والثانی : حمل الغرفۃ علی الحفنۃ ای بکلتا الیدین وربما تطلق علیھا فروی البخاری عن ام المومنین رضی اللّٰہ تعالی عنہا فیما حکت غسلہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم '' ثم یصب علی رأسہ ثلث غرف بیدیہ۱؎
دوسرا طریقہ :
یہ کہ غرفہ کو حفنہ پر (چلو کو لَپ پر) یعنی دونوں ہاتھ ملا کر لینے پر محمول کیاجائے۔ اور بعض اوقات لفظ غرفہ کا اس معنٰی پر اطلاق ہوتاہے(۱)بخاری کی روایت میں ہے جو حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی ٰعنہا سے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غسل مبارک کی حکایت میں آئی ہے کہ :''پھر اپنے سرپرتین چلو دونوں ہاتھوں سے بہاتے''۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الغسل با ب الوضوء قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹)
ولا بی داؤد عن ثوبان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ، اما المرأۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا ۲؎
(۲) ابو داؤد کی روایت میں ہے جوحضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نبی صلی اللہ تعالٰیعلیہ وسلم سے ہے'' لیکن عورت پراس میں کوئی حرج نہیں کہ بال نہ کھولے ،وہ اپنے سرپردونوں ہاتھوں سے تین چلوڈالے''
(۲؎ سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا عند الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴)
ویؤیدہ حدیث ابی داؤد والطحاوی عن محمد بن اسحٰق عن محمد بن طلحۃ عن عبید اللّٰہ الخولانی عن عبداللّٰہ بن عباس عن علی رضی اللّٰہ تعالی عنہم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وفیہ ثم ادخل یدیہ جمیعا فاخذ حفنۃ من ماء فضرب بھا علی رجلہ وفیھا النعل فغسلھا بھا ثم الاخری مثل ذلک ۱؎
(۳) اور اس کی تائید ابوداؤد اور طحاوی کی روایت سے ہوتی ہے جس کی سند یہ ہے ۔عن محمد بن اسحاق۔ عن محمد بن طلحہ عن عبیداللہ الخولانی۔ عن عبد اللہ بن عباس عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
اس میں یہ ہے کہ پھر اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر لپ بھر پانی لے کر اسے پاؤں پرمارا۔جبکہ پاؤں میں جوتا موجود تھا۔ تواس سے پاؤں دھویاپھر اسی طرح دوسرا پاؤں دھویا۔
(۱؎ سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضوء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۶)
ولفظ الطحاوی ثم اخذ بیدیہ جمیعا حفنۃ من ماء فصک بھا علی قدمہ الیمنی والیسری کذلک ۲؎ واخرجہ ایضا احمد وابو یعلی وابن خزیمۃ۳؎ وابن حبان والضیاء وھذا معنی مامر من حدیث سعید بن منصور اِن شاء اللّٰہ تعالٰی والمعنی الاخر المسح وقد نسخ اوکان وفی القدمین جوربان ثخینان علی مابینہ الامام الطحاوی رحمہ اللّٰہ تعالی۔
اور روایت طحاوی کے الفاظ میں یہ ہے: پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے لپ بھر پانی لیا ، تواسے دائیں قدم پر زور سے ماراپھر بائیں پر بھی اسی طرح کیا۔اس کی تخریج امام احمد،ابویعلی،ابن خزیمہ، ابن حبان اور ضیاء نے بھی کی ہے۔اوریہی اس کا معنی ہے۔ ان شاء اللہ تعالٰی۔ جوسعید بن منصور کی حدیث میں آیا(کہ فرش علٰی قدمیہ تو اپنے دونوں قدموں پر چھڑکا''۱۲م) دوسرا معنی مسح ہے جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔یا مسح اس حالت میں ہوا کہ قدموں پر موٹے پاتا بے تھے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ تعالٰی نے بیان کیا۔
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب فرض الرجلین فی الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲)
(۳؎صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۸ المکتب الاسلامی بیروت۱ /۷۷)
(مواردالظمآن کتاب الطہارۃ حدیث ۱۵۰ المطبعۃ السلفیہ ص۶۶)
(کنز العمال بحوالہ حم ،د،ع وابن خزیمۃ الخ حدیث ۲۶۹۶۷ مؤسستہ الرسا لۃ بیروت ۹ /۴۵۹۔۴۶۰)
اقول : وما ذکرت من الوجہین فلنعم المحملان ھما لمثل طریق ابن ماجۃ حدثنا ابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا یحیی بن سعید القطان عن سفیان عن زید وفیہ رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ۱؎
اقول : میں نے جو دوطریقے ذکرکئے یہ بہت عمدہ محمل ہیں اس طرح کی روایات کے جو مثلاً بطریق ابن ماجہ یوں آئی ہیں ہم سے ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے یحیٰی بن سعیدقطان نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زیدسے راوی ہیں۔اس میں یہ ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ایک چُلو سے وضوکیا۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳)
وحدیث ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ وقال لایقبل اللّٰہ صلاۃ الابہ ۲؎
اور ابن عساکر کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ایک چُلو سے وضوکیا۔اورفرمایا: اللہ نماز قبول نہیں فرماتامگراسی سے ۔
(۲؎ کنز العمال بحوالہ عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۲۶۸۳۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۴۳۱)
فیکون علی الحمل الاول کحدیث سعید بن منصور وابن ماجۃ والطبرانی والدار قطنی والبیہقی عن ابن عمروابن ماجۃ والدار قطنی عن ابی بن کعب والدار قطنی فی غرائب مالک عن زید بن ثابت وابی ھریرۃ معارضی اللّٰہ تعالی عنھم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ وقال ھذا وضؤ لایقبل اللّٰہ صلاۃالابہ ۳؎
تویہ ہمارے بیان کردہ پہلے طریقہ کے مطابق حضرت ابن عمر سے سعیدبن منصور،ابن ماجہ، طبرانی، دارقطنی اور بیہقی کی حدیث کی طرح ہوجائے گی، اور جیسے حضرت ابی بن کعب سے ابن ماجہ ودارقطنی کی حدیث، اور حضرت زید بن ثابت اور ابو ہریرہ دونوں حضرات رضی اللہ تعالٰی عنہم سے غرائب مالک میں دارقطنی کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضوکیااورفرمایا:یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ کوئی نماز قبول نہیں فرماتا۔
(۳؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ و مرتین وثلثا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴)
وکذا للیدین والرجلین فی حدیث ابن عباس غیرانہ یکدرھما جمیعا فی الوجہ قولہ اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ ۱؎
اسی طرح حضرت ابن عباس کی حدیث میں دونوں ہاتھوں اور پیروں سے متعلق جو مذکور ہے اس کا بھی یہ عمدہ محمل ہوگا۔ مگر یہ ہے کہ چہرے سے متعلق دونوں تاویلیں اس سے مکدر ہوتی ہیں کہ ان کا قول ہے''ایک چُلو پانی لے کر اسے اس طرح کیا، اسے دوسرے ہاتھ سے ملا کرچہرہ دھویا۔
(۱؎ صحیح البخاری باب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃ واحدۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶)
الا ان یتکلف فیحمل علی ان اضاف الغرفۃ ای الاغتراف الی الید الاخری ایضا غیر قاصر لہ علی ید واحدۃ فیرجع ای الاغتراف بالیدین ویکون کحدیث ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ایضا عن علی کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ عن رسول اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ادخل یدہ الیمنی فافرغ بھا علی الاخری ثم غسل کفیہ ثم تمضمض واستنثر ثم ادخل یدیہ فی الاناء جمیعا فاخذ بہما حفنۃ من ماء فضرب بھا علی وجہہ ثم الثانیۃ ثم الثالثۃمثل ذلک۲؎
مگر یہ کہ بتکلف اسی معنی پر محمول کیاجائے کہ انہوں نے چلو لینے میں دوسرے ہاتھ کو بھی ملالیاایک ہاتھ پر اکتفانہ کی تو یہ دونوں ہاتھ سے چلو لینے کے معنی کی طرف راجع ہوجائے گا اوراسی طرح ہوجائے گا جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماکی حدیث،حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ،رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرکے اس سے دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہتھیلیوں کودھویا،پھر کُلی کی اورناک میں پانی ڈال کر جھاڑا پھربرتن میں دونوں ہاتھ ڈال کر ایک لپ پانی لے کر چہرے پر مارا، پھر دوسری پھر تیسری باراسی طرح کیا۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۶)
ورواہ الطحاوی مختصرا فقال اخذ حفنۃ من ماء بیدیہ جمیعا فصک بھما وجہہ ثم الثانیۃ مثل ذلک۳؎ ثم الثالثۃ فذکرالی المضمضۃ والاستنشاق الاغتراف بکف واحدۃ فاذا اتی علی الوجہ اضافہ الی الید الاخری ایضا فان لم یقبل ھذا فقد علمت ان استیعاب الوجہ بکف واحدۃ متعسر بل متعذر۔
اسے امام طحاوی نے مختصراً روایت کیا۔اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مارا، پھر دوسری بار اسی طرح کیا،پھرتیسری بارایسے ہی۔ تومضمضہ واستنشاق تک توایک ہاتھ سے چلو لینا ذکر کیا۔جب چہرے پرآئے تودوسراہاتھ بھی ملایا۔اگر یہ تاویل نہ مانی جائے تو معلوم ہوچکا کہ ہتھیلی بھر پانی سے چہرے کا استیعاب دشوار بلکہ متعذر ہے۔(ت)
(۳؎شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الحکم الاذنین فی الوضوءللصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۰ )