بے شک بندہ جب اپنے پاؤں دھوتاہے اُس کے گناہ دورہوجاتے ہیں اورجب مُنہ دھوتااورکُلی کرتادھوتا مانجھتاپانی سونگھتاسرکا مسح کرتاہے اس کے کانوں ، آنکھوں اور زبان کے گناہ نکل جاتے ہیں،اورجب کلائیاں اورپاؤں دھوتاہے ایسا ہوجاتاہے جیسا اپنی ماں سے پیدا ہوتے وقت تھا۔
(۱؎المعجم الاوسط حدیث ۴۳۹۴ مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۲۰۲)
(کنز العمال حدیث ۲۶۰۴۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ /۲۸۹)
اقول اولا :
شوص دھونا اور پاک کرنا ہے
کما فی الصحاح
(جیساکہ صحاح میں ہے ۔ت)
وقال الرازی:
الشوص الغسل والتنظیف ۲؎ اھ
شوص کے معنے دھونا اورصاف کرناہے اھ۔(ت)
(۲؎ الصحاح( للجوہری) با ب الصاد فصل الشین داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۸۷۶)
اور قاموس میں ہے: ہاتھ سے ملنا۔مسواک چبانا اور اس سے دانت مانجنا۔یامسواک کرنا۔ڈاڑھ اور پیٹ کادرد ۔ دھونا اور صاف کرنا۔(ت)
(۱؎ القاموس المحیط باب الصاد فصل الشین مصطفی البابی مصر ۲ /۳۱۸)
ثانیا :
حدیث میں افعال بترتیب نہیں تو ممکن کہ مسواک سب سے پہلے ہو اور یہی حدیث کہ امام احمد نے بسند حسن مرتباً روایت کی اس میں ذکر شوص نہیں، اس کے لفظ یہ ہیں:
عن ابی امامۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم قال ایما رجل قام الی وضوئہ یرید الصلاۃ ثم غسل کفیہ نزلت کل خطیئۃ من کفیہ مع اول قطرۃ فاذا مضمض واستنشق واستنثر نزل کل خطیئۃ من لسانہ وشفتیہ مع اول قطرۃ فاذا غسل وجہہ نزلت کل خطیئۃ من سمعہ وبصرہ مع اول قطرۃ فاذا غسل یدہ الی المرفقین ورجلہ الی الکعبین سلم من کل ذنب کھیاۃ یوم ولدتہ امہ ۲؎۔
(حضرت ابی امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:)جب آدمی نماز کے ارادے سے وضو کواٹھے پھر ہاتھ دھوئے توہاتھ کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ نکل جائیں،پھر جب کُلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے اور صاف کرے زبان ولب کے سب گناہ پہلی بوند کے ساتھ ٹپک جائیں،پھر جب منہ دھوئے آنکھ کان کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ اُترجائیں، پھر جب کُہنیوں تک ہاتھ اور گٹّوں تک پاؤں دھوئے سب گناہوں سے ایساخالص ہوجائے جیساجس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔
(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ الباہلی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۲۶۳)
فائدہ: فــ
یہ نفیس وعظیم بشارت کہ امت محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر رب عزوجل کا عظیم فضل اور نمازیوں کیلئے کمال تہنیت اور بے نمازوں پر سخت حسرت ہے بکثرت احادیث صحیحہ معتبرہ میں وارد ہوئی اس معنی کی حدیثیں حدیث ابو امامہ کے علاوہ صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین عثمٰن عـ۱ غنی وابو ہریرہ عــ۲ وعمرو بن عــ۳ عبسہ اور مالک واحمد ونسائی وابن ماجہ وحاکم کے یہاں عبداللہ صنابحی اور طحاوی ومعجم کبیر طبرانی میں عباد والد ثعلبہ اور مسند احمد میں مرہ بن کعب اور مسند مسددو ابی یعلی میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی ہیں ان میں حدیث صنابحی وحدیث عمرو سب سے اتم ہیں کہ ان میں ناک کے گناہوں کا بھی ذکر ہے اور مسحِ سر کرنے سے سر کے گناہ نکل جانے کا بھی۔
فــ : وضوسے گناہ دھلنے کی حدیثیں۔
عــ۱ : رواہ ایضااحمد وابن ماجۃ ۱۲منہ ۔
عــ۱ : اوراسے امام احمد وابن ماجہ نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)۔
عــ۲ : ورواہ ایضامالک والشافعی والترمذی والطحاوی ۱۲منہ۔
عــ۲ : اوراسے اما م مالک،اما م شافعی اورترمذی وطحاوی نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)
عــ۳: ورواہ ایضا احمدوابوبکر بن ابی شیبۃ والامام الطحاوی والضیاء وھوعند الطبرانی فی الاوسط مختصراوابن زنجویۃ بسندصحیح ۱۲منہ ۔
عــ۳ : اوراسے امام احمد ابوبکربن ابی شیبہ ،امام طحاوی اورضیاء نے بھی روایت کیااوریہ طبرانی کی معجم اوسط میں مختصرا اورابن زنجویۃ کے یہاں بسندصحیح مروی ہے ۱۲منہ (ت)
ففی الاول اذا استنثر خرجت الخطایا من انفہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین فاذا مسح رأسہ خرجت الخطایا من رأسہ حتی تخرج من اذنیہ۱؎
حدیث صنابحی میں یہ ہے:''جب ناک صاف کرے توناک کے گناہ گرجائیں''۔پھر چہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکر کے بعد ہے:''پھراپنے سرکامسح کرے تو اس کے سر سے گناہ نکل جائیں یہاں تک کہ کانوں سے بھی نکل جائیں''۔
(۱؎کنز العمال بحوالہ مالک ،حم،ن،ھ،ک حدیث۲۶۰۳۳ مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۹ /۲۸۵)
(مؤطا الامام مالک کتاب الطہارۃ،باب جامع الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۱)
(مسند احمد بن حنبل حدیث ابی عبد اللہ الصنابحی المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۳۴۸ و ۳۴۹)
(سنن النسائی کتاب الطہارۃ،باب مسح الاذنین مع الرأس نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۹)
(المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دار الفکر بیروت ۱ /۱۲۹)
وفی الثانی مامنکم رجل یقرب وضوء ہ فیتمضمض ویستنشق ویستنثر الاخرجت خطایا وجہہ من فیہ وخیاشمہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین ثم یمسح رأسہ الاخرجت خطایا رأسہ من اطراف شعرہ مع الماء ۱؎۔
اورحدیثِ عمرو میں ہے :''تم میں جوبھی وضو کے لئے جاکر کُلی کرے ناک میں پانی ڈالے اور جھاڑ ے تواس کے چہرے کے گناہ منہ سے اور ناک کے بانسوں سے نکل پڑیں''۔پھرچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکرکے بعد ہے:'' پھراپنے سرکامسح کرے تواس کے سر کے گناہ بال کے کناروں سے پانی کے ساتھ گرجائیں''۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ مالک ،حم ،م حدیث ۲۶۰۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ /۲۸۶)
(صحیح مسلم کتاب صلوۃالمسافرین،باب اسلام عمروبن عبسۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۶)
بہت علماء فرماتے ہیں یہاں گناہوں سے صغائر مراد ہیں۔
اقول:
تحقیق یہ ہے کہ کبائر بھی دُھلتے ہیں اگرچہ زائل نہ ہوں یہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ اکابر اولیائے کرام قدست اسرارہم کا مشاہدہ ہے جسے فقیر نے رسالہ
''الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل(۱۳۲۰ھ)''
میں ذکر کیا اور کرم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بحرِ بے پایاں ہے
حدث عن البحر ولاحرج والحمدللّٰہ رب العٰلمین
(بحرسے بیان کیا،اس میں کوئی حرج نہیں والحمدللہ رب العلمین ۔ت)اور بات وہ ہے جو خود مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت بیان کرکے ارشاد فرمائی کہ لاتغتروا اس پر مغرور نہ ہونا