اقول : ومن العجب فـــ۱ ان البحر کان صرح فی الالتفات بنفی الکراھۃ مطلقا وان الاولی ترکہ لغیر حاجۃ فکان نصافی نفی الکراھۃ رأسا مع کونہ ترک الاولی فی بعض الصور ففسرہ بضدہ اعنی اثبات الکراھۃ لکونہ ترک الاولی مع نقلہ عن الزیلعی والباقانی انہ مباح وظاھرہ الاباحۃ الخالصۃ بدلیل الاستدلال بالحدیث فلم یتذکر ھناک ان خلاف الاولی لایستلزم الکراھۃ مالم یرد نھی۔
اقول : اور تعجب یہ ہے کہ بحر نے تصریح کی تھی کہ التفات میں کوئی بھی کراہت نہیں اوراولٰی یہ ہے کہ حاجت نہ ہوتواسے ترک کرے یہ اس بارے میں نص تھا کہ ذرا بھی کراہت نہیں باوجودیکہ یہ بعض صورتوں میں ترک اولٰی ہے۔ علامہ شامی نے اس کی تفسیر اس کی ضد سے کی یعنی چُوں کہ یہ ترک اولٰی ہے اس لئے مکروہ ہے باوجودیکہ زیلعی اور باقانی سے اس کامباح ہونا بھی نقل کیاہے اوراس کا ظاہر یہ ہے کہ مباح خالص ہے جس کی دلیل حدیث سے استدلال ہے توانہیں وہاں یہ یاد نہ رہا کہ خلاف اولٰی کراہت کو مستلزم نہیں جب تک کوئی نہی واردنہ ہو۔
فــــ۱: معرو ضۃ سادسۃ علیہ ۔
بااینہمہ اس میں شک نہیں کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق کی تصریحات اسی طرف ہیں کہ ترک مستحب بھی مکروہ تنزیہی ہےتو ان کا فــ ۲آداب میں گننا نفی کراہت تزیہہ پر کیونکر دلیل ہو خصوصاً اسی بحث کے آخر میں وہ صاف صاف کراہت اسراف کی تصریح بھی فرماچکے۔
فــ۲تطفل علی البحر ۔
حیث قال یکرہ الزیادۃ علی ثلث فی غسل الاعضاء ۱؎ ا ھ
ان کے الفاظ یہ ہیں: اعضاء کو تین بار سے زیادہ دھونا مکروہ ہے اھ۔(ت)
( ۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ /۳۲)
ثانیا ،اقول :
اور خود علامہ صاحب بحر نے بھی اسے اُن سے نقل فرمایا تو اُس حمل پر باعث کیا رہا۔
اس سے قطع نظر بھی ہو تو محقق نے انہیں آداب میں یہ افعال بھی شمار فرمائے،
نزع خاتم علیہ اسمہ تعالی واسم نبیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم حال الاستنجاء وتعاھد ماتحت الخاتم وان لایلطم وجہہ بالماء والدلک خصوصا فی الشتاء وتجاوز حدود الوجہ والیدین والرجلین لیستیقن غسلہما ۲؎۔
استنجاء کے وقت اس انگوٹھی کو اتارلینا جس پر باری تعالٰی کا یا اس کے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کانام ہو۔
اورانگشتری کے نیچے والے حصہ بدن دھونے میں خاص خیال رکھنا۔چہرے پر پانی کا تھپیڑا نہ مارنا۔اعضاء کو ملنا خصوصاً جاڑے میں۔چہرے،ہاتھوں اور پیروں کی حدوں سے زیادہ پانی پہنچانا،تاکہ ان حدوں کے دُھل جانے کا یقین ہوجائے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ /۳۲)
اور شک ف۱ نہیں کہ وقت استنجاء اُس انگشتری کا جس پر اللہ عزّوجل یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک یا کوئی متبرک لفظ ہو اُتار لینا صرف مستحب ہی نہیں قطعا سنّت اور اُس کا ترک ضرور مکروہ بلکہ اسأت ہے بلکہ مطلقا ف۲کچھ لکھا ہو حروف ہی کا ادب چاہئے بلکہ ف ۳ایسی انگوٹھی پہن کر بیت الخلا میں جانا ہی مکروہ ہے ولہٰذا ف ۴تعویذ لے جانے کی اجازت اُس وقت ہوئی کہ خلاف مثلاً موم جامہ میں ہو اور پھر بھی فرمایا کہ اب بھی بچنا ہی اولی ہے اگرچہ غلاف ہونے سے کراہت نہ رہی۔
ف۱:مسئلہ جس انگشتری پر کوئی متبرک نا م لکھا ہوو قت استنجا ء اس کا اتار لینا بہت ضرور ہے ۔
ف۲:مسئلہ مطلقا حروف کی تعظیم چاہیے کچھ لکھا ہو ۔
ف۳:مسئلہ جس انگشتری پر کچھ لکھا ہواسے پہن کر بیت الخلا میں جانا مکروہ ہے ۔
ف۴:مسئلہ تعویذ اگر غلاف میں ہو تو اسے پہن کربیت الخلا میں جانا مکروہ نہیں پھر بھی اس سے بچنا افضل ہے ۔
ردالمحتار میں ہے :
نقلوا فـــ عندنا ان للحروف حرمۃ ولو مقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قران نزل علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام ۱؎ الخ
منقول ہے کہ ہمارے نزدیک حروف کی بھی عزت ہے اگرچہ الگ الگ کلمے ہوں۔اوربعض قرأ نے ذکرکیا کہ حروفِ تہجی وہ قرآن ہیں جس کا نزول حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوا الخ۔(ت)
ف: حروف ہجا ایک قرآن ہے کہ سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر اترا ۔
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۷)
اُسی میں عارف باللہ سیدی عبدالغنی قدس سرہ القدسی سے ہے :
حروف الھجاء قران انزلت علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام کما صرح بذلک الامام القسطلانی فی کتابہ الاشارات فی علم القراء ات ۲؎۔
حروف تہجی قرآن ہیں یہ حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئے جیسا کہ امام قسطلانی نے اپنی کتاب''الاشارات فی القرأ ت'' میں اس کی تصریح کی ہے۔(ت)
( ۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ قبیل باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۲۰)
بحرالرائق میں ہے:
یکرہ ان یدخل الخلاء ومعہ خاتم مکتوب علیہ اسم اللّٰہ تعالی اوشیئ من القران ۳؎۔
خلا میں ایسی انگوٹھی لے کر جانا مکروہ ہے جس پر اللہ تعالی کانا م یا قرآن سے کچھ لکھا ہو اہو۔ (ت)
(۳؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الانجاس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۴۳)
دُر مختار میں ہے :
رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل۴؎۔
ایسا تعویذ خلاء میں لے کر جانا مکروہ نہیں جوالگ غلاف میں ہو اور بچنا افضل ہے۔ ت
(۴؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۴)
یونہی انگشتری فـــ۱ڈھیلی ہو تو اُسے جنبش دینی وضو میں سنّت ہے اور تنگ ہو کہ بے تحریک پانی نہ پہنچے گا تو فرض۔ ف۱:مسئلہ انگوٹھی ڈھیلی ہو تو وضو میں اسے پھرا کر پانی ڈالناسنت ہے اورتنگ ہو کہ بے جنبش دئے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے یہی حکم بالی وغیرہ کا ہے ۔
خلاصہ میں ہے:
فی مجموع النوازل تحریک الخاتم سنۃ ان کان واسعا وفرض ان کان ضیقا بحیث لم یصل الماء تحتہ ۱؎۔
مجموع النوازل میں ہے: انگوٹھی کو حرکت دینا سنت ہے اگرچہ کشادہ ہو اور فرض ہے اگر اتنی تنگ ہوکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے۔ ت
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث سنن الوضو مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۳)
یونہی ف۲ وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ اور اس کا ترک مسنون۔
ف۲:مسئلہ وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ ہے بلکہ کسی عضو پر اس زور سے نہ ڈالے کہ چھینٹیں اڑ کر بدن یا کپڑوں پر جائیں ۔
درمختار میں ہے :
مکروھہ لطم الوجہ اوغیرہ بالماء تنزیھا ۲؎۔
چہرے یا کسی اور عضو پر پانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ تنزیہی ہے ۔( ت)
(۲؎ الدرمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۴)
بحر میں ہے:
ان الزیلعی صرح بان لطم الوجہ بالماء مکروہ فیکو ن ترکہ سنۃ لاادبا ۳؎۔
اما م زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ چہرے پرپانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ ہے تو اس کا ترک صرف ادب نہیں بلکہ سنت ہوگا ۔(ت)