Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
80 - 135
نیز صدر کتاب میں فرمایا:
(اعلم ان للصلاۃ سننا) وترکھا یوجب کراھۃ تنزیہ (وادبا) جمع ادب ولا باس بترکہ ولا کراھۃ (وکراھیۃ) والمراد بھا ما یتضمن ترک سنۃ وھو کراھۃ تنزیہ اوترک واجب وھو کراھۃ التحریم۲؎۔
(واضح ہوکہ نماز کی کچھ سنتیں ہیں) اور ان کا ترک کراہت تنزیہ کا موجب ہے(اورکچھ آداب ہیں) یہ ادب کی جمع ہے اوراس کے ترک میں کوئی حرج اورکراہت نہیں(اور کچھ مکروہات ہیں)ان سے مرادوہ جو ترکِ سنت پرمشتمل ہویہ مکروہ تنزیہی ہے یا وہ جو ترک واجب پر مشتمل ہویہ مکروہ تحریمی ہے۔(ت)
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مقدمۃ الکتاب         سہیل اکیڈمی لاہور         ص۱۳)
جس بحر فــ کے اوقات(نماز ) میں تھا التنزیہ فی رتبۃ المندوب ۳؎
(کراہت تنزیہی مندوب کے مقابل مرتبہ میں ہے۔ ت)
فــ:تطفل علی البحر۔
(۳؎ البحرالرائق    کتاب الصلوٰۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴۹)
اسی کے باب العیدین میں فرمایا :
لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابدلھا من دلیل خاص فلذا کان المختار عدم کراھۃ الا کل قبل الصلاۃ ۴؎ اھ ای صلاۃ الاضحٰی۔
ترک مستحب سے کراہت لازم نہیں اس لئے کہ کراہت کے لئے دلیل خاص ضروری ہے۔اسی لئے مختاریہ ہے کہ نمازعید قرباں سے پہلے کھالینا مکروہ نہیں۔(ت)
(۴؎ البحرالرائق     کتاب الصلوۃ     باب العیدین         ایچ ایم سعید کمپنی     ۲ /۱۶۳)
اور دربارہ عـــــہ ترک اسراف ان کا کلام گزرا اُسی کے مکروہات نماز میں ایسی ہی تصریح فرما کر پھر خود اُس پر اشکال وارد کردیا کہ ہر مستحب خلافِ اولی ہے اور یہی کراہت تنزیہ کا حاصل۔
عـــہ نیز ثانیا میں ان کا کلام آتا ہے کہ امام زیلعی نے لطم وجہ کو مکروہ لکھا تو اس کا ترک سنت ہوگا نہ کہ مستحب ۱۲ منہ غفرلہ ۔
حیث قال السنۃ ان کانت غیر مؤکدۃ فترکہا مکروہ تنزیھا وان کان الشیئ مستحبا او مندوبا ولیس بسنۃ فینبغی ان لایکون ترکہ مکروھا اصلا کما صرحوا بہ انہ یستحب یوم الاضحٰی ان لایاکل قالوا ولو اکل فلیس بمکروہ فلم یلزم من ترک المستحب ثبوت کراھتہ الا انہ یشکل علیہ ماقالوہ ان المکروہ تنزیھا خلاف الاولی ولا شک ان ترک المستحب خلاف الاولی ۱؎ اھ
ان کے الفاظ یہ ہیں:سنت اگرغیر مؤکدہ ہوتواس کا ترک مکروہ تنزیہی ہے اور کوئی شی مستحب یامندوب ہے اورسنت نہیں ہے تواس کا ترک مکروہ بالکل نہ ہوناچاہئے جیسے علماء نے تصریح فرمائی کہ عیدا ضحٰی کے دن نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر کھالیاتومکروہ نہیں تو ترکِ مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہ ہوامگر اس پر اشکال علماء کے اس قول سے پڑتا ہے کہ مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے اور اس میں شک نہیں کہ ترکِ مستحب خلافِ اولٰی ہے اھ۔
(۱؎ البحرالرائق     کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۲)
اما العلامۃ الشامی فاضطراب اقوالہ ھھنا اکثروا وفرففی مستحبات فــ الوضوء نقل مسألۃ الاکل یوم الاضحی واستظھر ان ترک المستحب لایکرہ حیث قال ''اقول :  وھذا ھو الظاھر ان النوافل فعلہا اولی ولا یقال ترکہا مکروہ ۲؎ اھ
لیکن علامہ شامی توان کے اقوال کا اضطراب یہاں بہت بڑھا ہوا ہے مستحباتِ وضومیں روزاضحی کھانے کامسئلہ نقل کیااورترکِ مستحب کے مکروہ نہ ہونے کوظاہر کہاعبارت یہ ہے: میں کہتاہوں یہی ظاہر ہے اس لئے کہ نوافل کی ادائیگی اولٰی ہے او ریہ نہیں کہاجاسکتا کہ ان کا ترک مکروہ ہے اھ۔
فــ : معروضۃ علی العلا مۃ ش۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴ )
ثم بعد صفحۃ رجع وقال قدمنا ان ترک المندوب مکروہ تنزیھا ۱؎ اھ
پھر ایک صفحہ کے بعدرجوع کیااورکہا:ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ترکِ مندوب مکروہِ تنزیہی ہے اھ
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ /۸۵ )
وقال فی مکروھات الوضوفـــ۱ المکروہ تنزیھا یرادف خلاف الاولی۲؎ اھ
مکروہاتِ وضو میں کہا: مکروہِ تنزیہی خلافِ اولٰی کا مرادف ہے اھ۔
فــــ۱ :    معروضۃ اخری علیہ ۔
(۲؎ردا لمحتار کتاب الطہارۃ      مکروہات الوضو     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۸۹)
ورجع آخر مکروھات الصلاۃ فقال الظاھر ان خلاف الاولی اعم فقد لایکون مکروھا حیث لادلیل خاص کترک صلاۃ الضحٰی ۳؎ اھ
اور مکروہاتِ نماز کے آخر میں رجوع کرکے کہا: ظاہر یہ ہے کہ خلافِ اولٰی اعم ہے بعض اوقات یہ مکروہ نہیں ہوتا یہ ایسی جگہ جہاں کوئی دلیل خاص نہ ہوجیسے نماز چاشت کا ترک اھ۔
(۳؎ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۴۳۹)
وقال فی صدرھافــ۲قلت ویعرف ایضا بلا دلیل نھی خاص بان تضمن ترک واجب اوسنۃ فالاول مکروہ تحریما والثانی تنزیھا ۴؎ اھ
مکروہاتِ نماز کے شروع میں کہا:میں کہتا ہوں اس کی معرفت نہی خاص کی دلیل کے بغیر بھی ہوتی ہے اس طرح کہ کسی واجب یا سنت کے ترک پر مشتمل ہو ۔اوّل مکروہ تحریمی ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی اھ۔
فــ۲ـــ :معروضۃ ثالث علیہ۔
(۴؎ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۴۲۹)
ورجع فی اخرھا فقال بعد ما مرو بہ یظھر ان کون ترک المستحب راجعا الی خلاف الاولی لایلزم منہ ان یکون مکروھا الا بنھی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل ۵؎ اھ
اور مکروہاتِ نمازکے آخرمیں رجوع کیا اس طرح کہ مذکورہ بالاعبارت کے بعدکہا:اوراسی سے ظاہر ہوتاہے کہ ترک مستحب خلافِ اولٰی کی طرف راجع ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں مگر یہ کہ خاص نہی ہواس لئے کہ کراہت ایک حکم شرعی ہے تو اس کے لئے کوئی دلیل ضروری ہے۔اھ۔
(۵؎ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۴۳۹)
ثم بعدفــ۱ ورقۃ رجع عن ھذا الرجوع فقال فی مسألۃ استقبال النیرین فی الخلاء الظاھر ان الکراھۃ فیہ تنزیہیۃ مالم یرد نھی خاص ۱؎ اھ
پھر ایک ورق کے بعد بیت الخلا میں سورج اور چاندکے رُخ پر ہونے کے مسئلہ میں اس سے رجوع کیا اورکہا :ظاہر یہ ہے کہ کراہت اس میں تنزیہی ہے جب تک کہ کوئی خاص نہی وارد نہ ہواھ۔
فـــ۱ معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلوٰہ     با ب یفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۴۰)
وقال فی فــــــــ۲المنحۃ عند قول البحر قد صرحوا بان التفات فــــ۳البصر یمنۃ ویسرۃ من غیر تحویل الوجہ اصلا غیر مکروہ مطلقا والاولی ترکہ لغیر حاجۃ مانصہ ای فیکون مکروھا تنزیھا کما ھو مرجع خلاف الاولی کمامرعــہ۱
بحر کی عبارت ہے: علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ذرا بھی چہرہ پھیرے بغیر نگاہ سے دائیں بائیں التفات مطلقاً مکروہ نہیں اوراولٰی یہ ہے کہ کوئی حاجت نہ ہو تواس سے بازر ہے۔اس پر منحۃ الخالق میں لکھا: یعنی ایسی صورت میں یہ مکروہ تنزیہی ہو گا جیسا کہ یہ خلافِ اولٰی کا مآل ہے ۔جیساکہ گزرا۔
فــ۲ معروضۃ خامسۃ علیہ۔

فــ۳ مسئلہ:نماز میں اگر کن انکھیوں سے بے گردن پھیرے ادھر ادھر دیکھے تو مکروہ نہیں ہاں بے حاجت ہوتو خلاف اولٰی ہے ۔ 

عـــہ۱ای فی البحر صدر المکروہات ان المکروہ تنزیہا ومرجعہ الی ما ترکہ اولی ۲؎اھ منہ

عــہ۱ یعنی بحر کے اندرمکروہات نماز کے شروع میں گزرا کہ مکروہ تنزیہی کا مرجع ترک  اولٰی ہے ۱۲منہ (ت)
(۲؎ البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹ )
و بہ صرح فی النھر وفی الزیلعی وشرح الملتقی للباقانی انہ مباح لانہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یلاحظ اصحابہ فی صلاتہ بموق عینیہ ولعل المراد عند عدم الحاجۃ عـــہ۲ فلا ینافی ماھنا ۱؎ اھ
اور نہر میں بھی اسی کی تصریح کی ہے۔ زیلعی میں اور باقانی کی شر ح ملتقی میں ہے کہ یہ مباح ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز میں گوشہ چشم سے ملاحظہ کیاکرتے تھے۔اور شاید مراد عدم حاجت کی حالت ہے تو یہ اس کے منافی نہیں جویہاں ہے اھ۔
عــہ ۲ اقول :  لعل لفظۃ عدم وقعت زائدہ من قلم الناسخ فالصواب عدم العدم اھ منہ (م)

عــہ ۲ اقول :  شاید لفظ'' عدم ''کاتب کے قلم سے سہوازائد ہوگیا ہے کیونکہ صحیح عدم عدم ہے(یعنی یہ کہ مراد وقت حاجت ہے )۱۲منہ ۔ (ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ     باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۲۱)
ثم رجع عما قریب فقال خلاف الاولی اعم من امکروہ تنزیھا دائما بل قد یکون مکروھا ان وجد دلیل الکراھۃ والافلا ۲؎ اھ
پھرکچھ ہی آگے جاکر اس سے رجوع کرکے کہا:خلافِ اولٰی مکروہ تنزیہی سے اعم ہے اور ترکِ مستحب ہمیشہ خلافِ اولٰی ہوتا ہے ،ہمیشہ مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا بلکہ کبھی مکروہ ہوتا ہے اگردلیل کراہت موجود ہوورنہ نہیں۔
( ۲؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ     باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۲)
Flag Counter