ /۳۰۸)
درمختار صدرحظر میں ہے:
یاثم بترک الواجب ومثلہ السنۃ المؤکدۃ ۲؎۔
ترک واجب سے گناہگا ر ہوگا اوراسی کے مثل سنت مؤکدہ بھی ہے ۔(ت)
( ۲؎الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۵ )
مگر صحیح وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے کہ سنتِ مؤکدہ کا ایک آدھ بار ترک گناہ نہیں ہاں بُرا ہے اور عادت کے بعد گناہ وناروا ہے۔