سیدنافــ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حسن بن زیاد کی روایت کہ مستثنی پانیوں سے آب اول کے نیچے گزری جس کا حاصل یہ تھا کہ ایک رطل پانی سے استنجا اور ایک رطل منہ اور دونوں ہاتھ اور ایک رطل دونوں پاؤں کیلئے، اور اسی کو علّامہ شرف بخاری رحمہ الباری نے مقدمۃالصلاۃ میں ذکرفرمایاکہ ؎
(۱) در وضو آب یک من ونیم ست
غسل راچار من زتعلیم ست
(۲) در وضو کن بہ نیم من استنجا
دار مردست وروئے نیمن را
(۳) پس بداں نیم من کہ مے ماند
پائے شوید ہرانکہ مے داند ۱؎
(۱) پانی وضومیں ڈیڑھ سیرہے غسل کے لیے چارسیرکی تعلیم ہے۔
(۲) وضومیں آدھے سیرسے استنجاکر،ہاتھ اورمنہ کے لیے آدھے سیرکورکھ ۔
(۳) پھراس آدھے سیرسے جوبچتاہے پاؤں دھوئے وہ جوکہ جانتاہے ۔
فــ:مسئلہ منہ دھونے سے پہلے کی تینوں سنتیں بھی اسی ایک مُد میں داخل ہیں یانہیں ۔
(۱؎ نامِ حق فصل سوم دربیان مقدار آب وضوو غسل مکتبہ قادریہ لاہور ص۱۴)
اقول:
اس سے ظاہریہ ہے واللہ تعالٰی اعلم کہ وضو میں صرف فرائض غسل کا حساب بتایا ہے کہ جتنا پانی دونوں پاؤں کیلئے رکھا ہے اُسی قدر مُنہ اور دونوں ہاتھ کیلئے،اول تو اسی قدرے بُعد ہے۔پاؤں کی ساخت اگر عالم کبیر میں شتر کی نظیر ہے جس کے سبب اُس کے تمام اطراف پر گزرنے کیلئے پانی زیادہ درکار ہے تو شک نہیں کہ ناخنِ دست سے کہنی کے اُوپر تک ہاتھ کی مساحت پاؤں سے بہت زائد ہے تو غایت یہ کہ ہاتھ کے برابر پاؤں پر صرف ہو نہ کہ منہ اور دونوں ہاتھ کے مجموعہ کے برابر پاؤوں پر ولہذا حدیث میں ہاتھوں اور پاؤوں پر برابر صرف کا ذکر آیا۔ بخاری و نسائی عــہ وابو بکر بن ابی شیبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
انہ توضأ فغسل وجہہ اخذ غرفۃ من ماء فتمضمض بھا واستنشق ثم اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ثم مسح برأسہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فرش علی رجلہ الیمنی حتی غسلہا ثم اخذ غرفۃ اخری فغسل بھا رجلہ الیسری ثم قال ھکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ۱؎۔
انہوں نے وضوکیا تو اپناچہرہ دھویا ایک چُلو پانی لے کر اس سے کُلی کی اورناک میں ڈالا پھر ایک چُلو لے کر اس طرح کیا۔اسے اپنے بائیں ہاتھ میں ملاکراس سے اپناچہرہ دھویا۔پھرایک چُلوپانی لے کر اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا۔ پھرایک چُلو پانی لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا پھر سرکا مسح کیا۔ پھر ایک چُلو پانی لے کر اسے دائیں پاؤں پرڈال کر اسے دھویا پھر دوسراچلو لے کر اس سے بایاں پاؤں دھویا پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو وضوکرتے دیکھا۔ (ت)
عــہ و رواہ ابو داؤد مختصرا ویاتی وابن ماجۃ ایضا فاختصرہ جدا وفرقہ اھ منہ (م)
عــہ ابو داؤد نے اسے مختصراً روایت کیا۔یہ روایت آگے آئے گی۔او راسے ابن ماجہ نے بھی روایت کیامگر بہت مختصر کردیااوراسے الگ الگ کردیا۱۲منہ۔(ت)
اور اگر اس سے قطع نظر کیجئے تو دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھونا، کُلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، منہ دھونا، دونوں ہاتھ ناخنِ دست سے کہنیوں کے اوپر تک دھونا اس تمام مجموعہ کے برابر صرف دونوں پاؤوں پر صرف ہونا غایت استبعاد میں ہے تو ظاہر یہی ہے کہ ابتدائی سُنتیں یعنی کلائیوں تک ہاتھ تین بار دھونا تین کُلّیاں تین بار ناک میں پانی یہ سب بھی اس حساب یک مُد سے خارج ہو عجب نہیں کہ حدیث رُبیع رضی اللہ تعالٰی عنہا جس میں پورا وضو مع سنن مذکور ہوا اور وضو کا برتن بھی دکھایا اور راوی نے اُس کا تخمینہ ایک مُد اور تہائی تک کیا اُس کا منشا یہی ہو کہ سنن قبلیہ کیلئے ثُلث مُد بڑھ گیا مگر احادیث مطلقہ سے متبادر وضو مع السنن ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
امر چہارم فـــ:
کیا پانی کی یہ مقداریں کہ مذکور ہوئیں حد محدود ہیں کہ ان سے کم وبیش ممنوع۔ ائمہ دین وعلمائے معتمدین مثل امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم اور امام محمود بدر عینی شرح صحیح بخاری اور امام محمد بن امیر الحاج شرح منیہ اور ملّا علی قاری شرح مشکوٰۃ میں اجماعِ امت نقل فرماتے ہیں کہ ان مقادیر پر قصر نہیں مقصود یہ ہے کہ پانی بلاوجہ محض زیادہ خرچ نہ ہو نہ ادائے سنت میں تقصیر رہے پھر کسی قدر ہو کچھ بندش نہیں،حدیث وظاہر الروایۃ میں جو مقادیر و چارمد آئیں اُن سے مراد ادنٰی قدر سنت ہے۔
فـــ :مسئلہ مسلمانوں کااجماع ہے کہ وضو و غسل میں پانی کی کوئی مقدارخاص لازم نہیں ۔
حلیہ میں ہے :
ثم اعلم انہ نقل غیر واحد اجماع المسلمین علی ان الماء الذی یجزئ فی الوضوء والغسل غیر مقدر بمقدار بعینہ بل یکفی فیہ القلیل والکثیر اذا وجد شرط الغسل و ھو جریان الماء علی الاعضاء وما فی ظاھر الروایۃ من ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مدللحدیث المتفق علیہ لیس بتقدیر لازم بل ھو بیان ادنی قدرالماء المسنون فی الوضوء والغسل السابغین ۱؎۔
پھرواضح ہوکہ متعدد حضرات نے اس بات پر اجماعِ مسلمین نقل کیا ہے کہ وضووغسل میں کتنا پانی کافی ہوگااس کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں بلکہ کم وبیش اس میں کفایت کرسکتاہے جب کہ دھونے کی شرط پالی جائے وہ یہ کہ پانی اعضاء پر بہَہ جائے۔ اور وہ جو ظاہرالروایہ میں ہے کہ کم سے کم جتنا پانی غسل میں کفایت کرسکتاہے وہ ایک صاع ہے اور وضو میں ایک مُدکیوں کہ اس بارے میں متفق علیہ حدیث آئی ہے ، تویہ کوئی لازمی مقدارنہیں بلکہ یہ کامل وضو وغسل میں پانی کی ادنٰی مقدار مسنون کا بیان ہے۔(ت)
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اُسی میں ہمارے مشائخ کرام سے ہے:
من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلک اجزأہ وان لم یکفہ زاد علیہ۱؎۔
جواس سے کم میں وضووغسل کامل کرلے اس کے لئے کافی ہے اوراگراتناکفایت نہ کرے تواس پراضافہ کرلے۔(ت)
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
بلکہ ہمارے علماء فـــ۱نے تصریح فرمائی کہ غسل میں ایک صاع سے زیادت افضل ہے۔
فـــ۱:مسئلہ غسل میں ایک صاع سے زیادہ پانی خرچ کرناافضل ہے جب تک حداسراف بے سبب یاوسوسہ کی حالت نہ ہو۔
خلاصۃ الفتاوی میں ہے :
الافضل ان لایقتصر علی الصاع فی الغسل بل یغتسل بازید منہ بعد ان لایؤدی الی الوسواس فان ادی لایستعمل الا قدرالحاجۃ ۲؎۔
افضل یہ ہے کہ غسل میں ایک صاع پرمحدود نہ رکھے بلکہ اس سے زائد سے غسل کرے بشرطیکہ وسوسے کی حد تک نہ پہنچائے اگر ایساہوتوصرف بقدرِ حاجت استعمال کرے۔(ت)