Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
75 - 135
اقول :  بل لربما تبقی الحفنۃ باقیۃ فضلا عن الکفۃ والدلیل علیہ ھذا الحدیث الذی ذکرنا تخریجہ عن الامام احمد وابی داؤد وابن خزیمۃ وابو یعلی والامام الطحاوی وابن حبان والضیاء عن ابن عباس عن علی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وعلیہم وسلم حیث قال بعد ذکر غسل الوجہ بثلث حفنات کما تقدم ثم اخذ بکفہ الیمنی قبضۃ من ماء فصبہا علی ناصیتہ فترکہا تستن علی وجہہ ثم غسل ذراعیہ الی المرفقین ثلثا ثلثا۱؎ الحدیث وھذا ایضا معلوم مشاھد۔
اقول :  بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے لینے پر بھی کچھ حصہ باقی رہ جائے گا صرف ہتھیلی بھر لینے کی توبات ہی کیاہے۔ اس پر دلیل یہی حدیث ہے جس کی تخریج ہم نے امام احمد،ابوداؤد،ابن خزیمہ، ابو یعلی، امام طحاوی، ابن حبان اور ضیاء سے ذکر کی، جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے اس میں جیسا کہ گزرا تین لپ سے چہرہ دھونے کے تذکرے کے بعد ہے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھرپانی لے کر پیشانی پر ڈال کر اسے چہرے پر بہتا چھوڑدیا۔ پھر اپنی کلائیوںکوکہنیوں تک تین تین بار دھویا۔ یہ بھی تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ     باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۶)
وبالجملۃ لولم یصرف حدیث الغرفۃ عن ظاھرہ لرجع الغسل الی الدھن وھو خلاف الروایۃ والدرایۃ بل الاجماع والروایۃ الشاذۃ عن الامام الثانی رحمہ اللّٰہ تعالی مؤولۃ کما فی ردالمحتار عن الحلیۃ عن الذخیرۃ وغیرھا فاذن لایبقی الا ان نقول انالا نقدر علی مثل مافعل ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما تلک المرۃ فضلا عن فعل صاحب الاعجاز الجلیل المُرْوی مرار اللجمع الجزیل بالماء القلیل علیہ من ربہ اعلی صلوۃ واکمل تبجیل۔ ویقرب منہ اواغرب منہ ماوقع فی سنن سعید بن منصور عن الامام الاجل ابرھیم النخعی رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال لم یکونوا یلطموا وجوھھم بالماء وکانوا اشد استبقاء للماء منکم فی الوضوء وکانوا یرون ان ربع المد یجزئ من الوضوء وکانوا صدق ورعا واسخی نفسا واصدق عندالباس۱؎۔
    الحاصل اگرچُلّو لینے والی حدیث کو اس کے ظاہر سے نہ پھیریں تودھونا بس ملنا ہو کر رہ جائے گا۔اوریہ روایت،درایت بلکہ اجماع کے بھی خلاف ہے۔۔۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے جو شاذروایت آئی ہے وہ مؤول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے، اس میں ذخیرہ وغیرہا سے نقل ہے۔ تاویل نہ کریں تو بس یہی صورت رہ جاتی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس بار حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے جس طرح وضوکیاویسے وضو پرہمیں قدرت نہیں۔ اوران کے عمل کی تو بات ہی اور ہے جو ایسے عظیم اعجاز والے ہیں کہ بار ہا بڑے لشکر کو قلیل پانی سے سیراب کردیا۔ان پران کے رب کی جانب سے اعلٰی واکمل درود وتحیّت ہو۔اور اسی سے قریب یا اس سے بھی زیادہ عجیب وہ ہے جو سُنن سعید بن منصور میں اما م اجل ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت آئی ہے کہ انہوں نے فرمایا: وہ حضرات اپنے چہروں پر زورسے پانی نہ مارتے تھے اور وضومیں وہ تم سے بہت زیادہ پانی بچانے کی کوشش رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ چوتھائی مُدوضو کے لئے کافی ہے اس کے ساتھ وہ سچے ورع وپرہیز گاری والے، بہت فیاض طبع، اورجنگ کے وقت نہایت ثابت قدم بھی تھے۔
(۱؎کنزالعمال     بحوالہ ص حدیث ۲۰۷۲۶     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۹ /۴۷۳)
اقول :  فلا ادری کیف اجتزؤا بربع ما جعلہ النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مجزئابل لایظن بھم انھم قنعوا بالفرائض دون السنن فاذن یکفی لغسل الیدین الی الرسغین والمضمضۃ والاستنشاق وغسل الوجہ والیدین الی المرفقین والرجلین الی الکعبین کل مرۃ سدس رطل من الماء وھذا مما لایعقل ولا یقبل الا بمعجزۃ نبی اوکرامۃ ولی صلی اللّٰہ تعالی علی الانبیاء والاولیاء وسلم۔
اقول :  نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جسے کافی قرار دیا(ایک مد۔دو رطل) معلوم نہیں اس کے چوتھائی سے ان حضرات نے کیسے کفایت حاصل کرلی، بلکہ ان کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیاجاسکتا کہ سنتیں چھوڑ کرانہوں نے صرف فرائض پرقناعت کرلی تو(سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ چوتھائی مُد میں تین تین بار جب انہوں نے سارے اعضاء دھوئے۱۲م)لازم ہے کہ گُٹّو ں تک دونوں ہاتھ دھونے ،کُلی کرنے ، ناک میں پانی ڈالنے،چہرہ اور کہنیوں تک دونوں ہاتھ، اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں ہرایک کے ایک بار دھونے میں صرف ۶/۱رطل پانی کافی ہوجاتاتھا۔یہ عقل میں آنے والی اور ماننے والی بات نہیں مگر کسی نبی کے معجزے یا ولی کی کرامت ہی سے ایسا ہوسکتا ہے،تمام انبیاء اور اولیاپرخدائے برترکادرودوسلام ہو۔
فان قلت مایدریک لعل المراد بالمد المد العمری المساوی لصاع النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الاربعا فیکون ربع المد ثلثۃ ارباع المد النبوی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم۔
اگر کہئے آپ کو کیا معلوم شاید مُد سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالٰی کا مُد مرادہوجوچوتھائی کمی کے ساتھ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صاع کے برابر تھا تو وہ چوتھائی مُد حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے تین چوتھائی(۴/۳) مُد کے برابر ہوگا۔
قلت کلا فان ابرھیم سبق خلافۃ عمر ھذا رضی اللّٰہ تعالی عنھما مات فـــ سنۃ خمس اوست وتسعین وامیر المؤمنین فی رجب سنۃ احدی ومائۃ وخلافتہ سنتان ونصف رضی اللّٰہ تعالی عنہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
    میں کہوں گا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت سے پہلے وفات فرماگئے۔ ان کی وفات ۹۵ھ ؁ یا ۹۶ھ؁ میں ہوئی اورامیرالمومنین کی وفات رجب ۱۰۱ھ؁ میں ہوئی اور مدّتِ خلافت ڈھائی سال رہی، رضی اللہ تعالٰی عنہا۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
فــ:تاریخ وفات حضرت امام ابراہیم نخعی وعمر بن عبد العزیز ۔
Flag Counter