التنبیہ الثانی : کان عرّض علی البحر واتی بالتصریح علی الدر فقال ماذکرہ الشارح ھنا قد علمت انہ لیس من کلام مشائخ المذھب ۲؎ اھ
تنبیہ(۲):
صاحبِ بحر پر تو تعریض کی تھی اورصاحبِ درمختار کے معاملہ میں توتصریح کردی اور لکھا کہ:''شارح نے یہاں جو بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ مشائخ مذہب میں سے کسی کاکلام نہیں''اھ
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار ا حیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۰)
اقول : والدر فــ ایضا مصفی عن ھذا الکدر کدر مکنون وانما اغتر المحشی العلامۃ بقولہ لوبماء النھر ولم یفرق بین تعبیری التوضی من النھر وبماء النھر ورأیتنی کتبت ھھنا علی الدر قولہ لوبماء النھر۔
اقول : اس کدورت سے دُربھی کسی دُرِّ مکنون کی طرح صاف ہے۔ علامہ محشی کو درمختار کے لفظ''لوبماء النھر''سے دھوکا ہوا اور التوضّی من النھراور التوضّی بماء النھر(دریا سے وضو کرنا اوردریا کے پانی سے وضو کرنا)کی تعبیروں میں فرق نہ کرسکے۔یہاں دُرِ مختار کے قول ''لو بماء النھر'' پردیکھا کہ میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے:
فـــ: معروضۃ رابعۃ علیہ
اقول : ای فی الارض لافی النھر واراد تعمیم الماء المباح والمملوک اخراجا للماء الموقوف فلا ینافی ماقدمہ عن القھستانی عن الجواھر ۳؎ ماکتبت علیہ۔
اقول : (پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر نہر کے پانی سے طہارت حاصل کرے) یعنی نہر کے پانی سے زمین میں (وضوکرے) نہر کے اندرنہیں انہوں نے وقف شدہ پانی کو خارج کرنے کے لئے حکم آب مباح اورآب مملوک کو عام کرنا چاہا ہے تو یہ اس کے منافی نہیں جو وہ قہستانی کے حوالے سے جواہر سے سابقاً نقل کرچکے۔ اھ۔میرا حاشیہ ختم ہوا۔
(۳؎جد الممتار علی رد المحتا ر کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارک پور اعظم گڑھ (ہند )۱ /۹۹)
ومما اکد الاشتباہ علی العلامۃ المحشی ان المحقق الحلبی فی الحلیۃ نقل مسألۃ الماء الموقوف وماء المدارس عن عبارۃ الشافعی المتأخر۔فتمامھا بعد قولہ مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی ومحل الخلاف مااذا توضا ء من نھر اوماء مملوک لہ فان توضأ من ماء موقوف حرمت الزیادۃ والسرف بلا خلاف لان الزیادۃ غیر ماذون فیھا وماء المدارس من ھذا القبیل لانہ انما یوقف ویساق لمن یتوضؤ الوضوء الشرعی ولم یقصدا باحتہا لغیر ذلک ۱؎اھ
اور علامہ شامی کے اشتباہ کو تقویت اس سے بھی ملی کہ محقق حلبی نے آب موقوف اور آب مدارس کا مسئلہ شافعی متاخر کی عبارت سے نقل کیا کیونکہ ان شافعی کے قول'' مکروہ برقولِ صحیح ،اور کہا گیا حرام اورکہاگیا خلافِ اولٰی'' کے بعد ان کی بقیہ عبارت یہ ہے: اورمحلِ اختلاف وہ صورت ہے جب نہرسے وضوکیاہویااپنی ملکیت کے پانی سے کیا ہوتوزیادتی واسراف بلا اختلاف حرام ہے اس لئے کہ زیادتی کی اجازت نہیں اور مدارِس کاپانی اسی قبیل سے ہے اس لئے کہ وہ ان لوگوں کے لئے وقف ہوتا اورلایا جاتا ہے جو اس سے وضو ئے شرعی کریں اور ان کے علاوہ کے لئے اس کی اباحت مقصود نہیں ہوتی اھ۔
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ثم رأی المسألتین فی عبارتی البحر والدر ورأی الحکم فیھما بکراھۃ التحریم فسبق الی خاطرہ انھما تبعا قیل التحریم العام ولیس کذلک فان حرمۃ الاسراف فی الاوقاف مجمع علیھا وقد غیرا فی التعبیر بما یبرئھما عن تعمیم التحریم فلم یقولا توضأ من نھر بل قال البحر ھذا اذا کان ماء نھر۱؎ وقال الدر لوبماء النھر ۲؎والفرق فی التعبرین لایخفی علی المتأمل ۔
پھرعلامہ شامی نے یہ دونوں مسئلے بحر اوردرکی عبارتوں میں بھی دیکھے یعنی یہ کہ ان دونوں میں کراہت تحریم کا حکم موجود ہے۔تو ان کاذہن اس طرف چلاگیا کہ دونوں نے تحریم عام کے قول کی پیروی کرلی ہے۔حالاں کہ ایسا نہیں۔ اس لئے کہ اوقاف میں اسراف کی حرمت اجماعی ہے اوردونوں حضرات نے تعبیر میں اتنی تبدیلی کردی جس کے باعث تحریم کوعام قرار دینے سے بری ہوگئے۔ توان حضرات نے
''توضّأ من نھر''
(دریا سے وضو کیا)نہ کہابلکہ بحرنے کہا:
ھذا اذا کان ماء نھر
( یہ حکم اس وقت ہے جب دریا کا پانی ہوالخ) اورصاحب درمختارنے کہا:لوبماء النھر (اگردریا کے پانی سے وضو کرے الخ)اور تأمل کرنے والے پردونوں تعبیروں کافرق مخفی نہیں۔
وبیان ذلک علی مااقول : ان المتوضیئ من النھر وان لم یدل مطابقۃ الا علی التوضی بالاغتراف منہ لکن یدل عرفا علی نفی الواسطۃ فمن ملأکوزا من نھر واغترف عند التوضی من الکوز لایقال توضأ من النھر بل من الکوز الاعلی ارادۃ حذف ای بماء ماخوذ من النھر والتوضی من نھر بلا واسطۃ انما یکون فی متعارف الناس بان تدخل النھر اوتجلس علی شاطئہ وتغترف منہ بیدک وتتوضأ فیہ فوقوع الغسالۃ فی النھر ھو الطریق المعروف للتوضی من النھر فیدل علیہ دلالۃ التزام للعرف المعہود بخلاف التوضی بماء النھر فلا دلالۃ لہ علی وقوع الغسالۃ فی شیئ اصلا الاتری ان من توضأ فی بیتہ بماء جُلب من النھر تقول توضأ بماء النھر لامن النھر ھذا ھو العرف الفاشی والفرق فی الاسراف بین الماء الجاری وغیرہ بانہ تضییع فی غیرہ لافیہ انما یبتنی علی وقوع الغسالۃ فیہ ولا نھر وسکبہا علی الارض من دون نفع فقد ضیع وان افرغ جرۃ عندہ فی نھر لم یضیع والدال علی ھذا المبنی ھو لفظ من نھر لالفظ بماء النھر کما علمت ففی الاول تکون دلالۃ علی تعمیم التحریم لافی الثانی ھذا ھو الفارق بین تعبیر ذلک الشافعی وتعبیر البحر والدر وحینئذ وغیرھا فلا یکون متبعا لقیل فی غیر المذھب۔
اقول : اس کی توضیح یہ ہے کہ التوضی من النھر(دریاسے وضوکرنا)اگرمعنی مطابقی کے لحاظ سے یہی بتاتا ہے کہ اس سے ہاتھ یا برتن میں پانی لے کروضوکرنا لیکن عرفاً اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس سے بغیرکسی واسطہ کے وضو کرنا تواگر کسی نے برتن میں دریا سے پانی بھر لیا اور وضو کے وقت برتن سے ہاتھ میں پانی لے کر وضو کیا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے دریا سے وضو کیا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ برتن سے وضوکیا۔ مگر خذف مراد لے کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ دریا سے۔ یعنی دریا سے لئے ہوئے پانی سے وضو کیا۔ اورنہر سے بلا واسطہ وضو کرنے کی صورت لوگوں کے عرف میں یہ ہوتی ہے کہ کوئی دریا کے اندر جا کر۔یا اس کے کنارے بیٹھ کر اس سے ہاتھ میں پانی لیتے ہوئے اسی میں وضوکرے کہ غُسالہ دریاہی میں گرے یہی نہرسے وضو کا معروف طریقہ ہے کہ غُسالہ اسی میں گرتا ہے تو عرف معلوم کے سبب اس پراس لفظ کی دلالت التزامی پائی جائے گی۔اور التوضی بماء النھر(دریا کے پانی سے وضوکرنے) کا مفہوم یہ نہیں ہوتا اس لفظ کی دلالت کسی چیز کے اندر غسالہ کے گرنے پر بالکل نہیں ہوتی۔دیکھئے اگر کسی نے اپنے گھر میں اُس پانی سے وضو کیاجودریاسے لایاگیاتھا تویہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاکے پانی سے وضو کیااوریہ نہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاسے وضوکیا۔ یہی عام مشہور عرف ہے۔ آبِ رواں اورغیر رواں کے درمیان اسراف میں یہ فرق کہ غیر جاری میں پانی برباد ہوتا ہے اورجاری میں برباد نہیں ہوتا، اس کی بنیادغسالہ کے اس کے اندر گرنے ہی پرہے۔اور اس فرق میں ہاتھ یا برتن سے پانی لینے کوکوئی دخل نہیں کیوں کہ اگرکسی نے دریا سے گھڑا بھر کر زمین پر بے فائدہ بہادیاتو اس نے پانی بربادکیا۔ا ور اگر اپنے پاس کا بھرا ہوا گھڑادریا میں اُنڈیل دیا تو اس نے پانی برباد نہ کیا اور اس بنیاد کو بتانے والالفظ وہی''من نھر'' (دریاسے) ہے'' بما النھر'' (دریا کے پانی سے)نہیں جیسا کہ واضح ہوا۔ تو من نھر کہنے میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ حکم تحریم دریا سے وضو کوبھی شامل ہے اور بماء النھر کہنے میں یہ دلالت نہیں ہوتی ۔ یہی فرق ہے ان شافعی کی تعبیر میں اور بحر ودر کی تعبیر میں۔اورجب ایسا ہے تو صاحبِ دُر اپنے ساتھ جو اہر کو بھی پائیں گے اور منتقی ونہروغیرہا کو بھی۔تووہ غیر مذہب کے کسی قولِ ضعیف کی پیروی کرنے والے نہ ہوں گے۔
اقول : فـــ بتحقیقنا ھذا ظھر الجواب عما اخذ بہ الامام المحقق الحلبی فی الحلیۃ علی المشائخ حیث یطلقون ھھنا من مکان فی یقولون توضا من حوض من نھر من کذا ویریدون وقوع الغسالۃ فیہ قول فی المنیۃ اذا کان الرجال صفوفا یتوضوء ن من الحوض الکبیر جاز ۱؎ قال فی الحلیۃ التوضی منہ لایستلزم البتۃ وقوع الغسالۃ فیہ بخلاف التوضی فیہ ووقوع غسالاتھم فیہ ھو مقصود الافادۃ ۲؎ واطال فی ذلک وکررہ فی مواضع من کتابہ وھو من باب التدنق والمشائخ یتساھلون باکثر من ھذا فکیف وھو المفاد من جہۃ المعتاد۔
اقول : ہماری اسی تحقیق سے اس کا جواب بھی واضح ہوگیا جو امام محقق حلبی نے حلیہ میں حضرات مشائخ پرگرفت کی ہے اس طرح کہ وہ حضرات یہاں''فی''(میں) کی جگہ''من''(سے) بولتے ہیں کہتے ہیں توضأ من حوض، من نھر، من کذا (حوض سے ،دریا سے، فلاں سے وضو کیا)اور مراد یہ لیتے ہیں کہ غسالہ اسی میں گرا۔ منیہ میں لکھا:جب بہت سے لوگ قطاروں میں کسی بڑے حوض سے وضوکرنا جائز ہے ۔اس پر حلیہ میں لکھا:حوض سے وضو کرناقطعی طورپراس بات کو مستلزم نہیں کہ غسالہ اسی میں گرے بخلاف حوض میں وضو کرنے کے۔ اورلوگوں کاغسالہ اس میں گرتا ہوسے یہی بتانا مقصود ہے۔اس اعتراض کو بہت طویل بیان کیا ہے اور اپنی کتاب کے متعددمقامات پر باربار ذکرکیاہے حالاں کہ یہ عبارت میں بے جا تدقیق کے باب سے ہے۔ حضرات مشائخ تواس سے بہت زیادہ تسامح سے کام لیتے ہیں پھراس میں کیا جب کہ عرف عام اور طریق معمول کا مفاد بھی یہی ہے۔(ت)
فـــ:تطفل علی الحلیۃ ۔
(۱؎ منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۷)
(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)