Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
60 - 135
    اور بعض میں ذکر وضو ہے یعنی :
    مع کل وضوء یا عندکل وضوء رواہ الائمۃ مالک والشافعی واحمد والنسائی وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی ھریرۃ ۳؎
ہر وضو کے ساتھ یا ہر وضوکے وقت ۔اسے امام مالک، امام شافعی،امام احمد،نسائی،ابن خزیمہ،ابن حبان ، حاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے ۔
(۳؎مؤطاالامام مالک لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک     میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۵۱)

(الام للشافعی     کتاب الطہارۃ باب السواک     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۷۵)

(مسند الامام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ     المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۲۴۵)

(سنن النسائی     کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواک الخ         نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۶)

(صحیح ابن خزیمہ     حدیث ۱۴۰    المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۷۳)

(المستدرک للحاکم     کتاب الطہارۃ     دارلفکربیروت    ۱ /۱۴۶)

(السنن الکبری للبیہقی     کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواک الخ     دارصادربیروت    ۱ /۳۶)
والطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن علی ۴؎ وفی الکبیر عن تمام بن العباس ۵؎ وابن جریر عن زید بن خالد ۶؎رضی اللّٰہ تعالی عنہم اجمین۔
اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسندِ حسن حضرت علی سے ۔ اورمعجم کبیر میں تمام بن عباس سے۔ اور ابن جریرنے زید بن خالد سے روایت کی۔رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔(ت)
(۴؎المعجم الاوسط     حدیث ۱۲۶۰    مکتبۃ المعارف بیروت     ۲ /۱۳۸)

(۵؎المعجم الکبیر    حدیث ۱۳۰۲    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۲ /۶۴)

(۶؎ کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن زید بن خالد حدیث ۲۶۱۹۹    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۳۱۶ )
جب روایات متواترہ میں عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ آنے سے ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک نماز سے اتصال بھی ثابت نہ ہوا بلکہ اتصال حقیقی اصلا کسی کا قول نہیں حتی کہ شافعیہ جو اُسے سننِ نماز سے مانتے ہیں تو بعض روایات میں عند کل وضوء آنے سے داخل وضو ہوناکیونکر رنگ ثبوت پائے گا۔
فلیست فــ عند لجعل مدخولہاظرفا لموصوفہا بحیث یقع فیہ انما مفادھا القرب والحضور حسا اومعنی فلا تقول زید عند الدار اذا کان فیہا بل اذا کان قریبا منھا والقرب المفہوم ھو العرفی دون الحقیقی ولہ عرض عریض الاتری الی قولہ تعالی
عند سدرۃ المنتھی عندھا جنۃ المأوی ۱؎
مع ان السدرۃ فی السماء السادسۃ کما فی صحیح مسلم عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۲؎ والجنۃ فوق السمٰوٰت ۔
کیونکہ لفظ ''عند''یہ بتانے کے لئے نہیں کہ اس کا مدخول اس کے موصوف کاایساظرف ہے کہ وہ اسی کے اندرواقع ہے بلکہ اس کا مفاد صرف قریب اور حاضرہوناہے حسّاً یا معنًی۔زید عندالدار(زید گھر کے پاس ہے)اُس وقت نہیں بولتے جب زید گھر کے اندر ہو بلکہ اس وقت بولتے ہیں جب گھر سے قریب ہو۔اوریہاں جو قریب سمجھاجاتاہے وہ عرفی ہوتاہے حقیقی نہیں ہوتا۔اور قرب عرفی کا میدان بہت وسیع ہے۔ دیکھئے باری تعالٰی کا ارشاد ہے:''سدرۃ المنتہٰی کے پاس،اسی کے پاس جنۃ الماوٰی ہے''۔حالاں کہ سدرہ چھٹے آسمان میں ہے۔ جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔اور جنت آسمانوں کے اوپرہے۔
فـــ : بیان مفاد عند۔
(۱؎القرآن الکریم     ۵۳ /۱۴و۱۵)

(۲؎صحیح مسلم     کتاب الایمان باب الاسراء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۹۷)

وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواک فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ کراھتہ فی المسجد لاستقذارہ والمسجد ینزہ عنہ ۱؎ اھ۔
وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواک فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ کراھتہ فی المسجد لاستقذارہ والمسجد ینزہ عنہ ۱؎ اھ۔
ہماری اس تقریر سے اس کا ضُعف واضح ہوگیاجوعمدۃ القاری میں اس حدیث کے تحت رقم ہوگیاکہ:اس سے مسجد کے اندرمسواک کرنے کا جواز ثابت ہوتاہے، اس لئے کہ ''عند'' حقیقۃً ظرفیت چاہتاہے تواس کا تقاضایہ ہوگاکہ مسواک ہرنمازکے اندرمستحب ہو۔ اور بعض مالکیہ کے نزدیک یہ ہے کہ مسجد میں مسواک کرنامکروہ ہے کیونکہ اس سے گندگی ہوگی اور مسجدکواس سے بچایاجائے گااھ۔
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ /۲۶۳)
    اقول اولا  :
فــ۱حقیقۃالظرفیۃغیر معقولۃ فی الصّلوٰۃ ولا ھی مفاد عند کما علمت۔
    اقول  :
ا س پرچند کلام ہیں،
اول  :
نماز کے اندرحقیقی ظرفیت کاتصورنہیں ہوسکتااوریہ ''عند''کا مفاد بھی نہیں جیساکہ ابھی واضح ہوا۔
فــ۱:تطفل علی الامام العینی ۔
وثانیا  : قد قال فــ۲الامام العینی نفسہ قبل ھذا بورقۃ مانصہ فان قلت کیف التوفیق بین روایۃ عند کل وضوء وروایۃ عند کل صلاۃ قلت السواک الواقع عند الوضوء واقع للصلاۃ لان الوضوء شرع لہا ۲؎ اھ۔
دوم  :
اس سے ایک ورق پہلے خود امام عینی یہ لکھ چکے ہیں: اگرسوال ہوکہ عندکل وضوء کی روایت اور عند کل صلوٰۃ کی روایت میں تطبیق کیسے ہوگی؟ تومیں کہوں گا: وضو کے وقت ہونے والی مسواک نماز کے لئے بھی واقع ہے اس لئے کہ وضو نماز ہی کے لئے مشروع ہواہے اھ۔
فــ۲:تطفل آخرعلیہ ۔
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ /۲۶۰)
وثالثا : کیف فــ۳یباح الاستیاک فــ۴ فی المسجد مع حرمۃ المضمضۃ والتفل فیہ والسواک یستعمل مبلولا ویستخرج الرطوبات فلا یؤمن ان یقطر منھا شیئ وکل ذلک لایجوز فی المسجد الا ان یکون فی اناء اوموضع فیہ معد لذلک من حین البناء کما بیناہ فی فتاوٰنا۔
سوم :
مسجدمیں مسواک کرنا،جائزکیسے ہوگا جب اس میں کُلی کرنااور تھوکناحرام ہے ۔اورمسواک ترکرکے استعمال ہوتی ہے اورمنہ سے رطوبتیں بھی نکالتی ہے جن میں سے کچھ مسجد میں ٹپکنے کابھی اندیشہ ہے اور یہ سب مسجد میں جائز نہیں مگریہ کہ کسی برتن کے اندر ہویا کوئی ایسی جگہ ہو جو تعمیر مسجدکے وقت ہی سے اسی لئے بنارکھی گئی ہو۔جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔
فــ۳:تطفل ثالث علیہ ۔

فــ۴:مسئلہ مسجد میں مسواک کرنی نہ چاہیے ۔مسجد میں کلی کرناحرام مگریہ کہ کسی برتن میں یابانی مسجد نے وقت بنا ئے مسجداس میں کوئی جگہ خاص اس کام کے لئے بنادی ہوورنہ اجازت نہیں ۔
و رابعا  : ما ذکرہ فــ۱لیس قول بعض المالکیۃ بل قول امام دارالھجرۃنفسہ حکاہ عند القرطبی فی المفھم کما فی المواھب اللدنیۃ۔
چہارم  :
جو انہوں نے ذکرکیا وہ بعض مالکیہ کاقول نہیں بلکہ خودامام دارالہجرۃ کا قول ہے ان سے قرطبی نے المفہم میں اس کی حکایت کی ہے ، جیساکہ مواہب لدنیہ میں ہے۔
فــ۱:تطفل رابع علیہ ۔
ثانیا  : عند الوضوء فــ۲
میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافہم۲میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافہم
فــ۲:تطفل آخرعلی الفتح ۔
Flag Counter