Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
73 - 135
وانا اقول :  وباللّٰہ التوفیق للعبد الضعیف فی الحدیث وجہان :الاوّل حمل الغرفۃ علی المرۃ ای غسل کل عضو مرۃ مرۃ بھذا تنحل العقد بمرۃ ولانسلم ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق یستلزم استیعاب جمیع السنن لِمَ لا یجوزا ن یکون ھذا بیانا لجواز الاقتصار علی مرۃ فی الفرائض والسنن وما فیہ من البعد اللفظی یقربہ جمع طرق الحدیث ۔
اقول :  وباللہ التوفیق،
میرے نزدیک تاویلِ حدیث کے دوطریقے ہیں:
پہلا طریقہ :
یہ کہ لفظ غرفۃ کو مرۃ پر محمول کیا جائے یعنی ہرعضوکوایک ایک بار دھویا۔ اسی سے ساری گر ہیں یکبارگی کھل جائیں گی۔اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ مضمضہ اور استنشاق کاذکر اسے مستلزم ہے کہ تمام سنتوں کااحاطہ رہا ہو۔یہ کیوں نہیں ہوسکتاکہ یہ وضو اس امر کے بیان کے لئے ہو کہ فرائض اورسنن دونوں ہی میں ایک بار پر اقتصار جائز ہے۔اس میں جو لفظی بُعد نظر آرہا ہے وہ اس حدیث کے مختلف طُرق جمع کرنے سے قریب آجائے گا۔
فلعبد الرزاق عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما انہ توضأ فغسل کل عضو منہ غسلۃ واحدۃ ثم ذکران النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یفعلہ ۱؎
 (۱)عبدالرزاق کی روایت میں عطا بن یسارسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے یہ ہے کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہر عضو کوایک بار دھویا۔پھر بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
 (۱ ؎ المصنف لعبدالرزاق کتاب الطہارۃ     باب کم الوضوء من غسلۃ ا لمکتب الا سلا می بیروت    ۱ /۴۱)
ولسعید بن منصور فی سننہ بلفظ توضا النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فادخل یدہ فی الاناء فمضمض واستنشق مرۃ واحدۃ ثم ادخل یدہ فصب علی وجہہ مرۃ وصب علی یدہ مرۃ مرۃ ومسح براسہ واذنیہ مرۃ ثم اخذ ملأ کفہ من ماء فرش علی قدمیہ وھو منتعل ۲؎ اھ وسیاتی تفسیر ھذا الرش فی الحدیث۔
 ( ۲)سُنن سعید بن منصور کے الفاظ یہ ہیں: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو کیاتو اپنا دستِ مبارک برتن میں ڈالا پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی چڑھایا ایک بار۔ پھر اپنا دست مبارک داخل کر کے(پانی نکالا) توایک بار اپنے چہرے پر بہایا اوراپنے ہاتھ پر ایک ایک باربہایا۔ اوراپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ پھرہتھیلی بھر پانی لے کر اپنے قدموں پرچھڑکاجب کہ حضور نعلین پہنے ہوئے تھے۔اس چھڑکنے کی تفسیر آگے حدیث ہی میں آئے گی۔
 (۲؎ کنز العمال بحوالہ سعید بن منصور حدیث ۲۶۹۳۵        مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ /۴۵۴)
بل روی البخاری قال حدثنا محمد بن یوسف ثناسفیان عن زید بلفظ توضأ النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مرۃ مرۃ ۱؎
 (۳) بلکہ امام بخاری نے روایت کی ، فرمایا :ہم سے محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی وہ زید سے راوی ہیں اس کے الفاظ یہ ہیں :نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الوضو باب الوضوء مرۃ مرۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷)
وقال ابو داؤد وحدثنا مسددثنا یحیی عن سفیان ثنا زید ۲؎
 (۴)ابوداؤد نے کہا: ہم سے مسدّد نے حدیث بیان کی، وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا مجھ سے زید نے حدیث بیان کی۔
 (۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ     باب الوضوء مرۃ مرۃ    آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۱۸)
وقال النسائی اخبرنا محمد بن مثنی ثنا یحیی عن سفین ثنا زید ۳؎
    (۵)نسائی نے کہا: ہمیں محمدبن مثنی نے خبردی انہوں نے کہا ہم سے یحیٰی نے حدیث بیا ن کی، وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا ہم سے زید نے حدیث بیان کی۔
 (۳؎ سنن النسائی     کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃمرۃ         نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی ۱ /۲۵)
وقال الامام الاجل الطحاوی حدثنا ابن مرزوق ثنا ابو عاصم عن سفین عن زید۴؎ ولفظ الاولین فیہ الا اخبر کم بوضؤ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتوضأ مرۃ مرۃ ۵؎ وبمعناہ لفظ الطحاوی ۔
    (۶)امام اجل طحاوی نے کہا: ہم سے ابن مرزوق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے ابو عاصم نے حدیث بیان کی، وہ سفیان سے وہ زید سے راوی ہیں۔ ابو داؤد نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وضو نہ بتاؤں۔پھر انہوں نے ایک ایک بار وضو کیا۔ اوراسی کے ہم معنی امام طحاوی کے الفاظ ہیں۔
 (۴؎ شرح معانی الاثار     کتاب الطہارۃ     باب الوضو ء لصلوۃ مرۃ مرۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)

(۵؎؎ سنن ابی داؤد      کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸)

(سنن النسائی     کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ         نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی     ۱ /۲۵)
وللنسائی من طریق ابن عجلان المذکور بعد مامر وغسل وجہہ وغسل یدیہ مرۃ مرۃ ومسح برأسہ واذنیہ مرۃ ۱ ؎ الحدیث
    (۷)ابن عجلان کے مذکورہ طریق سے نسائی کی روایت میں سابقہ الفاظ کے بعدیہ ہے :اوراپنا چہرہ دھویااور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے۔ اوراپنے سراور دو نوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ الحدیث۔
 ( ۱؎ سنن نسائی     کتاب الطہارۃ     باب مسح الاذنین     نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱ /۲۹)
وفی ھذا والذی مرعن سعید بن منصور ابانۃ ماذکرتہ من ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق لایستلزم استیعاب السنن حتی ینافی ترک التثلیث فقد تظافرت الروایات علی لفظ مرۃ والاحادیث یفسر بعضھا بعضا فکیف وقد اتحد المخرج۔
اس میں اور سعید بن منصورسے نقل شدہ روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے جو میں نے ذکر کیاکہ مضمضہ واستنشاق کا تذکرہ تمام سنتوں کے احاطہ کو مستلزم نہیں کہ ترک تثلیت کے منافی ہو۔ کیوں کہ روایات''ایک بار''کے لفظ پر متفق ہیں اور احادیث میں ایک کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے۔ پھر جب مخرج ایک(زیدبن اسلم) ہیں توایک حدیث دوسری کی مفسّر کیوں نہ ہوگی۔
اقول :  وقد یشد عضدہ ان الحدیث مطولا عند ابن ابی شیبۃ بزیادۃ ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ الحدیث۲؎ فالغرفۃ التی کانت توضی کلا من الوجہ والید والرجل لو استعملت فی الرأس لغسلتہ فانما اراد واللّٰہ تعالی اعلم المرۃ مع التجدید ورحم اللّٰہ ابا حاتم اذقال ماکنا نعرف الحدیث حتی نکتبہ من ستین وجہا وانا اعلم ان الجادۃ فی روایات الوقائع حمل الاعم علی الاخص ولکن لاغروفی العکس لاجل التصحیح۔
    اقول :
اس کی تقویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن ابی شیبہ کے یہاں یہ حدیث مطوّلاً اس اضافہ کے ساتھ ہے:
ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ
 ( پھر ایک چلو لے کر اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا) توجس چلوسے چہرہ ،ہاتھ اور پاؤں میں سے ہر ایک کا وضو ہوجاتا تھا وہ اگر سرمیں استعمال ہوتاتواسے دھونے کاکام کر دیتا(نہ کہ اس سے صرف مسح ہوتا۱۲م)تو مراد۔واللہ تعالٰی اعلم۔ وہی ایک ایک بار ہے ساتھ ہی پانی کی تجدید بھی۔
    خدا کی رحمت ہوابوحاتم پرکہ وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث کی معرفت نہ ہوتی جب تک اسے ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیتے۔ اورمجھے معلوم ہے کہ واقعات کی روایات میں عام راہ یہ ہے کہ اعم کواخص پر محمول کیا جائے مگر تصحیح کی خاطر اس کے برعکس کرنا بھی جائے عجب نہیں۔
 (۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء کم ھو مرۃ    حدیث ۶۴ دار الکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۷)
Flag Counter