Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
69 - 135
تنبیہ : ماذکرت ان تثلیث الغسل بالطمانینۃ عسیر بالصاع شیئ تشہد لہ التجربۃ وایش انا وانت وقد استبعدہ ریحانۃ من ریاحین المصطفی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وعلیھم وسلم اعنی السید الامام الاجل محمدا الباقر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اخرج البخاری فــ(وعزاہ فی الحلیۃ لھما ولم ارہ لمسلم ولا عزاہ الیہ فی العمدۃ ولا الارشاد) عن ابی اسحٰق حدثنا ابو جعفر انہ کان عند جابر بن عبداللّٰہ ھو و ابوہ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وعندہ قوم فسألوہ عن الغسل فقال یکفیک صاع فقال رجل مایکفینی فقال جابر کان یکفی من ھو اوفی منک شعرا وخیرا منک ثم امّنا فی ثوب۲؎
تنبیہ:
یہ جومیں نے ذکر کیا کہ ایک صاع سے غسل میں اعضا کو تین تین بار دھولینا مشکل ہے ایسی بات ہے جس پر تجربہ شاہد ہے اور ما و شما کیاہیں اسے گلشنِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایک گُلِ تر امامِ اجل سیّدنا محمد باقر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بعید سمجھا۔امام بخاری نے (حلیہ میں اس پربخاری ومسلم دونوں کا حوالہ دیا ہے،اورمیں نے یہ حدیث مسلم میں نہ دیکھی۔اورعمدۃ القاری وارشاد الساری میں بھی مسلم کا حوالہ نہ دیا)ابواسحاق سے روایت کی انہوں نے فرمایا ہم سے ابو جعفر(امام محمد باقر)نے حدیث بیان فرمائی کہ وہ اور اُن کے والد حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے پاس تھے۔ اورکچھ دوسرے لوگ بھی وہاں موجودتھے۔ان حضرات نے حضرت جابر سے غسل کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا: ایک صاع تمہیں کافی ہے۔ ایک شخص نے کہا:مجھے کافی نہیں ہوتا۔اس پر حضرت جابر نے فرمایا: کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم سے زیادہ بال اور خیر وخوبی والے تھے۔ پھر انہوں نے ایک ہی کپڑا اوڑھ کر ہماری امامت بھی فرمائی ہے۔
فـــ:تطفل اٰخر علیہا۔
(۲؎ صحیح البخاری    کتاب الغسل،باب الغسل بالصاع و نحوہ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۹)
قال فی العمدۃ فی مسند اسحٰق بن راھویہ ان متولی السؤال ھو ابو جعفر ۱؎ وقولہ قال رجل المراد بہ الحسن بن محمد بن علی بن ابی طالب الذی یعرف ابوہ بابن الحنفیۃ ۲؎ اھ وتبعہ القسطلانی۔
عمدۃ القاری میں ہے کہ مسند اسحٰق بن راہویہ میں ہے کہ سوال کرنے والے ابو جعفر(امام محمد باقر) تھے۔ اورانکی عبارت''ایک شخص نے کہا'' میں قائل سے مراد حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب ہیں جن کے والد ابن الحنفیہ کے ساتھ معروف تھے اھ۔اس پرقسطلانی نے بھی عینی کی پیروی کی ہے۔
(۱؎ و ۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری    باب الغسل،تحت الحدیث ۲۵۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۹۵)
اقول  :  حدیث فــ الحسن بن محمد علی ما فی الصحیحین ھکذا عن ابی جعفر قال لی جابر اتانی ابن عمک یعرض بالحسن بن محمد بن الحنفیۃ قال کیف الغسل من الجنابۃ فقلت کان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یاخذ ثلث اکف فیفیضھا علی رأسہ ثم یفیض علی سائر جسدہ فقال لی الحسن انی رجل کثیر الشعر فقلت کان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اکثر منک شعرا ۳؎ ھذا لفظ "خ" ونحوہ "م"
اقول:حضرت حسن بن محمد کی حدیث صحیحین میں اس طرح ہے :ابوجعفرسے مروی ہے کہ مجھ سے حضرت جابرنے فرمایا: میرے پاس تمہارا عم زاد۔حسن بن محمد بن الحنفیہ کی جانب اشارہ ہے۔ آیا۔کہا:غسلِ جنابت کس طرح ہوتا ہے؟  میں نے کہا:نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تین کف پانی لے کراپنے سرپربہاتے پھر باقی جسم پر بہاتے۔اس پر حسن نے مجھ سے کہا: میرے بال بہت ہیں۔ میں نے کہا: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔اوراسی کے ہم معنی مسلم کی روایت میں بھی ہے،
فـــ:تطفل علی الامام العینی والقسطلانی۔
(۳؎ صحیح البخاری    کتاب الغسل،باب من افاض علی رأسہٖ ثلثا        قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹)
وفیہ قال جابر فقلت لہ یاابن اخی کان شعر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اکثر من شعرک واطیب ۱؎ وھو نص فی ان محمدا لم یشھد مخاطبتہ جابر والحسن وانما حکاھا لہ جابر بخلاف حدیث الباب وفی الکلام ایضا نوع تفاوت بل الرجل القائل ھو الامام ابو جعفر نفسہ اومن قال منھم مع تسلیم الباقین اخرج النسائی عن ابی اسحاق عن ابی جعفر قال تمارینا فی الغسل عند جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما فقال جابر یکفی من الغسل من الجنابۃ صاع من ماء قلنا مایکفی صاع ولا صاعان قال جابر قدکان یکفی من کان خیرا منکم واکثر شعرا ۲؎ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
 اوراس میں یوں ہے کہ جابر نے فرمایا: میں نے اس سے کہا جانِ برادر! رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بال تمہارے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ ترتھے۔یہ روایت اس بارے میں نص ہے کہ امام محمد باقرحضرت جابروحسن کی گفتگوکے وقت موجود نہ تھے اور ان سے حضرت جابر نے قصہ بتایا بخلاف زیر بحث حدیث کے،(جس میں خود ان کی موجودگی مذکورہے) اورکلام میں کچھ تفاوت ہے۔بلکہ اس حدیث میں ناکافی ہونے کی بات کہنے والے خود امام ابو جعفرہیں یاان حضرات میں سے کوئی اورشخص جنہوں نے کہا اور باقی نے تسلیم کیا۔ (کیوں کہ نسائی کی روایت میں یہ تفصیل ہے)امام نسائی نے ابواسحٰق سے روایت کی وہ ابو جعفر سے راوی ہیں انہوں نے کہا :ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت جابرنے کہا: غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے۔ ہم نے کہا: ایک صاع دو صاع ناکافی ہے۔ حضرت جابرنے فرمایا: کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم لوگوں سے بہتراورتم سے زیادہ بال والے تھے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱؎ صحیح مسلم     کتاب الحیض،باب استحباب افاضۃ الماء علٰی الرأس وغیرہ...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۹)

(۲؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ،باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للغسل نورمحمد کارخانہ تجار ت کراچی۱ /۴۶)
قال فی الحلیۃ یشعر ایضا بان ھذا التقدیر لیس بلازم فی کل حالۃ لکل واحد ومن ثمہ قال الشیخ عزالدین بن عبدالسلام ھذا فی حق من یشبہ جسدہ جسدالنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انتھی یعنی فی الحجم ولعل انکار جابر وردہ علی القائل لظھور ان جسد القائل کان نحوجسد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مع فھم جابر عند الشک فی کون ذلک کافیا لہ اما لوسوسۃ اوغیرھا فاتی برد عنیف لیکون اقلع لذلک السبب من النفس واجمع فی التأسی بہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی ذلک۔
حلیہ میں لکھتے ہیں:اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ تحدید ہر حال میں،ہرشخص کے لئے لازم نہیں۔اسی لئے شیخ عزّالدین بن عبدالسلام نے فرمایایہ اس کے حق میں ہے جس کا جسم ،نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم کی طرح ہو۔انتہی۔ یعنی حجم میں۔شاید حضرت جابرکاانکاراورقائل کی تردید اسی لئے تھی کہ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم کی طرح تھا،ساتھ ہی حضرت جابرنے قائل سے متعلق یہ سمجھا کہ اسے ایک صاع کے کافی ہونے میں شک ہے جس کی وجہ وسوسہ ہے یااورکچھ۔تو اس کی ایسی سخت تردید فرمائی جو نفس سے اس شک کا سبب نکال باہر کردے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اقتدا پر طمانینت قلب پیدا کردے۔
ھذا التوجیہ الذی وفقنا لہ اولی من قول غیر واحد من المشائخ ان مافی ظاھر الروایۃ (ای ماتقدم ان الصاع والمداد فی مایکفی) بیان لمقدار الکفایۃ ثم یرد فونہ بقولھم حتی ان من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلک اجزاء ہ وان لم یکفہ زاد علیہ وکذا الکلام فیما روی الحسن عن ابی حنیفۃ (ای ماتقدم من رطل ورطلین وثلثۃ فی الاحوال) فی الوضوء ۱؎ اھ کلامہ الشریف مزید اما بین الاھلۃ۔
یہ توجیہ جس کی ہمیں توفیق ملی متعددمشائخ کے اس قول سے بہتر ہے کہ ظاہرالروایۃ کاکلام (یعنی وہ جوپہلے گزرا کہ صاع اورمُد،ادنٰی مقدار کفایت ہے)مقدار کفایت کابیان ہے پھر اس کے بعد وہی مشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو وضو اور غسل اس سے کم مقدار میں کامل کرلے اس کے لئے وہی کافی ہے اوراگر یہ اس کے لئے کافی نہ ہوتواضافہ کرلے ۔اسی طرح اس میں بھی کلام ہے جوحسن بن زیادنے وضو کے بارے میں امام ابو حنیفہ سے روایت کی(یعنی وہ جوگزرا کہ مختلف احوال میں ایک رطل،دو رطل اورتین رطل کافی ہے)محقق حلبی کا کلام ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوا۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
Flag Counter