عن عبداللّٰہ بن المثنی قال حدثنی بعض اھل بیتی عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رجلا من الانصار من بنی عمرو بن عوف قال یا رسول اللّٰہ انک رغبتنا فی السواک فھل دون ذلک من شیئ قال اصبعک سواک عند وضوء ک تمر بھا علی اسنانک انہ لاعمل لمن لانیۃ لہ ولا اجر لمن لاخشیۃ لہ ۱؎۔
عبداللہ بن المثنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیان کیاکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ بنی عمرو بن عوف سے ایک انصاری نے عرض کی یارسول اللہ! حضورنے مسواک کی طرف ہمیں ترغیب فرمائی کیااس کے سوابھی کوئی صورت ہے؟ فرمایا: وضوکے وقت تیری انگلی مسواک ہے کہ اپنے دانتوں پرپھیرے،بیشک بے نیت کے کوئی عمل نہیں اوربے خوف الہٰی کے ثواب نہیں۔
(۱؎ السنن الکبری کتاب الطہارۃ،باب الاستیاک بالاصابع دارصادربیروت ۱ /۴۱)
اقول اولاً :
یہ حدیث ضعیف ہے
لما تری من الجہالۃ فی سندہ وقد ضعفہ البیہقی۔
(جیساکہ تو دیکھتا ہے اس کی سند میں جہالت ہے،اور امام بیہقی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ت)
ثانیا و ثالثاً : لفظ عند وضوء ک
میں وہی مباحث ہیں کہ گزرے۔
حدیث چہارم :
ایک حدیث مرسل میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الوضوء شطر الایمان والسواک شطر الوضوء رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ۲؎ عن حسان بن عطیۃ و رستۃ فی کتاب الایمان عنہ بلفظ السواک نصف الوضوء والوضوء نصف الایمان۳؎ ۔
وضوایمان کا حصّہ ہے اور مسواک وضوکاحصہ ہے۔اس کو ابوبکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا،اور رستہ نے اس کو ان سے کتاب الایمان میں ان الفاظ سے روایت کیاکہ:مسواک نصف وضو ہے اور وضونصف ایمان۔(ت)
یعنی ایمان بے وضو کامل نہیں ہوتا اور وضو بے مسواک۔اس سے مسواک کا داخل وضو ہونا ثابت نہیں ہوتا جس طرح وضو داخل ایمان نہیں ہاں وجہ تکمیل ہونا مفہوم ہوتا ہے وہ ہر سنت کیلئے حاصل ہے قبلیہ ہو یا بعدیہ جس طرح صبح و ظہر کی سنتیں فرضوں کی مکمل ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
ثالثا اقول :
جب محقق ہو لیا کہ مسواک سنّت ہے اور ہمارے علما اُسے سنّتِ وضو مانتے اور شافعیہ کے ساتھ اپنا خلاف یونہی نقل فرماتے ہیں کہ اُن کے نزدیک سنّتِ نماز ہے اور ہمارے نزدیک سنّتِ وضو اور متون مذہب قاطبۃًیک زبان یک زبان صریح فرمارہے ہیں کہ مسواک سننِ وضو سے ہے تو اُس سے عدول کی کیا وجہ ہے،سنّتِ شے قبلیہ ہوتی ہے یا بعدیہ یا داخلہ جیسے رکوع میں تسویہ ظہر۔ مگر روشن بیانوں سے ثابت ہواکہ مسواک وضو کی سنت داخلہ نہیں کہ سنت بے مواظبت نہیں اور وضو کرتے میں مسواک فرمانے پر مداومت درکنار اصلا ثبوت ہی نہیں اور سنت بعدیہ نہ کوئی مانتا ہے نہ اس کا محل ہے کہ مسواک سے خون نکلے تو وضو بھی جائے۔
بحرالرائق میں ہے:
وعللہ السراج الھندی فی شرح الھدایۃ بانہ اذا استاک للصلاۃ ربما یخرج منہ دم وھو نجس بالاجماع وان لم یکن ناقضا عندالشافعی رضی اللّٰہ تعالی عنہ۱؎ ۔
اور سراج ہندی نے اپنی شرح ہدایہ میں اس کی علّت یہ بیان فرمائی کہ جب نماز کے لئے وضوکرے گاتوبعض اوقات اس سے خون نکل جائے گا۔ اوریہ بالاجماع نجس ہے اگرچہ امام شافعی کے نزدیک ناقضِ وضو نہیں۔(ت)
لاجرم ثابت ہواکہ سنت قبلیہ ہے اوریہی مطلوب تھااورخود حدیث صحیح مسلم اس کی طرف ناظر،اورحدیث ابی داؤد اس میں نص ۔
کما تقدم اما تعلیل التبیین عدم استنانہ فی الوضوء بانہ لایختص بہ ۔
جیسا کہ گزرا،مگر تبیین میں مسواک کے سنتِ وضونہ ہونے کی علّت یہ بتانا کہ مسواک وضو کے ساتھ خاص نہیں۔(ت)
اقول اولا : لا یلزم فـــ۱ لسنۃ الشیئ الاختصاص بہ الا تری ان ترک اللغوسنۃ مطلقا ویتأکد استنانہ للصائم والمحرم والمعتکف والتسمیۃ کمالا تختص بالوضوء لاتختص بالاکل ولا یسوغ انکار انھا سنۃ للاکل،وثانیا اذافـــ۲ واظب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی شیئ فی شیئین فہل یکون ذلک سنۃ فیہما او فی احدھما اولا فی شیئ منھما الثالث باطل و الا یختلف المحدود مع صدق الحد وکذا الثانی مع علاوۃ الترجیح بلا مرجح فتعین الاول وثبت ان الاختصاص لایلزم الاستنان۔
اقول :
اس پر
اوّلا
یہ کلام ہے کہ سنّتِ شَے ہونے کے لئے یہ لازم نہیں کہ اس شَے کے ساتھ خاص بھی ہو۔دیکھئے ترک لغومطلقاً سنت ہے اورروزہ درا،صاحبِ احرام اورمعتکف کے لئے اس کامسنون ہونااورمؤکّد ہو جاتاہے۔ اورتسمیہ جیسے وضو کے ساتھ خاص نہیں کھانے کے ساتھ بھی خاص نہیں مگر تسمیہ کے کھانے کی سنت ہونے سے انکارکی گنجائش نہیں۔دوسرا کلام یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کسی عمل پردوچیزوں کے اندر مواظبت فرمائیں تووہ ان دونوں میں سنت ہوگا یاایک میں ہوگایاکسی میں نہ ہوگا۔تیسری شق باطل ہے ورنہ لازم آئے گا کہ تعریف صادق ہے اور مُعَرَّف صادق ہی نہیں۔یہی خرابی دوسری شق میں بھی لازم آئے گی،مزیدبرآں ترجیح بلامرجّح بھی۔توپہلی شق متعین ہوگئی اورثابت ہوگیا کہ سنت ہونے کے لئے خاص ہونا لازم نہیں۔
فـــ۱:تطفل علی الامام الزیلعی ۔
فـــ۲:تطفل آخرعلیہ ۔
اما ما فی عمدۃ القاری اختلف العلماء فیہ فقال بعضھم انہ من سنۃ الوضوء وقال اخرون انہ من سنۃ الصلاۃ وقال اخرون انہ من سنۃ الدین وھو الاقوی نقل ذلک عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۱؎ اھ ذکرہ فی باب السواک من ابواب الوضوء زاد فی باب السواک یوم الجمعۃ ان المنقول عن ابی حنیفۃ انہ من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال ۲؎ اھ۔
اب رہا وہ جو عمدۃ القاری میں ہے:اس کے بارے میں علماء کااختلاف ہے،بعض نے فرمایا سنتِ وضوہے بعض دیگر نے کہاسنتِ نماز ہے۔اور کچھ حضرات نے فرمایاسنتِ دین ہے، اوریہی زیادہ قوی ہے،یہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے اھ،یہ علامہ عینی نے ابواب الوضو کے باب السواک میں ذکرکیا،اور باب السواک یوم الجمعہ میں اتنا اضافہ کیا:امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ''مسواک دین کی سنتوں میں سے ہے''۔تو اس میں تمام احوال برابر ہوں گے اھ۔
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء ،باب السواک تحت حدیث ۲۴۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۷۴)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعۃ،باب السواک...الخ تحت حدیث ۸۸۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ /۲۶۱)