Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
76 - 135
رسالہ برکات السماء فی حکم اسراف الماء

(بے جا پانی خرچ کرنے کے حکم کے بار ے میں آسمانی برکات )
امر پنجم  :
طہارت فــــ میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنا کیا حکم رکھتا ہے۔
فــــ:مسئلہ وضو یا غسل میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے کا کیا حکم ہے اور اس باب میں مصنف کی تحقیق مفرد ۔
اقول :  ملاحظہ کلمات علما ء سے اس میں چار قول معلوم ہوتے ہیں، ان میں قوی تر دو ہیں اور فضلِ الٰہی سے امید ہے کہ بعد تحقیق وحصول توفیق اختلاف ہی نہ رہے وباللہ التوفیق۔
 (۱) مطلقاً حرام وناجائز ہے حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اُس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ وناروا ہے یہ قول بعض شافعیہ کا ہے جسے خود شیخ مذہب شافعی سیدنا امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں نقل فرماکر ضعیف کردیا اور اسی طرح دیگر محققین شافعیہ نے اُس کی تضعیف کی۔
 (۲) مکروہ ہے اگرچہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنز یہی ہے۔ اگرچہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے حلیہ وبحرالرائق میں اسی کو اوجہ اور امام نووی نے اظہر اور بعض دیگر ائمہ شافعیہ نے صحیح کہا اور حکم آب جاری کو عام ہونے سے قطع نظر کریں تو کلام امام شمس الائمہ حلوانی وامام فقیہ النفس سے بھی اُس کا استفادہ ہوتا ہے ہاں شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں عموم کی طرف صاف اشارہ کیا،
اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا:
اجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوکان علی شاطیئ البحر والاظھر انہ مکروہ کراھۃ تنزیہ وقال بعض اصحابنا الاسراف حرام ۱؎۔
اس پر علماء کا اجماع ہے کہ پانی میں اسراف منع ہے اگرچہ سمندرکے کنارے پرہو،اوراظہریہ ہے کہ مکروہِ تنزیہی ہے ،اورہمارے بعض اصحاب نے فرمایاکہ اسراف حرام ہے۔(ت)
(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتا ب الطہارۃ     باب القدر المستحب من الماء الخ    دارالفکر بیروت     ۲ /۱۳۷۴)
منیہ وحلیہ میں فرمایا:
م  ولا یسرف فی الماء ۲؎   ش   ای لا یستعمل منہ فوق الحاجۃ الشرعیۃ ۳؎ م
(م کے تحت متن کے الفاظ ہیں ش کے تحت شرح کے۱۲م) م پانی میں اسراف نہ کرے ش یعنی حاجتِ شرعیہ سے زیادہ پانی استعمال نہ کرے۔
(۲؎ منیۃ المصلی    آداب الوضوء        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۲۹)

(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
وان کان علی شط نھر جار ۱؎ ش ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ سنۃ وعلیہ مشی قاضی خان وھو اوجہ کما ھو غیر خاف فالاسراف یکون مکروھا کراھۃ تنزیہ وقد صرح النووی انہ الاظھر وحکی حرمۃ الاسراف عن بعض اھل مذھبہ وعبارۃ بعض المتأخرین منھم والزیادہ فی الغسل علی الثلث مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی ۲؎
م اگرچہ بہتے دریاکے کنارے ش شمس الائمہ حلوانی نے ذکرکیا کہ یہ سنت ہے۔اسی پر قاضی خاں چلے اور یہ اَوجہ ہے جیساکہ پوشیدہ نہیں۔تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ اور امام نووی نے اس کے اظہر ہونے کی تصریح کی اوراسراف کا حرام ہونا اپنے بعض اہل مذہب سے حکایت کیا اوران حضرات شافعیہ کے بعد متاخرین کی عبارت یہ ہے : تین بار سے زیادہ دھونا صحیح قول پر مکروہ ہے او ر کہا گیا کہ حرام ہے اور کہا گیا کہ خلاف اولٰی ہے (ت)
(۱؎ منیۃ المصلی    آداب الوضوء        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۲۹)

(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
بحرالرائق میں ہے:
الاسراف ھو الاستعمال فوق الحاجۃ الشرعیہ وان کان علی شط نھر وقد ذکر قاضی خان ترکہ من السنن ولعلہ الاوجہ فیکون مکروھا تنزیھا۳؎۔
اسراف یہ ہے کہ حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرے اگرچہ دریاکے کنارے ہو، اور قاضی خاں نے ذکرکیا ہے کہ اس کا ترک سنت ہے اور شاید یہی اَوجہ ہے تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔(ت)
(۳؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)
(۳) مطلقا مکروہ تک نہیں نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایک ادب وامر مستحب کے خلاف ہے بدائع امام ملک العلما ابو بکر مسعود وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنیۃ المصلی وغیرہا میں ترک اسراف کو صرف آداب ومستحبات سے شمار کیا سنت تک نہ کہا اور مستحب کا ترک مکروہ نہیں ہوتا بلکہ سنت کا۔
حلیہ میں ہے :
قال فی البدائع والادب فیما بین الاسراف والتقتیر اذالحق بین الغلو والتقصیر قال النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خیر الامور اوسطہا انتھی وذکر الحلوانی انہ سنہ فعلی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ وعلی الثانی کراھۃ تنزیہ ۱؎۔
بدائع میں فرمایا ادب اسراف اور تقتیر(زیادتی اورکمی) کے درمیان ہے اس لئے کہ حق ،غلو اور تقصیر(حد سے تجاوز اور کوتاہی)کے مابین ہے، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:کاموں میں بہتر درمیانی ہیں، انتہی۔اور امام حلوانی نے ذکرفرمایاکہ ترکِ اسراف سنّت ہے توقول اول کی بنیاد پر اسراف مکروہ نہ ہوگا اورثانی کی بنیاد پر مکروہ تنزیہی ہوگا۔(ت)
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
بحر میں ہے  :
فی فتح القدیر ان المندوبات نیف وعشرون ترک الاسراف والتقتیر وکلام الناس ۲؎ الخ فعلی کونہ مندوبا لایکون الاسراف مکروھا وعلی کونہ سنۃ یکون مکروھا تنزیھا۔
فتح القدیر میں ہے کہ مندوباتِ وضو بیس(۲۰) سے زیادہ ہیں۔اسراف وتقتیر اورکلام دنیاکاترک الخ۔توترک مندوب ہونے کی صورت میں اسراف مکروہ نہ ہوگااورسنّت ہونے کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہوگا۔(ت)
(۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)
غنیہ میں ہے:
 (و) من الاداب (ان کان یسرف فی الماء) کان ینبغی ان یعدہ فی المناھی لان ترک الادب لاباس بہ ۳؎۔
 (اور)آداب میں سے یہ ہے کہ (پانی میں اسراف نہ کرے) اسے ممنوعات میں شمارکرناچاہئے تھا اس لئے کہ ترکِ ادب میں توکوئی حرج نہیں۔(ت)
 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۴)
اقول :
طہارت فـــــــ میں ترک اسراف کا صرف ایک ادب ہونا مذہب وظاہر الروایۃ ونص صریح محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے، امام بخاری نے خلاصہ فصل ثالث فی الوضوء میں ایک جنس سنن وآداب وضو میں وضع کی اُس میں
فرمایا:فــ : تطفل علی الغنیۃ ۔
اما سنن الوضوء فنقول من السنۃ غسل الیدین الی الرسغین ثلثا ۱؎الخ
لیکن وضو کی سنتیں،توہم کہتے ہیں سنت ہے دونوں ہاتھ گٹوں تک تین بار دھونا الخ۔(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی      کتاب الطہارۃ الفصل الثالث     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۲۱)
پھر سُنتیں گنا کر فرمایا:
واما اداب الوضوء فی الاصل من الادب ان لایسرف فی الماء ولا یقتر ان یشرب فضل وضوئہ اوبعضہ قائما اوقاعدا مستقبل القبلۃ ۲؎ الخ
رہے آدابِ وضو، تو اصل(مبسوط) میں ہے کہ ادب یہ ہے کہ پانی میں نہ اسراف کرے نہ کمی کرے اور اپنے وضو کا بچا ہوا کُل یا کچھ پانی کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر قبلہ رُوپی جائے الخ۔(ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی      کتاب الطہارۃ الفصل الثالث     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۲۵)
اُسی کا بدائع وفتح القدیر ومنیہ وخلاصہ وہندیہ وغیرہا میں اتباع کیا اور اُس سے زائد کس کا اتباع تھا تو اُس پر مواخذہ محض بے محل ہے واللہ الموفق۔
Flag Counter