| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
بالجملہ : بحکم متون واحادیث اظہر،وہی مختار بدائع وزیلعی وحلیہ ہے کہ مسواک وضو کی سنت قبلیہ ہے، ہاں سنت مؤکدہ اُسی وقت ہے جبکہ منہ میں تغیر ہو،اس تحقیق پر جبکہ مسواک وضو کی سنّت ہے مگر وضو میں نہیں بلکہ اُس سے پہلے ہے تو جو پانی کہ مسواک میں صرف ہوگا اس حساب سے خارج ہے سنّت یہ ہے کہ مسواک فـــ۲ کرنے سے پہلے دھولی جائے اور فراغ کے بعد دھو کر رکھی جائے اور کم از کم اُوپر کے دانتوں اور نیچے کے دانتوں میں تین تین بار تین پانیوں سے کی جائے۔
فـــ۲:مسئلہ مسواک دھو کر کی جائے اور کرکے دھولیں اورکم ازکم تین تین بارتین پانیوں سے ہو۔
دُرمختار میں ہے :
اقلہ ثلاث فی الاعالی وثلاث فی الاسافل بمیاہ ثلثۃ ۲؎۔
اس کی کم سے کم مقداریہ ہے کہ تین بار اوپرکے دانتوں میں، تین بارنیچے کے دانتوں میں، تین تین پانیوں سے ہو۔
(۲؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱)
صغیری میں ہے:
یغسلہ عد الاستیاک وعند الفراغ منہ ۱؎۔
مسواک کو مسواک کرنے کے وقت اوراس سے فارغ ہونے کے بعد دھولے۔(ت)
(۱؎ صغیری شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک مطبع مجتبائی دہلی ص۱۴)
(۵) اس قدر تو درکار ہی ہے اور اُس کے ساتھ اگر منہ میں کوئی تغیر رائحہ ہوا تو جتنی بار مسواک اور کُلّیوں سے اس کا ازالہ ہو لازم ہے اس کیلئے کوئی حد مقرر نہیں بدبو دار کثیف فــ۱ بے احتیاطی کا حقّہ پینے والوں کو اس کا خیال سخت ضروری ہے اور اُن سے زیادہ سگریٹ والے کہ اس کی بدبو مرکب تمباکو سے سخت تر اور زیادہ دیرپا ہے اور ان سب سے زائد اشد ضرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اُس کا جِرم دبا رہتا اور منہ کو اپنی بدبو سے بسا دیتا ہے یہ سب لوگ وہاں تک مسواک اور کُلّیاں کریں کہ منہ بالکل صاف ہوجائے اور بُو کا اصلاً نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے منہ کے قریب لے جاکر منہ کھول کر زور سے تین بار حلق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اور معاً سونگھیں بغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے،اور جب منہ میں فــ۲ بدبو ہوتو مسجد میں جانا حرام نماز میں داخل ہونا منع
واللّٰہ الہادی۔
فــ۱:مسئلہ حقہ اورسگرٹ پینے اورتمباکوکھانے والوں کے لئے مسواک میں کہاں تک احتیاط واجب ہے اوران کے امتحان کاطریقہ۔ فــ۲:مسئلہ منہ میں بدبو ہوتوجب تک صاف نہ کرلیں مسجدمیں جانایانمازپڑھنامنع ہے۔
(۶) یوں ہی جسے تر کھانسی ہو اور بلغم کثیر ولزوج کہ بمشکل بتدریج جُدا ہو اور معلوم ہے کہ مسواک کی تکرار اور کُلیوں غراروں کا اکثار اُس کے خروج پر معین تو اُس کے لئے بھی حد نہیں باندھ سکتے۔ (۷) یہی حال زکام کا ہے جبکہ ریزش زیادہ اور لزوجت دار ہو اُس کے تصفیہ اور بار بار ہاتھ دھونے میں جو پانی صرف ہو وہ بھی جدا اور نامعین المقدار ہے۔ (۸) پانوں کی فــ۳ کثرت سے عادی خصوصاً جبکہ دانتوں میں فضا ہو تجربہ سے جانتے ہیں کہ چھالیا کے باریک ریزے اور پان کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس طرح منہ کے اطراف واکناف میں جاگیر ہوتے ہیں کہ تین بلکہ کبھی دس بارہ کُلیاں بھی اُن کے تصفیہ تام کو کافی نہیں ہوتیں، نہ خلال اُنہیں نکال سکتا ہے نہ مسواک سوا کُلیوں کے کہ پانی منافذ میں داخل ہوتا اور جنبشیں دینے سے اُن جمے ہوئے باریک ذرّوں کو بتدریج چھڑ چھڑا کرلاتا ہے اس کی بھی کوئی تحدید نہیں ہوسکتی اور یہ کامل تصفیہ بھی بہت مؤکد ہے متعددفــ۱ احادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بندہ نماز کو کھڑا ہوتا ہے فرشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھتا ہے یہ جو کچھ پڑھتا ہے اس کے منہ سے نکل کر فرشتہ کے منہ میں جاتا ہے اُس وقت اگر کھانے کی کوئی شے اُس کے دانتوں میں ہوتی ہے ملائکہ کو اُس سے ایسی سخت ایذا ہوتی ہے کہ اور شے سے نہیں ہوتی۔
فــ۳ :مسئلہ پان کے عادی کوکلیوں میں کتنی احتیاط لازم ۔ فـــ:مسئلہ نمازمیں منہ کی کمال صفائی کالحاظ لازم ہے ورنہ فرشتوں کوسخت ایذاہوتی ہے ۔
البیہقی فی الشعب وتمام فی فوائدہ والدیلمی فی مسند الفردوس والضیاء فی المختارۃ عن جابر رضی اللّٰہ تعالی عنہ بسند صحیح قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذا قام احدکم یصلی من اللیل فلیستک فان احدکم اذا قرأ فی صلاتہ وضع ملک فاہ علی فیہ ولا یخرج من فیہ شیئ الادخل فم الملک ۱؎ ۔
بیہقی شعب الایمان میں،تمام فوائد میں، دیلمی مسندالفردوس میں،اور ضیاء مختارہ میں حضرت جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسندِ صحیح راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑاہوتو مسواک کرلے اس لئے کہ جب وہ اپنی نمازمیں قراء ت کرتاہے توایک فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور جو قراء ت اس کے منہ سے نکلتی ہے فرشتے کے منہ میں جاتی ہے۔
(۱؎ کنز العمال بحوالہ شعب الایمان وتمام والدیلمی حدیث ۲۶۲۲۱ مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۹ /۳۱۹)
وللطبرانی فی الکبیر عن ابی ایوب الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لیس شیئ اشد علی الملکین من ان یریابین اسنان صاحبھما شیئا وھو قائم یصلی ۲؎ وفی الباب عند ابن المبارک فی الزھد عن ابی عبدالرحمن السلمی عن امیر المومنین علی رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم والدیلمی عن عبداللّٰہ بن جعفر رضی اللّٰہ تعالی عنہما عنہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وابن نصر فی الصّلاۃ عن الزھری عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مرسلا والاٰجری فی اخلاق حملۃ القراٰن عن علی کرم اللّٰہ وجہہ موقوفا۔
اورمعجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:دونوں فرشتوں پر اس سے زیادہ گراں کوئی چیزنہیں کہ وہ اپنے ساتھ والے انسان کے دانتوں کے درمیان کھانے کی کوئی چیز پائیں جب وہ کھڑانماز پڑھ رہاہو۔اوراس بارے میں امام عبداللہ بن مبارک کی کتاب الزہد میں بھی حدیث ہے جوابوعبدالرحمٰن سلمی سے مروی ہے وہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں۔اوردیلمی نے بھی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے ،نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اورابن نصرنے کتاب الصّلوٰۃ میں امام زہری سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مرسلاً، اورآجری نے اخلاق حملۃ القرآن میں حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے موقوفاً روایت کی ہے۔(ت)
(۲؎ المعجم الکبیر حدیث ۴۰۶۱ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ /۱۷۷)