(۴) خلاف اولی مستحب کا مقابل ہے اور معنی خاص پر مکروہ تنزیہی سے بالکل جدا بمعنی اعم اُسے بھی شامل اور کراہت تنزیہ کا اُس کی طرف مرجع ہونا اسی معنی پر ہے۔ بحر کے اشکال مذکور
یشکل علیہ ما قالوہ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی۴؎
(اس پر علماء کے اس قول سے اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس کا مرجع خلاف اولٰی ہے۔ ت)
(۴؎ البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۲)
منحۃ الخالق میں فرمایا:
الکراھۃ لابدلھا من دلیل خاص وبذلک یندفع الاشکال لان المکروہ تنزیھا الذی ثبتت کراھتہ بالدلیل یکون خلاف الاولی ولا یلزم من کون الشیئ خلاف الاولی ان یکون مکروھا تنزیھا مالم یوجد دلیل الکراھۃ ۱؎۔
کراہت کیلئے دلیل خاص ضروری ہے ۔ اسی سے اشکال دفع ہوجاتا ہے اس لئے کہ مکروہ تنزیہی جس کی کراہت دلیل سے ثابت ہے وہ خلاف اولٰی ہے اور کسی شے کے خلاف اولٰی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ وہ مکروہ تنزیہی ہو جب تک کہ دلیل کراہت دستیاب نہ ہو۔ ( ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲ /۳۲)
(۵) کراہت کیلئے اگرچہ تنزیہی ہو ضرور دلیل کی حاجت ہے
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرھا وبیناہ فی رشاقۃ الکلام
(جیسا کہ اس پر حدیقۃ الندیہ وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور ہم نے اس کواس کو رسالہ رشاقۃ الکلام میں بیان کیا ہے۔ ت)
اقول : خلافِ سنت ف ہونا خود کراہت پر دلیل شرعی ہے۔
فـــ :معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منی ۲؎ رواہ الشیخان عن انس ۔
کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو میری سنّت سے روگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں ، اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس سے روایت کیا۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب النکاح با ب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۷۵۷،۷۵۸)
(صحیح مسلم کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۴۴۹)
ولا بن ماجۃ عن ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی۳؎
اور ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ابن ماجہ کی روایت میں ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔
(۳؎ سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴)
فما مر عن العلامۃ الشامی من انھا قد یعرف بلا دلیل خاص کان تضمن ترک واجباو سنۃ ۱؎ لیس کما ینبغی ولا نعنی بالخاص خصوص النص فی الجزئی المعین اذلا حاجۃ الیہ قطعا لصحۃ الاحتجاج بالعمومات والقواعد الشرعیۃ الکلیۃ قطعا۔
تو و ہ کلام جوعلامہ شامی سے نقل ہوا مناسب نہیں (وہ کہتے ہیں )کراہت کی معرفت کبھی دلیل خاص کے بغیر ہوتی ہے جیسے یہ کہ وہ کسی واجب یا سنت کے ترک پر مشتمل ہو ''دلیل خاص سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اس معینہ جزئیہ میں کوئی خاص نص ہو اس لئے کہ اس کی حاجت قطعا نہیں کیونکہ شریعت کے عمومی احکام اور قوائد کلیہ سے بھی استدلال بلاشبہ درست ہے۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۲۹)
(۶) یہ نفیس ف۱ جلیل تفرقے مقتضائے تقسیم عقلی واقتضائے نفس لفظ کراہت وقضیہ تفرقہ احکام ہیں نہ کہ نری اصطلاح اختیاری کہ جس کا جو چاہا نام رکھ لیا،
جیسا کہ محقق نے حلیہ میں لکھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا مرجع اصطلاح ہے اور اس کا التزام کوئی ضروری نہیں اھ۔
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ الحلیہ کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴)
ونقل قبیلہ عن اللامشی فی حد المکروہ وھو مایکون ترکہ اولی من فعلہ وتحصیلہ اھ ثم قال اعلم ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ماھو خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان کما اشار الیہ اللامشی ۳؎ اھ وتبعہ فی ردالمحتار۔
اور اس سے کچھ پہلے لامشی سے تعریف مکروہ میں نقل کیا کہ یہ وہ ہے جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہے اھ۔ پھر لکھا کہ واضح ہو کہ مکروہ تنزیہی کامرجع خلاف اولٰی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے جیسا کہ لامشی نے اس کی طرف اشارہ کیا اھ اس کلام پر علامہ شامی نے بھی ردالمحتار میں ان کا اتباع کیا ۔(ت)
(۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
(۷) مشہور ف۲ احکام خمسہ ہیں ۱واجب،۲ مندوب، ۳مکروہ،۴ حرام، ۵مباح
وبہ بدء فی مسلم الثبوت
(اسی کو مسلم الثبوت میں پہلے نمبر پر بیان کیا ۔ ت) یہ مذہب شافعیہ سے الیق ہے کہ اُن کے یہاں واجب وفرض میں فرق نہیں
اور اسی کی طرف مسلم میں اس کے بعد محقق ابن الہمام کی تحریر الاصول کی تبعیت میں یہ کہہ کر اشارہ کیا کہ حنفیہ نے دلیل کی حالت کا اعتبار کیا ہے الخ۔
( ۱؎ مسلم الثبوت الباب الثانی فی الحکم مطبع مجتبائی دہلی ص۱۳)
اور بعض نے برعایت مذہب حنفی فرض وواجب اور حرام ومکروہ تحریمی کو تقسیم میں جدا جدا اخذ کرکے سات قرار دئے وبہ ثنی فی المسلم (اور اسی کو مسلم الثبوت میں دوسرے نمبرپر بیان کیا (ت) بعض نے فرض، واجب، سنّت، نفل، حرام، مکروہ، مباح یوں سات گنے۔
وعلیہ مشی فی التنقیح وتبعہ مولی خسرو فی مرقاۃ الوصول والعلامۃ الشمس محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع۔
اسی پر صدر الشریعہ تنقیح میں چلے ہیں اور ملاّ خسرو نے مرقاۃ الوصول میں اور علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فناری نے اصول البدائع میں تنقیح کی پیروی کی ہے ۔
بعض نے سنت میں سنت ہدی و سنت زائدہ اور مکروہ میں تحریمی وتنزیہی قسمیں کر کے نو شمار کیے۔
کمانص علیہ الفناری فی اخر کلامہ ویشیر الیہ کلام التوضیح ۔
جیساکہ فناری نے آخر کلام میں اس کی صراحت کی ہے اور کلام توضیح میں اس کی جانب اشارہ ہے۔ (ت)