اقول : یؤیدہ حدیث الدیلمی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم السواک سنۃ فاستاکوا ای وقت شئتم۳؎ ۔
اقول : اس کی تائید دیلمی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:مسواک سنت ہے توتم جس وقت چاہومسواک کرو۔
ولکن اوَّلاً : لاکونہ فــ۱ سنۃ فی الوضوء ینفی کونہ من سنن الدین بل یقررہ ولاکونہ سنۃ مستقلۃ ینافی کونہ من سنن الوضوء کما قررنا الا تری ان الماثور عنہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ انہ من سنن الدین واطبقت حملۃ عرش مذھبہ المتین المتون انہ من سنن الوضوء ونصھا عین نصہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ۔
لیکن اوّلاً :
نہ تواس کاسنتِ وضوہونا، سنتِ دین ہونے کی نفی کرتاہے۔بلکہ اس کی تائیدکرتاہے۔ اورنہ ہی اس کا سنت مستقلہ ہونا، سنتِ وضو ہونے کے منافی ہے جیسا کہ ہم نے تقریر کی۔ یہی دیکھئے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ مسواک دین کی ایک سنت ہے اوران کے مذہب متین کے حامل جملہ متون کااس پر اتفاق ہے کہ مسواک وضو کی ایک سنت ہے۔اورنصِ متون خود امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کانص ہے۔
فــ۱:تطفل علی الامام العینی۔
وثانیا : ھذا الامام العینی فــ۲نفسہ ناصا قبل ھذا بنحو ورقۃ ان باب السواک من احکام الوضوء عند الاکثرین ۱؎ اھ فلم نعدل عن قول الاکثرین وعن اطباق المتون لروایۃ عن الامام لاتنافیہ اصل۔
ثانیاً :
خود امام عینی نے اس سے ایک ورق پہلے صراحت فرمائی ہے کہ اکثرحضرات کے نزدیک مسواک کاباب احکامِ وضوسے ہے اھ توہم قولِ اکثراوراتفاق متون سے امام کی ایک ایسی روایت کے سبب عدول کیوں کریں جو اس کے منافی بھی نہیں ہے۔
فــ۲:تطفل آخرعلیہ ۔
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب السواک دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۷۲)
وثالثا: اعجب فــ۳من ھذا قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی شرح قول الکنز وسنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک اذ قال الامام الزیلعی قولہ والسواک یحتمل وجھین احدھما ان یکون مجرورا عطفا علی التسمیۃ والثانی ان یکون مرفوعا عطفا علی الغسل والاول اظھر لان السنۃ ان یستاک عند ابتداء الوضوء۱؎ اھ مانصہ بل الاظھر ھو الثانی لان المنقول عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ علی ما ذکرہ صاحب المفید ان السواک من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال ۲؎ اھ۔
ثالثا :
اس سے زیادہ عجیب شرح کنز میں علامہ عینی کاکلام ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ کنز کی عبارت یہ ہے:''سنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک''۔(وضو کی سنت گٹوں تک دونوں ہاتھوں کو شروع میں دھونا ہے جیسے تسمیہ اور مسواک)۔اس پر امام زیلعی نے فرمایا:لفظ السواک کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ لفظ التسمیۃ پر معطوف ہوکرمجرورہو۔دوسری یہ کہ لفظ غسل (دھونا) پر معطوف ہوکر مرفوع ہو۔ اوراول زیادہ ظاہر ہے اس لئے کہ سنت یہ ہے کہ ابتدائے وضوکے وقت مسواک کرے اھ۔ اس پر علامہ عینی فرماتے ہیں: بلکہ زیادہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ جیسا کہ صاحبِ مفید نے ذکرکیا ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول یہ ہے کہ مسواک دین کی سنتوں میں سے ہے تواس صورت میں اس کے اندرتمام احوال برابر ہیں اھ۔
اقول : کونہ من سنن الدین کان یقابل عندکم کونہ من سنن الوضوء فما یغنی الرفع مع کونہ عطفا علی خبر سنتہ ای سنۃ الوضوء وبوجہ اخرفـــ ما المراد باستواء الاحوال نفی ان یختص بہ حال بحیث تفقد السنیۃ فی غیرہ ام نفی التشکیک بحسب الاحوال بحیث لایکون التصاقہ ببعضھا ازید من بعض علی الاول لاوجہ لاستظہار الثانی فلو کان سنۃ فی ابتداء الوضوء ای اشد طلبا فی ھذا الوقت والصق بہ لم ینتف استنانہ فی غیر الوضوء وعلی الثانی لاوجہ للثانی ولا للاول فضلا عن کون احدھما اظھر من الاخر۔
اقول :
آپ کے نزدیک مسواک کا سنتِ دین ہونا،سنتِ وضو ہونے کے مقابل تھا تولفظ السواک کے مرفوع ہونے سے کیاکام بنے گاجب کہ وہ لفظ
سنتہ
(یعنی سنتِ وضو)کی خبرپرعطف ہوگا(یعنی یہ ہوگاکہ اور - وضو کی سنت-مسواک کرنابھی ہے۔ تواس ترکیب پربھی سنتِ دین کے بجائے سنتِ وضو ہوناہی نکلتاہے۱۲م)
بطرزِ دیگر تمام احوال کے برابر ہونے سے کیا مراد ہے (۱)یہ کہ کسی حال میں مسواک کی ایسی کوئی خصوصیت نہیں جس کے باعث وہ دوسرے حال میں مسنون نہ رہ جائے (۲)یا احوال کے لحاظ سے تشکیک کی نفی مقصود ہے اس طرح کہ مسواک کابعض احوال سے تعلق بعض دیگر سے زیادہ نہ ہو۔اگرتقدیراول مراد ہے تولفظ السواک کے رفع کوزیادہ ظاہرکہنے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ مسواک اگر ابتدائے وضو میں سنت ہو۔یعنی اس وقت میں اس کا مطالبہ اوراس سے اس کا تعلق زیادہ ہو۔تواس سے غیر وضو میں اس کی مسنونیت کی نفی نہیں ہوتی۔برتقدیر دوم نہ ترکیب ثانی کی کوئی وجہ رہ جاتی ہے نہ ترکیب اوّل کی کسی ایک کادوسری سے زیادہ ظاہر ہوناتودرکنار۔(کیونکہ تمام احوال کے برابر ہونے کا مطلب جب یہ ٹھہراکہ کسی بھی حال سے اس کا تعلق دوسرے سے زیادہ نہیں، تو نہ یہ کہنے کی کوئی وجہ رہی کہ ابتدائے وضومیں سنت ہے نہ یہ ماننے کی وجہ رہی کہ وضو میں مطلقاً سنّت ہے۱۲م)
فــ:تطفل رابع علیہ ۔
والعجب من البحر صاحب البحرانہ جعل الاولی کون وقتہ عند المضمضۃ لاقبل الوضوء وتبع الزیلعی فی ان الجر اظھر لیفید ان الابتداء بہ سنۃ نبہ علیہ اخوہ فی النھر رحمھم اللّٰہ تعالی جمیعا۔
اور صاحبِ بحر پرتعجب ہے کہ ایک طرف توانہوںنے یہ ماناہے کہ وقت مسواک حالتِ مضمضہ میں ہونا اولٰی ہے قبلِ وضونہیں،اوردوسری طرف انہوںنے کنز میں لفظ السواک کاجرزیادہ ظاہر ماننے میں امام زیلعی کی پیروی بھی کرلی ہے جس کا مفادیہ ہے مسواک وضو کے شروع میں ہوناسنّت ہے۔ اس پر ان کے برادر نے النہر الفائق میں تنبیہ کی،
رحمہم اللہ تعالٰی جمیعا۔
اما تعلیل الفتح ان لاسنیۃ دون المواظبۃ۱؎ ولم تثبت عند الوضوء۔
اب رہی فتح القدیر کی یہ تعلیل کہ بغیر مداومت کے سنّیت ثابت نہیں ہوتی اور وقتِ وضو مداومت ثابت نہیں۔
(۱؎فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۲)
اقول : الدلیل فـــ۱ اعم من الدعوی فان المقصود نفی الاستنان للوضوء والدلیل نفی کونہ من السنن الداخلۃ فیہ فلم لایختار کونہ سنۃ قبلیۃ للوضوء۔
اقول: دلیل دعوی سے اعم ہے،اس لئے کہ مدعایہ ہے کہ مسواک وضو کے لئے سنت نہیں۔ اور دلیل یہ ہے کہ مسواک وضو کے اندر سنت نہیں ۔ توکیوں نہ یہ اختیارکیاجائے کہ مسواک وضو کی سنتِ قبلیہ ہے(یعنی وضو کے اندر تو نہیں مگر اس سے پہلے مسواک کرلینا سنتِ وضو ہے۱۲م)