Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
67 - 135
اقول :  تکلم رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی مادۃ واحدۃ بخصوصہا وقنع عن التعریفات بالامثلۃ احالۃ علی فھم السامع وفی جعل فــ الحلوی والسکر من الزینۃ تامل فان فی الحلوی منافع لیست فی غیرھا وقد کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل کما اخرجہ الستۃ ۱؎ عن ام المومنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا وما کان لیحب ما لا منفعۃ فیہ وقدنہاہ ربہ تبارک وتعالٰی عن زھرۃ الحیوۃ الدنیا فلولم تکن الازینۃ لما احبہا ولعل ماذکر العبد الضعیف امکن وامتن۔
اقول:حضرت محقق رحمہ اللہ تعالٰی نے صرف ایک بات (کھانے) پرکلام کیااورتعریفات پیش کرنے کے بجائے فہم سامع کے حوالے کرتے ہوئے مثالوں پر اکتفاکی۔اورحلوے وشکّر کوزینت شمارکرنا محلّ تامل ہے اس لئے کہ حلوے میں کچھ ایسے فوائد ہیں جو دوسری چیز میں نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حلوا اورشہد پسندفرماتے تھے جیساکہ اصحابِ ستّہ نے ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے۔
اور سرکار کی یہ شان نہ تھی کہ ایسی چیز محبوب رکھیں جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔حالاں کہ انہیں رب تعالٰی نے 

دنیاوی زندگی کی آرائش سے منع فرمایا ہے تویہ اگر محض زینت ہوتا توسرکار اسے پسند نہ فرماتے۔اورشاید بندہ ضعیف نے جوذکرکیاوہ زیادہ پختہ اورمضبوط ہے۔(ت)
فـــ : تطفل علی الفتح والحموی ۔
(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الاشربۃ،باب شرب الحلواء والعسل    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۴۰)

(سنن ابی داؤد     کتاب الاشربۃ ،باب فی شرب العسل     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۶۶)

(سنن الترمذی کتاب الاطعمۃباب ماجاء فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحلو و العسل،حدیث ۱۸۳۸ دارالفکربیروت ۳ /۳۲۷)

(سنن ابن ماجۃ     کتاب الاطعمۃ ،باب الحلواء         ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۲۴۶)
انہیں مراتب کو طہارت میں لحاظ کیجئے تو جس عضو کا جتنا دھونا فرض ہے اُس کے ذرّے ذرّے پر ایک بار پانی تقاطر کے ساتھ اگرچہ خفیف بہہ جانا مرتبہ ضرورت میں ہے کہ بے اس کے طہارت ناممکن اور تثلیث مرتبہ حاجت میں ہے یوں ہی وضو میں مُنہ دھونے سے پہلے کی سنن ثلاث کہ یہ چاروں مؤکدات ہیں اور ان کے ترک میں ضرر
من زاد  او نقص فقد تعدی وظلم
(جس نے اس سے زیادہ یا کم کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ ت) اور ہر بار پانی بفراغت بہنا جس سے کمال تثلیث میں کوئی شبہ نہ گزرے اور ہر ہر ذرّہ عضو پر غور وتامل کی حاجت نہ پڑے یہ منفعت ہے اور غرہ وتحجیل فــ کی اطاعت زینت اور کسی عضو کو قصداً چار بار دھونا فضول۔
فــ:مسئلہ وضو میں غرہ و تحجیل کا بڑھانا مستحب ہے اور اس کے معنٰی کا بیان۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان امتی یدعون یوم القٰیمۃ غرا محجلین من اٰثار الوضوء فمن استطاع منکم ان یطیل غرتہ فلیفعل ۱؎ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وفی لفظ المسلم عنہ انتم الغر المحجلون یوم القٰیمۃ من اسباغ الوضوء فمن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ ۲؎۔
یعنی میری امت کے چہرے اورچاروں ہاتھ پاؤں روزِقیامت وضو کے نور سے روشن و منورہوں گے تو تم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے اسے شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: تم لوگ وضو کامل کرنے کی وجہ سے روزِقیامت روشن چہرے، چمکتے دست و پا والے ہوگے تو تم میں جس سے ہوسکے اپنے چہرے اورہاتھوں کی روشنی زیادہ کرے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوء،باب فضل الوضوء الغر المحجلون من آثار الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۵)

(صحیح مسلم    کتاب الطہارۃ،باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۶)

(۲؎ صحیح مسلم    کتاب الطہارۃ،باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۶)
یعنی میری اُمّت کے چہرے اور چاروں ہاتھ پاؤں روزِقیامت وضو کے نور سے روشن ہوں گے توتم میں جس سے ہوسکے اُسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے یعنی چہرہ کے اطراف میں جو حدیں شرعاً مقرر ہیں اُس سے کچھ زیادہ دھوئے اور ہاتھ نصف بازو اور پاؤں نیم ساق تک۔
دُرمختار میں ہے:
من الاٰداب اطالۃ غرتہ وتحجیلہ۳؎۔
آدابِ وضو میں سے یہ ہے کہ اپنے چہرے اور دست و پا کے نشاناتِ نور زیادہ کرے۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار     کتاب الطہارۃ   مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۴)
Flag Counter