Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
66 - 135
ضرورت :
 یہ کہ اُس کے بغیر گزر نہ ہوسکے جیسے مکان میں
جُحر یتدخلہ۳؎
وہ سوراخ جس میں آدمی بزور سما سکے۔
(۳؎مسند الامام احمد بن حنبل     حدیث ابی عسیب رضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۸۱)
کھانے میں
لقیمات یقمن صلبہ ۴؎
چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سدرمق کریں ادائے فرائض کی طاقت دیں۔
(۴؎سنن ابن ماجہ     کتاب الاطعمہ،باب الاقتصادفی الاکل...الخ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۸)
لباس میں
خرقۃ تواری عورتہ ۱؎
اتنا ٹکڑا کہ ستر عورت کرے۔
(۱؎سنن الترمذی     کتاب الزہد    حدیث ۲۳۴۸    دارالفکربیروت    ۵ /۱۵۳)

(مسند احمدبن حنبل     المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۶۲و ۵ /۸۱)
حاجت:
 یہ کہ بے اُس کے ضرر ہو،جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے، کھانا اتنا جس سے ادائے واجبات وسُنن کی قوت ملے، کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و مجمع ناس میں خلاف ادب وتہذیب ہے مثلاً خالی پاجامے فــ سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
فــ : مسئلہ خالی پاجامہ سے نمازمکروہ تحریمی ہے ۔
ابو داؤد والحاکم عن بریدۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نھی ان یصلی الرجل فی سراویل ولیس علیہ رداء ۲؎۔
ابو داؤد اورحاکم نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی بے چادر اوڑھے صرف پاجامے میں نماز پڑھے۔
(۲؎سنن ابی داؤد     کتاب الصلوۃ،باب من قال تیزر بہ اذاکان ضیقا آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۳)

(المستدرک للحاکم     کتاب الصلوۃ ونہی ان یصلی الرجل وسراویل...الخ     دارالفکربیروت    ۱ /۲۵۰)
مسند احمد وصحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لایصلین احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ من شیئ۳؎۔
ہرگزکوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ دونوں شانے کھُلے ہوں۔
(۳؎صحیح البخاری     کتاب الصلوۃ باب اذاصلی فی الثوب الواحد...الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۲)

(صحیح مسلم         کتاب الصلوۃ ،باب الصلوۃ فی ثوب واحد وصفۃ لبسہ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۹۸)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ          المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۲۴۳)
ولفظ البخاری عاتقۃ بالافراد
(اور بخاری نے مفرد لفظ عاتقہ ذکر کیا ہے۔ ت)
خلاصۃ الفتاوٰی میں ہے :
لوصلی مع السراویل والقمیص عندہ یکرہ۱؎۔
اگر کُرتا ہوتے ہوئے صرف پاجامے میں نماز پڑھی تومکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارۃ ،الجنس فیمایکرہ فی الصلوۃ     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۵۸)
یوں ہی تنہا فــ۱پاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ مردود الشہادۃ خفیف الحرکات ہے۔ یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی پھیلی ہے خصوصاً وہ جن کے مکان سرراہ ہیں۔
فــ۱ :مسئلہ تنہاپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والاساقط العدالۃ مردودالشہادۃ ہے ۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لاتقبل شہادۃ من یمشی فی الطریق بسراویل وحدہ لیس علیہ غیرہ کذا فی النھایۃ۲؎۔
اس کی شہادت مقبول نہیں جو راستے میں اس طرح چلتاہوکہ اس کے جسم پرصرف پاجامہ ہو، اور کچھ نہ ہو۔ایسا ہی نہایہ میں ہے۔(ت)
(۲؎ الفتاوٰی الہندیۃ    کتاب الشہادات الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۴۶۹)
منفعت :
یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اُس کا ہونا اصل مقصود میں نافع ومفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت، کھانے میں سرکہ چٹنی سیری، لباس نماز میں عمامہ۔
زینت :
یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایک معمولی افزائش حسن وخوشنمائی کے سوا اور نفع وتائید غرض نہیں جیسے مکان کے دروں میں محرابیں، کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سُرخ ہو فرنی نہایت سفید براق ہو،کپڑے میں بخیہ باریک ہو قطع میں کج نہ ہو۔
فضول :
یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع وتدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کے کلس دیواروں پر قیمتی غلاف، کھانا کھائے پر میوے شیرینیاں، پائچے گٹوں سے نیچے اوّل مرتبہ فرض میں ہے دوم واجب وسنن مؤکدہ سوم وچہارم سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات وآداب زائدہ تک پنجم باختلاف مراتب مباح ومکروہ تنزیہی وتحریمی سے حرام تک،
قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح ثم السید الحموی فی الغمز قاعدۃ الضرر یزال ھھنا خمسۃ مراتب ضرورۃ وحاجۃ ومنفعۃ وزینۃ وفضول فالضرورۃ بلوغہ حدا ان لم یتناول الممنوع ھلک او قارب وہذا یبیح تناول الحرام والحاجۃ کالجائع الذی لولم یجد ما یاکلہ لم یھلک غیرانہ یکون فی جہد ومشقۃ وھذا لایبیح الحرام ویبیح الفطر فی الصوم والمنفعۃ کالذی یشتھی خبزا لبر ولحم الغنم والطعام الدسم والزینۃ کالمشتھی الحلوی والسکر و الفضول التوسع باکل الحرام والشبھۃ۱؎ اھ
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں،پھر سیدحموی نے غمزالعیون میں فرمایا : قاعدہ -ضرر دورکیاجائے گا۔یہاں پانچ مراتب ہیں۔ ضرورت، حاجت ، منفعت،زینت،فضول۔ضرورت:اس حد کوپہنچ جائے کہ اگر ممنوع چیز نہ کھائے تو ہلاک ہوجائے یا ہلاکت کے قریب پہنچ جائے۔اس سے حرام کاکھانا،جائز ہوجاتا ہے۔اورحاجت جیسے اتنا بھُوکا ہوکہ اگر کھانے کی چیز نہ پائے توہلاک تونہ ہومگر تکلیف اور مشقت میں پڑجائے۔اس سے حرام کا کھانا،جائز نہیں ہوتااورروزے میں افطار مباح ہوجاتاہے۔منفعت جیسے وہ شخص جوگیہوں کی روٹی ،بکری کے گوشت اور چکنائی والے کھانے کی خواہش رکھتاہو۔ زینت جیسے حلوے اورشکرکی خواہش رکھنے ولا۔اور فضول یہ کہ حرام اور مشتبہ چیزکھانے کی وسعت اختیارکرنا۔(ت)
(۱؎ غمز عیون البصائرمع الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن الخ کراچی     ۱ /۱۱۹)
Flag Counter