Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
77 - 135
(۴) نہر جاری میں اسراف جائز کہ پانی ضائع نہ جائے گا اور اس کے غیر میں مکروہ تحریمی۔ مدقق علائی نے درمختار میں اسی کو مختار رکھا علامہ مدقق عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں کراہت تحریم ہی کو ظاہر کہا اور اُسی کوامام قاضی خان وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما اکابر کا مفاد کلام قرار دیا کہ ترک اسراف کو سنّت کہنے سے اُن کی مراد سنتِ مؤکدہ ہے اور سنتِ مؤکدہ کا ترک مکروہ تحریمی، نیز مقتضائے کلام امام زیلعی کہ مطلق مکروہ سے غالباً مکروہ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ اور بحرالرائق میں اسے قضیہ کلام منتقٰی بتایا کہ اُس میں اسراف کو منہیات سے شمار فرمایا اور ہر منہی عنہ کم ازکم مکروہ تحریمی ہے۔
اقول :  اور یہی عبارت آئندہ جواہر الفتاوٰی سے مستفاد
لفحوٰھا اذا لمفاھیم فـــ معتبرۃ فی الکتب کما فی الدر والغمز والشامی وغیرھا والقضیۃ دلیلہا ایضا کما لایخفی۔
اس کے مضمون وسیاق کے پیش نظر کیونکہ کتابوں میں مفہوم معتبرہوتاہے جیسا کہ درمختار،غمز العیون اورشامی وغیرہا میں ہے۔اوراس کے مقتضائے دلیل کے پیش نظر بھی، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
فـــ :المفاہیم معتبرۃ فی الکتب بالاتفاق۔
شرح تنویر میں ہے:
بل فی القہستانی معزیا للجواھر الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع فتامل ۱؎۔
بلکہ قہستانی میں جوہر کے حوالے سے ہے کہ بہتے پانی میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی بے کار نہ جائے گا، تو تامل کرو۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ      مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۲)
پھر فرمایا:
مکروھہ الاسراف فیہ تحریما لوبماء النھر ولمملوک لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ ماء المدارس فحرام ۲؎۔
پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر دریاکاپانی یااپنی ملکیت کاپانی استعمال کرے لیکن طہارت حاصل کرنے والوں کے لئے وقف شدہ پانی ہوجس میں مدارِس کا پانی بھی داخل ہے تواسراف حرام ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ          مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۴)
بحر میں ہے:
صرح الزیلعی بکراھتہ وفی المنتقی انہ من المنھیات فتکو ن تحریمیۃ ۳؎۔
امام زیلعی نے اس کے مکروہ ہونے کی صراحت فرمائی اورمنتقٰی میں اسے منہیات سے شمار کیا تویہ مکروہِ تحریمی ہوگا۔(ت)
(۳؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۲۹)
منحۃ الخالق میں نہر سے ہے:
الظاھر انہ مکروہ تحریما اذ اطلاق الکراھۃ مصروف الی التحریم فما فی المنتقی موافق لما فی السراج عـــہ والمراد بالسنۃ المؤکدۃ لاطلاق النھر عن الاسراف وبہ یضعف جعلہ مندوبا ۱؎۔
ظاہریہ ہے کہ اسراف مکروہِ تحریمی ہے اس لئے کہ کراہت مطلق بولی جائے تو تحریمی کی جانب پھیری جاتی ہے تو منتقٰی کا کلام سراج کے مطابق ہے اورسنت سے مراد سنتِ مؤکدہ ہے اس لئے کہ اسراف سے مطلقاً نہی ہے اور اسی سے اُسے مندوب قراردیناضعیف ہوجاتا ہے۔(ت)
( ۱ ؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۹)
عـــہ: قال فی المنحۃ صوابہ لما فی الخانیۃ کما لایخفی اذلا ذکر للسراج فی قولہ ولافی الشارح ۱؎ ای صاحب البحر
وانا اقول :  ھذا بعید خطا ومعنی اما الاول فظاھر اذ لامناسبۃ بین لفظی السراج والخانیۃ واما الثانی ف فلان النھر فرع موافقۃ المنتقی المصرح بکونہ من المنھیات علی اطلاق الکراھۃ فان مطلقھا یحمل علی التحریم ولا ذکر للکراھۃ فی عبارۃ الخانیۃ نعم اراد توجیہ ما فی الخانیۃ الی مااستظھرہ بقولہ بعد والمراد بالسنۃ ۲؎الخ واقرب خطا ومعنی بل الذی یجزم السامع بانہ ھو الواقع فی اصل نسخۃ النھر فحرفہ الناسخ ان نقول صوابہ لمافی الشرح والمراد بالشرح التبیین فی شرح مشروح البحر والنھر الکنز للامام الزیلعی فانہ ھو الذی صرح بالکراھۃ واطلقہا ونقلہ البحر وقرنہ بکلام المنتقی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ اھ عفی عنہ
منحۃ الخالق میں ہے صحیح یہ کہنا ہے کہ ''خانیہ کے مطابق'' جیسا کہ پوشیدہ نہیں اس لئے کہ سراج کا کوئی تذکرہ نہ تو کلامِ نہر میں ہے نہ کلامِ شارح یعنی کلامِ بحر میں ہے۔
اقول :  یہ خط اورمعنی دونوں اعتبار سے بعید ہے اول توظاہر ہے اس لئے کہ لفظ''سراج'' اورلفظ ''خانیہ'' میں کوئی مناسبت نہیں۔ اورثانی اس لئے کہ کلام منتقی جس میں اسراف کے منہیات سے ہونے کی تصریح ہے اس کی کلام دیگرکے ساتھ مطابقت کی تفریع صاحبِ نہر نے اس پرفرمائی ہے کہ کراہت مطلق بولی جاتی ہے تو کراہت تحریم پرمحمول ہوتی ہے اور عبارت خانیہ میں کراہت کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ہاں انہوں نے کلام خانیہ کی توجیہ اس عبارت سے کرنی چاہی ہے جو بعد میں لکھی ہے کہ سنت سے مراد سنتِ مؤکدہ ہے الخ۔رسم الخط اورمعنی دونوں لحاظ سے قریب تربلکہ جسے سننے کے بعد سامع جزم کرے کہ یقینا نہر کے اصل نسخہ میں یہی ہوگا اور کاتب نے تحریف کردی ہے یہ ہے کہ ہم کہیں صحیح عبارت ''موافق لمافی الشرح'' ہے، یعنی کلام منتقی اس کے مطابق ہے جوشرح میں ہے۔ اورشرح سے مرادامام زیلعی کی تبیین الحقائق ہے جو البحر الرائق اور النہر الفائق کے متن کنزالدقائق کی شرح ہے۔اسی میں کراہت کی صراحت اور اطلاق ہے اسی کوصاحبِ بحر نے نقل کیا اور اس کے ساتھ منتقٰی کا کلام ملادیا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
فــ: معروضۃ علی العلامۃ ش۔
( ۱ ؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق     کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۹)

(۲ ؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق     کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۹)
التنبیہ الاول : عرض العلامۃ الشامی نورقبرہ السامی بالمحقق صاحب البحر انہ تبع قولا لیس لاحد من اھل المذھب حیث قال ''قولہ تحریما الخ نقل ذلک فی الحلیۃ عن بعض المتاخرین من الشافعیۃ وتبعہ علیہ فی البحر وغیرہ ۲؎الخ
تنبیہ(۱) علامہ شامی'' نور قبرہ السامی''نے محقق صاحبِ بحرپرتعریض فرمائی کہ انہوں نے ایک ایسے قول کااتباع کر لیا جو اہل مذہب میں سے کسی کانہیں،اس طرح کہ وہ درمختار کے قول تحریماالخ کے تحت لکھتے ہیں: اسے حلیہ میں بعض متاخرین شافعیہ سے نقل کیا ہے جس کی پیروی صاحبِ بحر وغیرہ نے کرلی ہے الخ۔
(۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ             دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۹)
اب بتوفیق اللہ تعالٰی یہاں تحقیق مقام وتنقیح مرام وتصحیح احکام ونقض وایرام کیلئے بعض تنبیہات نافعہ ذکر کریں۔
اقول :  لم یتبعہ فـــ البحر بل استوجہ کراھۃ التنزیہ ثم نقل عن الزیلعی کراھتہ وعن المنتقی النھی عنہ وافاد ان مقتضاہ کراھۃ التحریم وھذا لیس اختیار الہ بل اخبار عما یعطیہ کلام المنتقی کما اخبر اولا ان قضیۃ عدم الفتح ترکہ من المندوبات عدم کراھتہ اصلا فلیس فیہ میل الیہ فضلا عن الاتباع علیہ ولا سیما لیس فی کلامہ التنصیص بجریان الحکم فی الماء الجاری والاطلاق لایسد ھھنا مسد الفصاح بالتعمیم للفرق البین بالتضییع وعدمہ فکیف یجعل متابعا للقول الاول وعن ھذا ذکرنا کل من قضیۃ کلام المنع فی القول الرابع دون الاول اذلا ینسب الا الی من یفصح بشمول الحکم النھر ایضا نعم تبعہ علیہ فی الغنیۃ اذقال الاسراف مکروہ بل حرام وان کان علی شط نھر جار لقولہ تعالی ولا تبذر ۱؎ تبذیرا اھ
    اقول :
 صاحبِ بحر نے ا س کی پیروی نہیں کی بلکہ انہوں نے مکروہ تنزیہی ہونے کو اَوجَہ کہا پھر امام زیلعی سے اس کا مکروہ ہونا اور منتقی سے منہی عنہ ہونانقل کیا اور افادہ کیا کہ اس کا مقتضاکراہت تحریم ہے۔یہ اس قول کواختیار کرنا نہ ہوا بلکہ منتقٰی سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے بتانا ہوا جیسے اس سے پہلے انہوں نے بتایاکہ صاحبِ فتح کے ترک اسراف کومندوبات سے شمارکرنے کا مقتضایہ ہے کہ اسراف بالکل مکروہ نہ ہوتواس میں اس کا اتباع درکناراس کی جانب میلان بھی نہیں ،خصوصاً جبکہ ان کے کلام میں آبِ رواں کے اندرحکمِ اسراف جاری ہونے کی تصریح بھی نہیں۔اورمطلق بولنا اس مقام پرحکم کوصاف صریح طورپرعام قراردینے کے قائم مقام نہیں ہوسکتااس لئے کہ پانی کوضائع کرنے اور نہ کرنے کا بیّن فرق موجود ہے توانہیں قول اول کا متبع کیسے ٹھہر ایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے جن حضرات کے کلام کامقتضا ممانعت ہے انہیں ہم نے قول چہارم میں ذکر کیا،قول اول کے تحت ذکر نہ کیا اس لئے کہ قولِ اوّل اسی کی جانب منسوب ہوسکتا ہے جو صاف طور پر اس کا قائل ہوکہ اسراف کاحکم دریا کوبھی شامل ہے۔ہاں اس قول کی پیروی غنیہ میں ہے کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں: اسراف مکروہ بلکہ حرام ہے اگرچہ نہر جاری کے کنارے ہو اس لئے کہ باری تعالٰی کا ارشاد ہے ولا تبذر تبذیرا اور فضول خرچی نہ کر اھ۔(ت)
فـــ: معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۵۔۳۴)
Flag Counter