تنبیہ(۳) : علامہ عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں قول سوم کو دوم کی طرف راجع کیا اور اپنے شیخ اکرم واخ اعظم محقق زین رحمہما اللہ تعالٰی کی تقریر سے یہ جواب دیا کہ ترک اسراف کو ادب یا مستحب گننا اسے مقتضی نہیں کہ اسراف مکروہ تنزیہی بھی نہ ہوا کہ آخر خلاف مستحب ہے اور خلاف مستحب خلاف اولی اور خلاف اولی مکروہ تنزیہی۔
قال فی المنحۃ قال فی النھر لانسلم ان ترک المندوب غیر مکروہ تنزیھا لما فی فتح القدیر من الجنائز والشہادات ان مرجع کراھۃ التنزیہ خلاف الاولی ولا شک ان تارک المندوب اٰت بخلاف الاولٰی۱؎۔ اھ
منحۃ الخالق میں ہے نہر میں کہا:ہم اسے نہیں مانتے کہ ترک مندوب،مکروہ تنزیہی نہیں اسلئے کہ فتح القدیر میں جنائز اورکتاب الشہادات میں لکھا ہے کہ کراہت تنزیہ کامآل خلافِ اولٰی ہے اور مندوب کوترک کرنے والا بلاشبہ خلافِ اولٰی کا مرتکب ہے اھ۔(ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱ /۲۹)
یہی جواب کلام بدائع پر محقق حلبی کی تقریر سے ہوگا۔ علّامہ شامی نے یہاں اُسے مقرر رکھا اور ردالمحتار میں صراحۃً اس کا اتباع کیا
حیث قال مامشی علیہ فی الفتح والبدائع وغیرھما من جعل ترکہ مندوبا فیکرہ تنزیھا ۲؎ اھ
(اس طرح کہ وہ لکھتے ہیں:جس پرفتح ،بدائع وغیرہما میں گئے ہیں وہ یہ ہے کہ ترک اسراف کو مندوب قراردیاہے تووہ اسراف تنزیہی ہوگا اھ۔(ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الاسراف فی الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۰ )
اقول : وباللّٰہ استعین
( میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں )
اولا فــ :
یہ معلوم کیجئے کہ مکروہ تنزیہی کی تحدید میں کلمات علما ء مختلف بھی ہیں اور مضطرب بھی، فتح القدیر کی طرح نہ ایک کتاب بلکہ بکثرت کتب میں ہے کہ کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی ہے اس طور پر ہر مستحب کا ترک بھی مکروہ تنزیہی ہونا چاہئے۔
فــ : مکروہ تنزیہی کی تحدید میں علماء کا اختلاف اورعبارات میں اضطراب۔
درمختار آخر مکروہاتِ نماز میں ہے :
یکرہ ترک کل سنۃ ومستحب ۳؎
ہر سنت اور مستحب کا ترک مکروہ ہے۔ (ت)
(۳؎ الدر المختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکر ہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی۱ /۹۳)
اور بہت محققین کراہت کیلئے دلیل خاص یا صیغہ نہی کی حاجت جانتے ہیں یعنی جبکہ فعل سے باز رہنے کی طلب غیر حتمی پر دال ہو۔
اقول : ولو قطعی فـــ۱ الثبوت فان المدار علی ماذکرنا من حال الطلب کما قدمنا تحقیقہ فی الجود الحلووان قال فی الحلیۃ من صدر الکتاب المنہی خلاف المامور فان کان النھی المتعلق بہ قطعی الثبوت والدلالۃ فحرام وان کان ظنی الثبوت دون الدلالۃ اوبالعکس فمکروہ تحریما وان کان ظنی الثبوت والدلالۃ فمکروہ تنزیہا ۱؎ اھ
اقول : اگرچہ دلیل قطعی الثبوت ہواس لئے کہ مداراسی پر ہے جسے ہم نے ذکرکیا یعنی یہ کہ طلب کاحال کیا ہے حتمی ہے یا غیر حتمی،جیساکہ اس کی تحقیق الجَود الحَلُو میں ہم کر چکے ۔اگرچہ حلیہ کے اندر شروع کتاب میں یہ لکھا ہے :منہی،مامور کامخالف ہے۔اگراس سے تعلق رکھنے والی نہی ثبوت اوردلالت میں قطعی ہوتووہ حرام ہے۔اور اگرثبوت میں ظنی ہودلالت میں نہیں،یا برعکس صورت ہوتومکروہِ تحریمی ہے۔اوراگر ثبوت ودلالت میں ظنی ہوتومکروہ تنزیہی ہے اھ۔(ت)
فـــ۱ :تطفل علی الحلیۃ۔
( ۱؎ حلیۃ ا لمحلی شرح منیۃ المصلی )
اور شک نہیں کہ اس تقدیر پر ترکِ مستحب مکروہ نہ ہوگا، مجمع الانہر باب الاذان میں ہے:
لاکراھۃ فی ترک المندوب ۲؎
(ترکِ مندوب میں کوئی کراہت نہیں۔(ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الصلوۃ باب الاذان دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۷۵)
اضطراب یہ کہ جن صاحب فــ۲ فتح قدس سرہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ خلاف اولٰی مکروہ تنزیہی ہے اور اوقاتِ مکروھہ نماز میں فرمایا کہ جانب ترک میں مکروہ تنزیہی جانب فعل میں مندوب کے رتبہ میں ہے
(ان کے الفاظ یہ ہیں: تحریم رتبہ میں فرض کے مقابل ہے اورکراہت تحریم رتبہ میں واجب کے مقابل اورکراہت تنزیہ مندوب کے رتبہ میں ہے۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت فصل فی اوقات المکروھۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۰۲)
اُنہی نے تحریر الاصول میں تحریر فرمایا کہ مکروہ تنزیہی وہ ہے جس میں صیغہ نہی وارد ہوا جس میں نہی نہیں وہ خلاف اولی ہے اور کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی کی طرف ہونا ایک اطلاق موسع کی بنا پر ہے
حیث قال فی الباب الاول من المقالۃ الثانیۃ من التحریر مسألۃ اطلاق المامور بہ علی المندوب مانصہ ''المکروہ منھی ای اصطلاحا حقیقۃ مجاز لغۃ والمراد تنزیھا ویطلق علی الحرام وخلاف الاولی مما لاصیغۃ فیہ والا فالتنزیھیۃ مرجعہا الیہ۱؎۔
اس طرح کہ تحریر الاصول مقالہ دوم کے با ب اول مسألہ اطلاق الماموربہ علی المندوب کے تحت لکھا: مکروہ اصطلاح میں حقیقۃً منہی ہے اور لغت میں مجازاً۔۔۔ اورمکروہ سے مراد تنزیہی ہے اور اس کا اطلاق حرام پر بھی ہوتاہے اور اس خلافِ اولٰی پربھی جس سے متعلق صیغہ نہی وارد نہیں ورنہ کراہت تنزیہ کامرجع وہی ہے (جس میں صیغہ نہی وارد ہو)۔(ت)
(۱؎ التحریر فی الاصول الفقہ المقا لۃ الثا نیۃ البا ب الاول مصطفی البابی مصر ص۲۵۷۔۲۵۶)
جس حلیہ فــ۱ میں یہ فرمایا کہ:
علی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ ۲؎
(اسراف کو خلاف ادب ٹھہرانے والے قول پر اصراف مکروہ نہ ہوگا (ت)
فـــ۱ تطفل علی الحلیۃ
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )
اُسی کے صدر میں ہے :
المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان ۳؎
مکروہ تنزیہی کا مرجع خلاف اولٰی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔(ت)
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )
جس غنیہ فـــ۲ کے اوقات میں باتباع فتح تصریح فرمائی کہ:
التنزیھیۃ مقابلۃ المندوب ۴؎
(کراہت تنزیہیہ بمقابلہ مندوب ہے۔ ت)
(۴؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الشرط الخامس سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۳۶)
فـــ۲ تطفل علی الغنیۃ ۔
اُسی کے مکروہات صلوٰۃ میں فرمایا:
الفعل ان تضمن ترک واجب فھو مکروہ کراھۃ تحریم وان تضمن ترک سنۃ فھو مکروہ کراھۃ تنزیہ ولکن تتفاوت فی الشدۃ والقرب من التحریمیۃ بحسب تاکد السنۃ ۱؎۔
فعل اگر ترکِ واجب پرمشتمل ہوتو مکروہِ تحریمی ہے اور ترکِ سنّت پر مشتمل ہوتومکروہِ تنزیہی،لیکن یہ شدّت اورمکروہِ تحریمی سے قرب کے معاملہ میں سنّت کے تاکید پانے کے لحاظ سے تفاوت رکھتاہے۔(ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل مکروہا ت الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۵)