تحقیق بالغ وتنمیق بازغ یہ ہے کہ فعل مطلوب شرعی کاترک نادراًہوگا یا عادۃً، اور ہر ایک پر سزاکا استحقاق ہوگا یا سرزنش کا ، یا کچھ نہیں تو دونوں ترک تین قسم ہوئے ہیں ،اور تین کو تین میں ضرب دئیے سے نو قسمیں عقلی پیدا ہوئیں ان میں تین بداہۃًباطل ہیں :
(۱)ترک عادی پر کچھ نہ ہو اور نادر پر عذاب یا عتاب(۲)، سوم(۳) ترک عادی پر عتاب اور نادر پر عقاب۔ اور دو قسمیں شرعاً وجود نہیں رکھتیں ترک عادی پر عقاب یا عتاب اور نادر پر کچھ نہیں کہ شرعاً مستحب کے ترک نادر پر کچھ نہیں تو عادی پر بھی کچھ نہیں اور سنّت کے ترک عادی پر عتاب ہے تو نادر پر بھی ہے کہ وہ حکم سنّت ہے اور حکم شے کو شے سے انفکاک نہیں۔
اصول امام فخرالاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے:
حکم السنۃ ان یطالب المرء باقامتھا من غیر افتراض ولا وجوب لانھا طریقۃ امرنا باحیائھا فیستحق اللائمۃ بترکہا ۱؎۔
سنت کا حکم یہ ہے کہ آدمی سے اسے قائم کرنے کا مطالبہ ہو بغیر اس کے کہ اس پر فرض یا واجب ہو ۔ کیونکہ یہ ایسا طریقہ ہے جسے زندہ کرنے کاہمیں حکم دیا گیا تو اس کے ترک پر ملامت کا مستحق ہوگا ۔(ت)
( ۱؎ اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹)
لا جرم چار قسمیں رہیں:
(۱) ترک عادی ہونا یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت فرض ورنہ واجب ہے۔
(۲) عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔ یہ سنت مؤکدہ ہے کہ اگر نادر پر بھی عذاب ہو تو اُس میں اورواجب میں فرق نہ رہے گا اور عادی پر بھی عتاب ہی ہو تو اُس میں اور سنت مؤکدہ میں تفاوت نہ ہوگا حالانکہ وہ ان دونوں میں برزخ ہے۔
(۳) عادی ہو یا نادر مطلقا مورث عتاب ہو۔ یہ سنتِ زائدہ ہے۔
(۴) مطلقا عذاب وعتاب کچھ نہ ہو۔ یہ مستحب ومندوب وادب ہے۔
پھر ازا نجا کہ فعل وترک میں تقابل ہے بغرض تعادل واجب ہے کہ ایسی ہی چار قسمیں جانب ترک نکلیں یعنی جس کا ترک مطلوب ہے:
(۱) اس کا فعل عادی ہو یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت حرام ورنہ مکروہ تحریمی ہے۔
(۲)فعل عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب یہ اساء ت ہے جس کی نسبت علماء نے تحقیق فرمائی کہ کراہت تنزیہی سے افحش اور تحریمی سے اخف ہے۔
(۳) مطلقا مورث عتاب ہی ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔
(۴) مطلقا کچھ نہ ہو یہ خلافِ اولٰی ہے۔
تنویر:
اس تقریر منیر سے چند جلیل فائدے متجلی ہوئے:
(۱) سنتِ مؤکدہ کا ترک مطلقا گناہ نہیں بلکہ اُس کے ترک کی عادت گناہ ہے۔
(۲) اساء ت کے بارے میں اگرچہ کلماتِ علماء مضطرب ہیں کوئی اسے کراہت سے کم کہتا ہے۔
کما فی الدر۱؎ صدر سنن الصلاۃ وبہ نص الامام عبدالعزیز فی الکشف وفی التحقیق۔
جیسا کہ درمختار میں سنن نماز کے شروع میں ہے اور امام عبدالعزیز بخاری نے کشف میں اور تحقیق میں اسی کی تصریح کی ہے۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۷۳)
کوئی زائد ،کما فی الشامی۲؎ عن شرح المنار للزین (جیسا کہ شامی میں محقق زین بن نجیم کی شرح منار سے نقل ہے ۔ ت)
(۲؎ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ /۳۱۸)
(جیسا کہ طحطاوی نے سنن نمازاور باب ادراک الفریضہ میں حلبی شارح دُر مختار نقل ہے ۔ ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الد ر المختار کتاب الصلوٰ ۃ باب صفۃ الصلوٰۃ المکتبۃ ا لعربیہ کوئٹہ ۱ /۲۱۳)
مگر عندالتحقیق اُس کا مقابل سنتِ مؤکدہ ہونا چاہئے کہ جس طرح سنتِ مؤکدہ واجب وسنت زائدہ میں برزخ ہے یوں ہی اساء ت کراہت تحریم وکراہت تنزیہ میں
کما فی الشامی۲؎
(جیسا کہ شامی میں ہے۔ ت)
( ۲؎ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ /۳۱۹)
عٰلمگیریہ ف میں سراج وہاج سے ہے:
ان ترک المضمضۃ والاستنشاق اثم علی الصحیح لانھا من سنن الھدی وترکھا یوجب الاساء ۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لایوجب الا ساء ۃ ۳؎ اھ
اگرمضمضہ واستنشاق کا تارک ہو تو بر قول صحیح گنہگار ہوگا اس لیے کہ یہ سنن ہدٰی سے ہے اور ان کا ترک موجب اساء ت ہے بخلاف سنن زوائد کے کہ ان کا ترک موجبِ اساء ت نہیں اھ۔ت
(۳؎الفتاو ی الہندیہ بحوالہ السراج الوہاج کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۶،۷ )
ف: مسئلہ وضو میں کلی یا ناک میں پانی ڈالنے کا ترک مکروہ ہے اور اس کی عادت ڈالے توگناہگارہوگایہ مسئلہ وہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ جو کلیاں ایسی نہیں کرتے کہ حلق تک ہر چیز کو دھوئیں اور وہ کہ پانی جن کی ناک کو چھو جاتا ہے سونگھ کر اوپر نہیں چڑھاتے یہ سب لوگ گنہگا ر ہیں اور غسل میں ایسا نہ ہو تو سرے سے غسل نہ ہوگا نہ نماز۔
اقول قولہ اثم ای ان اعتاد کما ھو معروف فی محلہ فیہ وفی نظائرہ۔
اقول قول مذکور ''گنہگار ہوگا'' یعنی اگر ترک کا عادی ہو جیساکہ یہ معنی اپنی جگہ اس بارے میں اور اس کی نظیروں میں معروف ہے ۔(ت)
اصول امام فخر الاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے:
بحرالرائق سنن نماز مسئلہ رفع یدین للتحریمہ میں ہے :
انہ من سنن الھدی فھو سنۃ مؤکدۃ ۳؎۔
وہ سنن ہدٰی سے ہے تو وہ سنّتِ مؤکدہ ہے۔ (ت)
(۳؎ البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۰۲)
(۳) کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے نہ سنّتِ مؤکدہ کے ،بلکہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے ، اُسے مستحب کے مقابل کہنا خلافِ تحقیق ہے اور مطلق سنّت کے مقابل بتانا اعم ہے جبکہ اُسے اساء ت کو بھی شامل کرلیا جائے جس طرح کبھی اسا ء ت کو اعم لے کر سنّتِ زائدہ کے مقابل بولتے ہیں جس طرح اطلاق موسع میں خلافِ اولی کو مکر وہ تنزیہی کہہ دیتے ہیں۔