Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
71 - 135
سابعاً :
صاحبِ حلیہ رحمہ اللہ تعالٰی حضرات مشایخ پر یہ گرفت کرناچاہتے ہیں کہ''انہوں نے ظاہر الروایہ کوادنٰی مقدار کفایت پر محمول کیاپھرخودہی اس کے خلاف اس کے قائل ہوئے کہ جو اس سے کم میں پورا کرے تو اسے وہی کافی ہے''۔حالانکہ صاحبِ حلیہ نے خودہی ظاہرالروایہ کے الفاظ یہ نقل کئے کہ غسل میں ادنٰی مقدار کافی ایک صاع اور وضو میں ایک مُد ہے۔ظاہر الروایہ کا مطلب ان حضرات نے جوذکرکیااس کے سوا کچھ اور نہیں۔ اوران حضرات نے کوئی تغیّر وتبدّل نہ کیا۔
فــ۱:تطفل سابع علیھا۔
وثامنا :
لایجوزفــ۲ ان یکون مراد الظاھر والمشائخ تقدیر ھذا لشخص واحد فی الدنیا یکون اضأل الناس واقصرھم واھزلھم واصغرھم حتی لایمکن لغیرہ ان یغتسل فی قدر مایکفیہ وانما ھی متمسکۃ فی ذلک بالحدیث کما ذکرتم وتقدم ولا یسبق الی وھم انھم لایفرقون بین قصیر صغیر ضیئل اجرد امرد محلوق الراس وطویل کبیر عبل اشعرکث اللحیۃ وافی الوفرۃ فیحکموا ان ھذا ھو ادنی مایکفی کلا منھما فاذن لم یریدوا الا رجلا سویا معتدل الخلق متوسط الاحوال وحینئذ لایکون ما اردفوا بہ مناقضا لظاھر الروایۃ ولا مغایرا للتوجیہ الذی نحوتم الیہ وبالجملۃ اری فھمی القاصر متقاعدا عن درک مرام ھذا الکلام۔
ثامناً :
ممکن نہیں کہ ظاہر الروایہ اورحضرات مشائخ کی مراد یہ ہوکہ تحدید دنیا کے ایسے فرد واحد کے لئے ہے جو سارے انسانوں سے کم جُثّہ، پست قد، دُبلا پتلا اور چھوٹا ہوکہ اس کے لئے جس قدر پانی کافی ہوجاتاہے اتنے میں دوسرے کسی شخص کے لئے غسل کرلینا ممکن ہی نہ ہو۔دراصل اس مقدار کے سلسلے میں ظاہر الروایہ کا استناد حدیثِ پاک سے ہے جیساکہ آپ نے ذکرکیااورحدیث بھی گزرچکی۔اور کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتاکہ یہ حضرات پست قامت اور دراز قامت،چھوٹے اوربڑے،نحیف اورفربہ،کم مُداور بال دار ،بے ریش اورگھنی داڑھی والے، سرمُنڈے اوروافرگیسووالے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اورایک طرف سے یہ حکم کرتے ہیں کہ یہی وہ ادنٰی مقدار ہے جو دونوں میں سے ہرایک کوکافی ہے۔ توان کی مراد کیاہے؟ تندرست،معتدل ہیأت،متوسط حالت کا آدمی۔ جب ایسا ہے توبعد میں جوانہوں نے ذکرکیا(اس سے کم میں ہوجائے تو وہ کافی اوراتنے میں نہ ہوسکے تواضافہ کرے) وہ نہ ظاہرالروایہ کے مخالف نہ اس توجیہ کے مغایر جوآپ نے اختیار کی۔بالجملہ میری فہم ناقص اس کلام کے مقصود کی دریافت سے قاصر ہے۔
فـــ۲:تطفل ثامن علیھا۔
وبعد اللتیا والتی انما بغینی ان ھذا الامام رحمہ اللّٰہ تعالی جعل الحدیث المذکور مشعرا بعدم التحدید ولا یستقیم الاشعار الابان یسلّم استبعاد الامام الباقر ویجعل رد سیدنا جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما حذار ان یکون ذلک عن وسوسۃ او نحوھا وحثا علی التأسی مھما امکن لاایجابا لانہ یکفی کلاما کان یکفیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وفیہ المقصود۔
اس ساری بحث وتمحیص کے بعدعرض ہے کہ میرا مقصود صرف یہ ہے کہ امام حلبی رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ مانا ہے کہ حدیث مذکور پتا دے رہی ہے کہ تحدید نہیں، اوریہ پتادینا اسی وقت راست آسکتاہے جب وُہ امام باقر کا استبعاد تسلیم کریں اوریہ مانیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہماکی تردید اس اندیشہ سے تھی کہ وہ بات کہیں وسوسہ یااسی جیسی کسی چیز کے باعث نہ ہو، اوراس بات پرآمادہ کرنے کی خاطرکہ جہاں تک ہوسکے سرکار کی پیروی کی جائے۔ یہ تردید ایجاب کے مقصدسے نہ تھی اس لئے کہ اس کے لئے تویہی کہنا کافی تھاکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے یہ مقدار کافی تھی اور مقصوداتنے ہی میں حاصل تھا۔
ثم اقول :  اذا کان فـــ ھذا الاستبعاد فی الصاع فما ظنک بما یقتضیہ ظاھر حدیث الغرفات المار تحت الامر الثالث عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنہما فانہ یفیدا استیعاب کل من الوجہ والید والرجل بغرفۃ واحدۃ وظاھر ان المراد الاغتراف بالکف بل صرح بہ قولہ اخذ غرفۃ فاضافہا الی یدہ الاخری فاذن یعسرجدا استیعاب الوجہ بغرفۃ واحدۃ فانھا لاتزید علی قدر الکف بل لاتبلغہ اذ لا بد للاغتراف من تقعیر فی الکف وعرض الوجہ مابین الاذنین اکبر بکثیر من طول الکف فماء قدر کف لایستوعب الوجہ طولا وعرضا بحیث یمر علی کل ذرۃ منہ بالسیلان واضافتہ الی الید الاخری لاتزیدہ قدرا بل لوابقی الکفان متلاصقتین لم یبلغ عرض مجموعھما عرض الوجہ وان فرق بینھما ووضعتا علی الجبینین طولا لم یستوعبہما الماء بحیث ینحدر من جمیع مساحۃ الطولین سیالا الی منتھی سطح الوجہ فان امر الید علی مسیل الماء ودلک بہا مالم یبلغہ من الوجہ کان غسلا لبعض ودھنا لبعض وکل ذلک معلوم مشاھد وامر الذراع والقدم اشد اشکالا اذلھما اطراف متباینۃ السمٰوٰت واحاطۃ ماء قدرکف بجمیع اطراف الید من الظفر الی المرفق مما لایعقل والکف نفسہ لاتحیط بالذراع فی امرار واحد وان امرت علی ظھر الذراع ثم اعیدت علی البطن اوبالعکس لم یصحبھا من الماء مایزید علٰی قدر الدَّھن وکذلک فی القدم مع مافیھا من الصعود بعد الھبوط لاجل الاسالۃ الی فوق الکعبین وعمل الید قدذکرنا مافیہ ومن ادعی تیسر ھذا فلیرنا کیف یفعل فبالامتحان یکرم الرجل اویھان ۔
ثم اقول:جب ایک صاع کے بارے میں یہ استبعا د ہے تو اس سے متعلق کیاخیال ہے جو امر سوم کے تحت بیان شدہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماکی، چُلّووں کے تذکرہ والی حدیث کے ظاہرکامقتضا ہے۔کیونکہ اس کامفاد تویہ ہے کہ بس ایک چُلو میں چہرے،ہاتھ، اور پاؤں ہر ایک کا استیعاب ہوجاتاتھا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ہتھیلی ہی سے چُلو لینا مراد ہے بلکہ اس قول میں تواس کی صراحت بھی ہے کہ ''ایک چُلو لے کر اسے اپنے دوسرے ہاتھ سے ملایا''۔ جب ایسا ہے توایک ہی چُلومیں پورے چہرے کودھولینا بہت ہی مشکل ہے۔اس لئے کہ ایک چلوہتھیلی بھر سے زیادہ نہ ہوگا بلکہ ہتھیلی بھربھی نہ ہوگا اس لئے کہ چُلو لینے کی لئے ضروری ہے کہ ہتھیلی کچھ گہری رکھی جائے۔اورایک کان سے دوسرے کان تک چہرے کی چوڑائی دیکھی جائے تووہ ہتھیلی کی لمبائی سے بہت زیادہ ہے توہتھیلی بھر پانی طول اورعرض دونوں میںچہرے کا اس طرح احاطہ نہیں کرسکتاکہ اسکے ہر ذرّے پر بہہ جائے۔اور اسے دوسرے ہاتھ سے ملالیں تواس کی مقدار میں اس سے کچھ اضافہ نہ ہوسکے گا بلکہ اگر دونوں ہتھیلیاں ملی ہوئی رکھی جائیں تو ان کی مجموعی چوڑائی بھی چہرے کی چوڑائی کے برابر نہ ہوگی۔ اور اگر ان کو الگ الگ کر کے پیشانی کے دونوں حصو ں پر لمبائی میں رکھاجائے توان دونوں میں اتنا پانی بھرا ہوا نہ ہوگا کہ دونوں کے طول کی پوری مساحت سے ڈھلک کر بہتے ہوئے چہرے کی سطح زیریں کے آخری حصہ تک پہنچ جائے۔ اوراگرایساکرے کہ جتنے حصے پرپانی بہہ گیا ہے وہاں ہاتھ پھیرکران حصوں پر مل لے جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو یہ بعض حصوں کو دھونا اور بعض کو ملنا ہوا۔ سب کو دھونا نہ ہوا۔ اور یہ سب مشاہدہ وتجربہ سے معلوم ہے۔ کلائی اور پاؤں کامعاملہ تواور زیادہ مشکل ہے اس لئے کہ ان کے کنارے الگ الگ سمتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہتھیلی بھر پانی ہی ناخن سے لے کرکہنی تک ہاتھ کے تمام اطراف وجوانب کا احاطہ کرلے ، یہ عقل میں آنے والی بات نہیں۔ اورایک بارپھیر نے میں خود ہتھیلی پوری کلائی کا احاطہ نہیں کرسکتی اور اگر ایک بار کلائی کی پشت پرہتھیلی پھیرے، پھر اس کے پیٹ پر پھیرے یا اس کے برعکس کرے تواس میں اتنا پانی نہ رہ سکے گا جو ملنے سے زیادہ کام کرسکے۔یہی حال پاؤں کاہے مزید اس میں یہ بھی ہے کہ پانی کو نیچے اترنے کے بعد پھر ٹخنوں کے اوپر تک بہنے کے لئے چڑھنا بھی ہے۔اورہاتھ کیا کام کرسکتاہے بس وہی جو ہم نے ابھی بتایا۔جودعوی رکھتا ہوکہ یہ آسان ہے وہ کر کے دکھادے کہ امتحان ہی سے آدمی کوعـزت ملتی ہے یا ذلّت۔
فـــ : اشکال فی حدیث البخاری والکلام علیہ حسب الاستطاعۃ۔
وقد استشعر الکرمانی فی الکواکب الدراری ورود ھذا وقنع بان منع ومرواثرہ الامام العینی واقر حیث قال قال الکرمانی فان قلت لایمکن غسل الرجل بغرفۃ واحدۃ قلت الفرق ممنوع ولعل الغرض من ذکرہ علی ھذا الوجہ بیان تقلیل الماء فی العضو الذی ھو مظنۃ الاسراف فیہ ۱؎ اھ۔
الکواکب الدراری میں امام کرمانی کو اس اعتراض کاخیال ہوا اور صرف ناقابل تسلیم کہہ کر گزر گئے اورامام عینی نے بھی ان کا کلام نقل کرکے برقرار رکھا۔وہ لکھتے ہیں کرمانی فرماتے ہیں: اگر یہ کہوکہ  ایک چلو میں پاؤں دھونا ممکن نہیں تو میں کہوں گا ہم یہ فرق نہیں مانتے۔اور شاید اس طرح ذکر کرنے سے ان کامقصد یہ ہے کہ پانی اس عضو میں کم صرف کیاجائے جس میں اسراف ہونے کاگمان ہے اھ۔
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء، تحت الحدیث۱۴۰ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۴۰۰ و ۴۰۱)
Flag Counter