اقول : اگر یقین ف۲ سے یقین فقہی مراد ہو جیسا کہ کتبِ فقہیہ میں وہی متبادر ہے تو یہ ادب وسنت درکنار خود واجب ولابدی ہے، ہاں یقین کلامی مراد ہو تو ادب کہنا عجب نہیں
ف۲ : تطفل ما علی الفتح ۔
ھذا وقدنبہ من ھٰذہ الافعال الاربعۃ علی سنیۃ الاخیرین فی البحر ۔
یہ ذہن نشین رہے،ان چار افعال میں سے آخری دو کے مسنون ہونے پر بحر میں تنبیہ کردی ۔ (ت)
اقول : والعجب فــ۳ ترک الاولین مع نقلہ ایاھما ایضا عن الفتح فالسکوت یکون اشد ایھامامما لولم یاثرھما ولا شک ان الثانی مثل الرابع الذی استند فیہ البحر الی ان الخلاصۃ جعلہ سنۃ فکذلک نص فیھا علی سنیۃ الثانی ایضا اما فــ۴ الاول فاھم الکل واحقہا بالتنبیہ والبحر نفسہ صرح فی الاستنجاء بما سمعت ولکن جل من لا یغیب عن علمہ شیئ قط۔
اقول اور تعجب ہے کہ پہلے دونوں کوترک کر دیا حالانکہ ان دونوں کو بھی فتح القدیر سے نقل کیا ہے اس لیے یہاں سکوت اس صورت سے زیادہ ایہام خیز ہے جبکہ ان دونوں کو نقل ہی نہ کیا ہوتااورچہارم (اعضا ء کو ملنا ) سے متعلق تو بحر نے خلاصہ کی سند پیش کی کہ اس میں اسے سنت قرار دیا ہے جبکہ بلاشبہ دوم (انگشتری کوحرکت دینا) بھی اسی کی طرح ہے کہ اس سے متعلق بھی خلاصہ میں مسنون ہونے کی تصریح ہے،رہا اول (جس انگشتری پر خدا ورسول کا نام ہو اسے اتار لینا ) تو وہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ مستحق تنبیہ ہے اورخودبحر نے بیان استنجا میں وہ تصریح کی ہے جو پیش ہوئی لیکن بزرگ ہے وہ جس کے علم سے کوئی شے کسی وقت اوجھل نہیں ہوتی ۔(ت)
فــ۳: تطفل علی البحر۔
فــ۴: تطفل اخر علیہ ۔
یہاں سے واضح ہوا کہ محقق کا اس عبارت میں ترک اسراف (ادب)شمار فرمانا نفی کراہت پر حاکم نہیں ۔
اقول وکان من فــ۱احسن الاعذار عن المحقق رحمہ اللّٰہ تعالی انہ تجوز فاطلق الادب علی مایعم السنن لکنہ ھھنا قدمیز السنن من الاداب کما میز فی الخلاصۃ واخذفــ۲ علی الکتاب فی جعلہ التیا من واستیعاب الرأس بالمسح مستحبین وقال بعد اقامۃ الدلیل فالحق عــــہ ان الکل سنۃ ومسح الرقبۃ مستحب ۱؎اھ
اقول محقق کی جانب سے بہتر عذر یہ تھا کہ انہوں نے مجازالفظ ادب کا اطلاق اس پر کیا ہے جو سنتوں کو بھی شامل ہو لیکن انہوں نے یہاں سُنتوں کوآداب سے الگ رکھا ہے جیسے خلاصہ میں الگ الگ رکھا ہے،اور حضرت محقق نے کتاب (ہدایہ) پر داہنے سے شروع کرنے اور مسح کے پورے سر کے احاطہ کو مستحب قرار دینے پر گرفت کی ہے اوردلیل قائم کرنے کے بعد لکھا ہے : تو حق یہ ہے کہ سب سنت ہے اور گردن کا مسح مستحب ہے ۔
فــ۱:تطفل علی الفتح۔
فــ۲ مسئلہ وضومیں ہاتھ اور یوں ہی پاوں بائیں سے پہلے داہنا دھونا یعنی سیدھے سے ابتدا کرنا سنت ہے اگر چہ بہت کتب میں اسے مستحب لکھا ۔
عـــہ تبعہ علی الاول فی البرھان ثم الشرنبلالی وغیرھما وعلی الثانی من لایحصی اھ منہ
عــہ اول پر حضرت محقق کا اتبا ع برہان پھر شرنبلالی وغیرہما میں ہے اور ثانی پر بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اھ منہ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۱)
ثالثا اقو ل :
عبارت ف۲ بدائع میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امام ملک العلماء رحمہم اللہ تعالی نے ترک اسراف کو صرف ادب ہی نہ فرمایا بلکہ حق بتایا تو اسراف خلاف حق ہوا باطل ہوا اور اس کاادنی درجہ کراہت
وماذابعد الحق الاالضلال ۲؎
(پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ ت) بلکہ اسراف کو غلو کہا اور دین میں غلو ممنوع ،
لاتغلو فی دینکم ۳؎
(اپنے دین میں زیادتی نہ کرو ۔ت)
ف۲: تطفل علی الحلیۃ۔
(۲؎ القرآن ۱۰ /۱۳۲)
(۳؎ القرآن ۴ /۱۷۱)
رابعا اقول:
ان تمام تا ئیدات فـــ ۳کے بعد بھی نہر و ردالمحتار کا مطلب کہ قو ل سوم اور دوم کی طرف راجع کرنا ہے تمام نہیں ہوتا ۔مانا کہ بدائع وفتح کی عبارات نفی نہ کریں مانا کہ فتح کی رائے میں ترک ادب بھی مکروہ ہو مگرنص امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کا کیا جواب ہے جس میں اس کے ادب ہونے کی تصریح فرمائی اور مستحبات محضہ کے ساتھ اس کی گنتی آئی، اب اگر تحقیق یہ ہے کہ ترک مندوب مکروہ نہیں تو ضرور کلام امام کہ امام کلام ہے نفی کراہت کا اشعار فرمائے گا اس بارہ میں کلمات علماء کا اختلاف و اضطراب سن چکے۔
فـــ۳:تطفل علی النہر وش ۔
وانا اقول وبا للہ التوفیق اولاف۴
حب وکراہت میں میں تناقض نہیں کہ ایک کا رفع دوسرے کے ثبوت کو مستلزم ہو۔دیکھومباح سے دونوں مرتفع ہیں تو ترک مستحب مطلقامستلزم کراہت کیوں ہوا ۔
ف۴:فائدہ جلیلہ دربارہ مکروہ تنزیہی وتحریمی واساء ت وخلاف اولٰی مصنف کی تحقیق نفیس فوائدکثیرہ پر مشتمل اور واجب و سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ کے فرق احکام ۔
ثانیا،اقول
اگر ترک مستحب موجب کراہت ہو تو آدمی جس وقت خالی بیٹھا ہو اور کوئی مطالبہ شرعیہ اس وقت اس پر لازم نہ ہو لازم کہ اس وقت لاکھوں مکروہ کا مرتکب ٹھہرے کہ مندوبات بے شمار ہیں اور وہ اس وقت ان سب کا تارک۔
ثالثا ، اقو ل
کراہت کا لفظ ہی بتارہاہے کہ وہ مقابل سنت نہ مقابل مندوب جو بندہ ہو کر بلا وجہ وجیہ ایسی چیز کا ارتکاب کرے جسے اس کا مولٰی مکروہ رکھتا ہے وہ کسی ملامت و سرزنش کا بھی مستحق نہ ہو تو مولٰی کے نزدیک مکروہ ہونے کا کیا اثر ہوا اور جب فعل پرسرزنش چاہئے تواس کا مرتبہ جانب ترک میں وہی ہوا جو جانب فعل میں سنت کاہے کہ اس کے تر ک پر ملامت ہے نہ کہ مندوب کا جس کے ترک پر کچھ نہیں، ظاہر ہے کہ کراہت کچھ ہے کی مقتضی ہے اورترک مستحب پر کچھ نہیں ،اور کچھ نہیں کچھ ہے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔