| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول : ومجردفــ المنع فی امثال الواضحات لایسمع ولا ینفع وحملہ المحقق فی الفتح علی تجدید الماء لکل عضو فقال وما فی حدیث ابن عباس فاخذ غرفۃ من ماء الی اخر ما تقد م یجب صرفہ الی ان المراد تجد ید الماء بقرینۃ قولہ بعد ذلک ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ومعلوم ان لکل من الیدین ثلث غرفات لا غرفۃ واحدۃ فکان المراد اخذ ماء للیمنی ثم ماء للیسری اذلیس یحکی الفرائض فقد حکی السنن من المضمضۃ وغیرھا ولو کان لکان المراد ان ذلک ادنی مایمکن اقامۃ المضمضۃ بہ کما ان ذلک ادنی مایقام فرض الید بہ لان المحکی انما ھو وضوء ہ الذی کان علیہ لیتبعہ المحکی لھم ۱؎ اھ وتبعہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ۔
اقول :
(میں کہتاہوں) اس طرح کی واضح باتوں میں صرف منع سے کام نہیں چلتا نہ ہی یہ قابل قبول ہوتا ہے۔اورحضرت محقق نے فتح القدیر میں اس کواس پرمحمول کیاہے کہ ہر عضوکے لئے نیا پانی لیتے۔ وہ لکھتے ہیں: وہ جوحضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ پھر ایک چلو پانی لیا۔الٰی آخر الحدیث ۔اسے اس طرف پھیرناضروری ہے کہ مراد نیا پانی لینا ہے اس کا قرینہ اس کے بعد ان کایہ قول ہے کہ پھر ایک چلو پانی لیاتو اس سے دایاں ہاتھ دھویا،پھر ایک چلو پانی لیا تو اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ اورمعلوم ہے کہ ہر ہاتھ کے لئے تین چلو لئے ہوں گے ایک ہی چلو نہیں، تومرادیہ ہے کہ کچھ پانی دائیں ہاتھ کے لئے لیا پھر کچھ پانی بائیں ہاتھ کے لئے لیا۔ اس لئے کہ وہ صرف فرائض کی حکایت نہیں فرما رہے ہیں بلکہ مضمضہ وغیرہ سنتیں بھی بیان کی ہیں۔اوراگر وہی ہوتومراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنٰی مقدار ہے جس سے عمل مضمضہ کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ جیسے یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے فرضِ دست کی ادائیگی ہوجاتی ہے اس لئے کہ حکایت اُس وضو کی ہورہی ہے جو سرکار نے کیاتھا تاکہ دیکھنے والے لوگ اسی طریقہ کی پیروی کریں اھ۔محقق حلبی نے غنیہ کے اندر اس کلام میں حضرت محقق کی پیروی کی ہے۔
فــ:تطفل علی الامام العینی والکرمانی َ۔
(۱؎ فتح القدیر، کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۴)
قلت : ومطمح نظرہ رحمہ اللّٰہ تعالی سلخ الغرفۃ عن الواحدۃ مستندا الی ان المحکی الوضوء المسنون بدلیل ذکر المضمضۃ والاستنشاق والمسنون التثلیث فکیف یراد الواحدۃ وانما معناہ اخذ لکل عمل ماء جدید اوھو اعم من اخذہ مرۃ اومرارا فیکون معنی قولہ غرفۃ من ماء فتمضمض بہا واستنشق ان اخذلھا ماء جدیدا ولو مرارا فلا یدل علی انھما بماء واحد کما یقولہ الامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فھذا مرادہ وھو قد ینفعنا فیما نحن فیہ وان کان کلامہ فی مسألۃ اخری۔
قلت :
حضرت محقق رحمہ اللہ تعالٰی کامطمحِ نظر یہ ہے کہ چلو کے لفظ سے وحدت کامفہوم الگ کردیں،اس پران کا استناد اس سے ہے کہ یہاں وضوئے مسنون کی نقل ہو رہی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کا ذکر ہے۔ اورمسنون تین بار دھونا ہے تو وحدت کیسے مرادہوسکتی ہے۔ اس کا معنی بس یہ ہے کہ ہر عمل کے لئے نیاپانی لیا۔اور یہ اس سے اعم ہے کہ ایک بار لیا یا چند بارلیا تو ان کے قول ''پانی کا ایک چلو لے کر اس سے مضمضہ اوراستنشاق کیا'' کا معنٰی یہ ہوگا کہ دونوں کے لئے جدید پانی لیااگرچہ چندبار۔تو وہ یہ نہیں بتاتا کہ مضمضہ اور استنشاق دونوں ایک ہی پانی میں ہوا جیسا کہ امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے قائل ہیں۔یہ ہے حضرت محقق کی مراد۔اور وہ ہمارے زیرِبحث مسئلہ میں بھی کارآمد ہے اگرچہ ان کا کلام ایک دوسرے مسئلہ کے تحت ہے۔
اقول : لکن فــ۱ فیہ بعد لایخفی والمحقق عارف بہ ولذا قال یجب صرفہ لکن الشان فی ثبوت الوجوب وما استند بہ سیاتی الکلام علیہ۔
اقول :
لیکن اس میں نمایاں بعدہے۔ اورحضرت محقق اس سے واقف ہیں اسی لئے فرمایا:''اسے پھیرنا'' واجب ہے ۔لیکن مشکل معاملہ ثبوت وجوب ہے اورجس سے انہوں نے استناد فرمایا اس پر آگے کلام ہوگا۔
فــ۱ تطفل علی المحقق والغنیۃ ۔
علی ان الحدیث فــ۲رواہ ابن ماجۃ عن زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما وھذا ھومخرج الحد یث رواہ البخاری عن سلیمن بن بلال عن زید والنسائی عن ابن عجلان عن زید مطولا وقال ابن ماجۃ حدثنا عبداللّٰہ بن الجراح وابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا عبدالعزیز بن محمد عن زید فاخرجہ مقتصرا علی قولہ ان رسول اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مضمض واستنشق من غرفۃ ۱؎ واحدۃ
علاوہ ازیں یہ حدیث ابن ماجہ نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے وہ عطابن یسارسے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہیں۔اورمخرج حدیث یہی زیدبن اسلم ہیں۔ اسے امام بخاری نے سلیمان بن بلال سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں۔اورنسائی نے ابن عجلان سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں مطوّلاً۔ اور ابنِ ماجہ نے کہا: ہم سے عبداللہ بن جراح اور ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمدنے حدیث بیا ن کی وہ راوی ہیں زیدسے۔ پھر اس میں صرف یہ روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک چلو (من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا۔
فــ۲تطفل اٰخرعلیہما ۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب المضمضۃ والا ستنشاق الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳)
ومن ھذا الطریق اخرجہ النسائی فقال اخبرنا الھیثم بن ایوب الطالقانی قال عبد العزیز بن محمد قال ثنازید وفیہ رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضا فغسل یدیہ ثم تمضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃ ۱؎ الحدیث فھذا لایقبل الانسلاخ عن الواحدۃ وکافٍ فی الجواب ماافادہ اخرا بقولہ ولو کان لکان الخ مع ماقد م من احادیث ناطقۃ بالمذھب وزاد تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ حد ثنا اخر رواہ البزار بسند حسن۔
اوراسی طریق سے امام نسائی نے تخریج کی تو انہوں نے فرمایا: ہمیں ہیثم بن ایوب طالقانی نے خبر دی انہوں نے کہا عبدالعزیز بن محمد نے بتایا انہوں نے کہا ہم سے زید بن اسلم نے حدیث بیان کی۔اس میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو فرمایا تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر ایک چلو(من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا، الحدیث۔تواس روایت سے وحدت کامعنی الگ نہیں کیاجاسکتا(کیوں کہ اس میں غرفۃ واحدۃ صراحۃً موجود ہے)اور جواب میں وہی کافی ہوگا جو آخر میں افادہ فرمایا کہ اگر وہی ہو تو مراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنٰی مقدار ہے الخ۔ اس کے ساتھ ہمارے مذہب کی تائید میں بولتی ہوئی وہ احادیث بھی ہیں جوحضرت محقق پہلے پیش کر آئے ۔ اوران کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ایک اور حدیث کا اضافہ کیا جو بزار نے بسندِ حسن روایت کی۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب مسح الاذنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۹)