Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
70 - 135
اقول اولا  :  نظرفــ۱ رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی لفظ البخاری قال رجل ولوکان متذکرا ما فی النسائی من قول الامام الباقر رضی اللّٰہ تعالی عنہ قلنا لم یرض۱؎ بذکر الوسوسۃ فحاشا محمد الباقر عنھا۔
اقول اوّلاً :
صاحب حلیہ رحمہ اللہ تعالی نے بخاری کے الفاظ''ایک شخص نے کہا''پرنظررکھی اگر انہیں وہ یادہوتاجونسائی میں امام باقررضی اللہ تعالٰی عنہ کاقول مذکورہے کہ ''ہم نے کہا'' تو وسوسہ کا تذکرہ پسندنہ کرتے۔کیوں کہ امام محمد باقر وسوسہ سے دُور ہیں۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ،باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل... الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۴۶)
ثانیا  : لوکانت فــ۲ علی ذکر منہ لم یذکر قولہ لظھور ان جسد القائل الخ فان ذلک ان فرض مستقیما ففی جسد بعضھم کالامام الباقر لا کلھم والقائلون القوم لقولہ قلنا وقول جابر من کان خیرا منکم وان تولی التکلم احدھم۔
ثانیاً:
وہ روایت یاد رہتی تو یہ بات نہ کہتے کہ''ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم الخ''۔کیوں کہ اسے اگر درست بھی مان لیاجائے توان میں سے بعض جیسے امام باقر کے جسم سے متعلق یہ بات ہوسکتی ہے سب سے متعلق نہیں جب کہ قائل سبھی حضرات تھے کیونکہ امام باقر کے الفاظ یہ ہیں کہ''ہم نے کہا''اورحضرت جابر کے الفاظ یہ ہیں کہ''تم لوگوں سے بہتر تھے''۔اگرچہ بولنے والے ان حضرات میں سے ایک ہی فرد رہے ہوں۔
فــ:تطفل اٰخرعلیہا۔
وثالثا : لایقتصرفــ۳ الامر علی المقاربۃ فی الحجم وحدہ بل یختلف فــ۴ باختلاف بدنین نعومۃ وخشونۃ و رطوبۃ ویبوسۃ وکون الشخص اجرد اواشعر وکث اللحیۃ اوخفیفھا وتام الوفرۃ اومحلوقہا الی غیر ذلک من الاسباب بل یختلف لشخص واحد باختلاف الفصول والبلدان والعمر والمزاج وغیر ذلک ۔
ثالثا :
معاملہ صرف حجم میں قریب قریب ہونے پرمحدود نہیں، بلکہ فرق یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک بدن نرم ہو دوسرا سخت ،ایک رطب ہودوسرا یابس،اوریُوں بھی کہ ایک شخص کم بال والا ہو دوسرا زیادہ بال والا،ایک کی داڑھی گھنی دوسرے کی خفیف،ایک کے سر پرلمبے لمبے بال ہوں دوسرے کا سر مُنڈاہوا ہو، اور اس طرح کے فرق کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں۔بلکہ موسم،شہر ،عمر ،مزاج وغیرہ کی تبدیلیوں سے خود ایک ہی شخص کاحال مختلف ہواکرتاہے۔
فـــ۳ : تطفل ثالث علیہا۔
فـــ۴ سب کے لیے غسل و وضو میں پانی کی مقدارجس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایک شخص دیو قامت ہے ایک نہایت نحیف دبلا پتلا،ایک بہت درازقد ہے دوسراکمال ٹھنگنا، ایک بدن نرم و نازک و تر دوسرا خشک کُھرّا،ایک کے تمام اعضاء پر بال ہیں دوسرے کا بدن صاف ،ایک کی داڑھی بڑی اور گھنی،دوسرا بے ریش یا چند بال،ایک کے سر پر بڑے بڑے بال انبوہ دوسرے کا سر منڈھا ہوا۔ان سب کے لئے ایک مقدار کیونکر ممکن بلکہ شخص واحد کیلئے فصلوں اور شہروں اور عمر و مزاج کے تبدل سے مقدار بدل جاتی ہے،برسات میں بدن میں تری ہوتی ہے پانی جلد دوڑتا ہے،جاڑے میں خشکی ہوتی ہے وعلٰی ہذاالقیاس۔
ورابعا  : بہ فــ۱ ظھران لوفرض لھم مداناۃ فی الحجم کان من المحال العادی المداناۃ فی جمیع اسباب الاختلاف بل ھو محال قطعا فمن اعظمھا النعومۃ ومن بدنہ کبدن ھذا القمر الزاھر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم
رابعاً:
اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بالفرض ان سب حضرات میں حجم کاقریب قریب ہوناظاہرتھاتومحال عادی ہے کہ تمام اسباب اختلاف میں باہم قرب رہاہو،بلکہ یہ محال قطعی ہے کیونکہ سب سے عظیم سبب فرق بدن کی نرمی و لطافت ہے اورایساکون ہوسکتاہے جس کابدن اس ماہِ انورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بدن جیساہو۔
فــ۱:تطفل رابع علیھا۔
وخامسا : لقی فــ۲ الامام الباقر سیدنا جابرا رضی اللّٰہ تعالی عنہما انما کان بعد ما صار بصیرا فکیف یعرف حجم ابدانھم۔
خامساً:
امام باقرکی ملاقات سیدناجابر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے اس وقت ہوئی جب حضرت جابر آنکھوں سے معذور ہو چکے تھے تو وہ ان لوگوں کے حجم کی شناخت کیسے کرتے۔
فـــ۲:تطفل خامس علیھا۔
وسادسا  :
کلام فــ۳ جابر نفسہ یدل انہ انما بناہ علی کثرۃ شعرالراس وقلتہ ۔
سادساً:
خود حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا کلام بھی بتارہا ہے کہ انہوں نے بنائے کلام سر کے بالوں کی کثرت وقلّت پررکھی تھی۔
فــ۳:تطفل سادس علیھا۔
وسابعا  : یریدفــ۱رحمہ اللّٰہ تعالٰی الاخذ علی المشایخ انھم حملوا ظاھر الروایۃ علی ادنی مابہ الکفایۃ ثم عادوا علیہا بالنقض بقولھم من اسبغ بدونہ اجزأہ مع انہ ھو الناقل لفظ الظاھر ماتقدم ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مد فلا محمل لہا الا ماذکروا مابدلوا وما غیروا۔
Flag Counter