Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
68 - 135
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر اطالۃ الغرۃ بالزیادۃ علی الحد المحدود وفی الحلیۃ التحجیل فی الیدین والرجلین وھل لہ حد لم اقف فیہ علی شیئ لاصحابنا ونقل النووی اختلاف الشافعیۃ علی ثلثۃ اقوال الاول الزیادۃ بلا توقیف الثانی الی نصف العضد والساق الثالث الی المنکب والرکبتین قال والاحادیث تقتضی ذلک کلہ اھ ونقل ط الثانی عن شرح الشرعۃ مقتصرا علیہ ۱؎ اھ
بحر میں ہے: چہرے کی روشنی زیادہ کرنااس طرح کہ مقررہ حد سے زیادہ دھوئے۔اورحلیہ میں ہے کہ تحجیل کا تعلق دونوں ہاتھ پاؤں سے ہے(ہاتھ پاؤں کومقدار سے زیادہ دھوئے)کیا زیادتی کی کوئی حدبھی ہے اس بارے میں اپنے اصحاب کی کسی بات سے واقفیت مجھے نہ ہوئی۔امام نووی نے اس بارے میں شافعیہ کے تین اقوال لکھے ہیں اول یہ کہ بغیر کسی تحدید کے زیادتی ہو۔دوم یہ کہ آدھے بازو اورنصف ساق تک زیادتی ہو۔سوم یہ کہ کاندھے اور گھٹنوں تک زیادتی ہو۔فرمایاکہ احادیث کامقتضا یہ سب ہے اھ۔اور علامہ طحطاوی نے قولِ دوم کوشرح شرعہ سے نقل کیااوراسی پراکتفا کی اھ۔(ت)
(۱؎ رد المحتار        کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۸۸)
درمختار مکروہات وضو میں ہے :
والاسراف ومنہ الزیادۃ علی الثلاث ۲؎۔
اور اسراف،اسی سے یہ بھی ہے کہ تین بار سے زیادہ دھوئے ۔(ت)
(۲؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۴ )
اُسی میں ہے:
لوزاد (ای علی التثلیث) لطمانینۃ القلب لاباس بہ۳؎۔
اگر اطمینانِ قلب کے لئے تین بارسے زیادہ دھویا تواس میں حرج نہیں۔(ت)
(۳؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲ )
ردالمحتار میں ہے :
لانہ امر بترک مایریبہ الی مالا یریبہ وینبغی ان یقید ھذابغیرالموسوس اما ھو فیلزمہ قطع مادۃ الوسواس عنہ وعدم التفاتہ الی التشکیک لانہ فعل الشیطان وقد امرنا بمعاداتہ ومخالفتہ رحمتی۴؎۔
اس لئے کہ اسے حکم ہے کہ شک کی حالت چھوڑکر عدم شک کی حالت اختیارکرے، اوریہ حکم غیر وسوسہ زدہ کے ساتھ مقید ہونا چاہئے۔ وسوسے والے پر تویہ لازم ہے کہ وسوسے کا مادّہ قطع کرے اور تشکیک کی جانب التفات نہ کرے کیوں کہ یہ شیطان کا فعل ہے اور ہمیں حکم یہ ہے کہ اس سے دشمنی رکھیں اورا س کی مخالفت کریں-رحمتی-(ت)
(۴؎رد المحتار        کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۸۱)
اور شک نہیں کہ صرف ایک صاع سے غسل میں سر سے پاؤں تک بفراغ خاطر تثلیث کا حصول دشوار لہٰذا ہمارے علماء نے اطمینان قلب کیلئے صاع سے زیادت کو افضل فرمایا۔

ۤ
لقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم دع مایریبک الی مالا یریبک فان الصدق طمانینۃ وان الکذب ریبۃ رواہ الائمۃ احمد والترمذی ۱؎ وابن حبان بسند جید عن الحسن المجتبی ریحانۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ ثم علیہ وسلم وھو عند ابن قانع عنہ بلفظ فان الصدق ینجی ۲؎ ۔
کیونکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشادہے:''تجھے جوچیز شک میں ڈالے اسے چھوڑکر وہ اختیار کرجس میں تجھے شک نہ ہو۔اس لئے کہ صدق طمانینت ہے اورکذب شک وقلق ۔اسے امام احمد،ترمذی،اورابن حبان نے بسندِجیّدریحانہ رسول حضرت حسن مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور ابن قانع نے ان سے جو روایت کی اس میں یہ الفاظ ہیں: اس لئے کہ صدق نجات بخش ہے۔(ت)
(۱؎ سنن الترمذی    کتاب صفۃ القیامۃ    حدیث۲۵۲۶    دارالفکر بیروت        ۴ /۲۳۲)

(مسند احمد بن حنبل    عن حسن رضی اللہ عنہ            المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۲۰۰)

(موار الظمآن الٰی زوائد ابن حبان    حدیث۵۱۲            المطبعۃ السلفیۃ        ص۱۳۷)
(نوٹ:موارد الظمآن کے الفاظ میں ہے:ان الخیر طمانیۃ والشر ریبۃ۔)
(۲؎ کشف الخفاء بحوالہ ابن قانع عن الحسن    حدیث۱۳۰۵    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۶۰)
اور یہ ضرور فوق الحاجۃ ہے کہ منفعت ہے یونہی میل کا چھڑانا داخل زینت اور اس میں جو زیارت ہو وہ بھی فوق الحاجۃ۔ یہ معنی ہیں قول خلاصہ کے کہ غیر موسوس کو حاجت سے زیادہ صرف کرنا افضل ہے۔
اقول وبما و فقنی المولی تبارک وتعالی من ھذا التقریر المنیر ظھر الجواب عما اوردہ الامام ابن امیر الحاج اذ قال بعد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ لایعری اطلاق الافضیلۃ المذکورۃ من نظر کما لایخفی علی المتأمل۱؎ اھ وللّٰہ الحمد۔
اقول:
اس تقریرمنیر سے۔جس سے مولٰی تبارک وتعالٰی نے مجھ کوواقف کرایا۔اس اعتراض کاجواب واضح ہوگیاجوامام ابن امیر الحاج نے خلاصہ کی سابقہ عبارت نقل کرنے کے بعد پیش کیاکہ: مذکورہ افضلیت کومطلق رکھنا محلِ نظر ہے جیساکہ تأمل کرنے والے پر مخفی نہیں اھ۔
وللہ الحمد۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
Flag Counter