Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
59 - 135
    اقول  : بلکہ صدہااحادیث متعلق وضو ومسواک اس وقت سامنے ہیں کسی ایک حدیث صحیح صریح سے اصلا مسواک کیلئے وقت مضمضہ یا داخل وضو ہونے کا پتہ نہیں چلتا جن بعض سے اشتباہ ہو اُس سے دفع شُبہ کریں۔
حدیث اوّل : محقق علی الاطلاق نے صرف ایک حدیث پائی جس سے اس پر استدلال ہوسکے:
حیث قال بعد ذکراحادیث وفی الصحیحین قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لولاان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل صلاۃ اوعند کل صلاۃ وعند النسائی فی روایۃ عند کل وضوء رواہ ابن خُزیمۃ فی صحیحہ وصححہا الحاکم وذکرھا البخاری تعلیقا ولا دلالۃ فی شیئ علی کونہ فی الوضوء الاھذہ وغایۃ مایفید الندب وھولا یستلزم سوی الاستحباب اذیکفیہ اذاندب لشیئ ان یتعبد بہ احیانا ولا سنۃ دون المواظبۃ ۱؎۔
اس طرح کہ انہوں نے متعدد حدیثیں ذکر کرنے کے بعدلکھا: اور بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اگرمیں اپنی امت پرگراں نہ جانتا توانہیں ہرنمازکے ساتھ،یا ہرنمازکے وقت مسواک کاحکم دیتا۔اور نسائی کی ایک روایت میں ہے: ہروضوکے وقت اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ حاکم نے اسے صحیح کہا اور امام بخاری نے اسے تعلیقاً ذکرکیا۔ان احادیث میں سے کسی میں مسواک کے وضوکے اندرہونے پرکوئی دلالت نہیں، مگرصرف اس روایت میں۔ اور یہ بھی زیادہ سے زیادہ ندب کاافادہ کررہی ہے اور یہ صرف استحباب کو مستلزم ہے اس لئے کہ اس میں یہ کافی ہے کہ حضور جب کسی چیز کی ترغیب دیں تو بعض اوقات اسے عبادت قرار دے دیں اورمسنون ہونا حضور کی مداومت کے بغیر ثابت نہیں ہوتا۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲)
اُنھی کا اتباع اُن کے تلمیذ محقق حلبی نے حلیہ میں کیا۔
اقول اولا  :
احادیث فـــ میں مشہور ومستفیض یہاں ذکر نماز ہے یعنی لفظ:
عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ رواہ مالک واحمد ۱؎والستۃعـــہ عن ابی ھریرۃ ۔
یعنی لفظ ''ہر نماز کے وقت یا ہر نماز کے ساتھ''اسے امام مالک، امام احمد اور اصحابِ ستہ نےحضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا۔
فــ :تطفل علی الفتح والحلیۃ۔
(۱؎ مؤطا الامام مالک    کتا ب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک    میرمحمدکتب خانہ کراچی        ص۵۱)

(مسند الامام احمدبن حنبل     عن ابی ھریرۃ        المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۴۲۵)

(صحیح البخاری     کتاب الجمعہ باب السواک     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۲۲)

(صحیح مسلم         کتاب الطہارۃ با ب السواک     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۲۸)
عــہ : قال الشوکانی فی نیل الاوطار قال النووی غلط بعض الائمۃ الکبار فزعم ان البخاری لم یخرجہ وھوخطأ منہ وقد اخرجہ من حدیث مالک عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ھریرۃ ولیس ھو فی المؤطا من ھذا الوجہ بل ھو فیہ عن ابن شہاب عن حمید عن ابی ھریرۃ قال لولا ان ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل وضوء ولم یصرح برفعہ قال ابن عبدالبر وحکمہ الرفع وقد رواہ الشافعی عن مالک مرفوعا۲؎ ھذا کلامہ فی النیل ثم جعل یعد بعض ماورد فی الباب ولم یعلم ماانتھی الیہ کلام الامام النووی۔

 اقول :  لااظن قولہ لیس ھو فی المؤطا الخ من کلام الامام وھو خطأ فـــ اشد واعظم فان الحدیث فی المؤطا اولابعین السند المذکور فی البخاری رفعاثم متصلا بہ بالسند الاخر وقفا وقدروی ھذا ایضا معن ابن عیسٰی وایوب ابن صالح وعبدالرحمٰن بن مھدی وغیرھم عن مالک مرفوعا وھؤلاء کلھم من رواۃ المؤطا اھ منہ ۔
شوکانی نے نیل الاوطار میں لکھا کہ ۔امام نووی نے فرمایا: بعض ائمہ کبارنے غلطی سے یہ دعوٰی کیا کہ امام بخاری نے یہ حدیث روایت نہ کی، اوریہ دعوٰی غلط ہے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک سے روایت کیاہے وہ ابوالزنادسے ، وہ اعرج سے ، وہ ابوہریرہ سے راوی ہیں۔ اور امام مالک کی موطا میں یہ حدیث اس سند کے ساتھ نہیں بلکہ اس میں ابن شہاب زہری سے روایت ہے وہ حمید سے،وہ ابوھریرہ سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا:''اگر میں اپنی اُمت پر گراں نہ جانتا توانہیں ہر وضوکے ساتھ  مسواک کا حکم دیتا''۔ اور اس کے مرفوع ہونے کی صراحت نہ کی۔ ابن عبدالبرنے کہا یہ مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔ اوراسے امام شافعی نے امام مالک سے مرفوعاً روایت کیاہے۔ یہ نیل الاوطار کی عبارت ہے۔ا س کے بعداس باب میں وارد ہونے والی کچھ حدیثیں شمارکرانا شروع کردیا اوریہ نہ بتایا کہ امام نووی کاکلام کہاں ختم ہوا۔

اقول : میں نہیں سمجھتا کہ یہ الفاظ''اور امام مالک کی مؤطا میں یہ حدیث اس سندکے ساتھ نہیں الخ''۔امام نووی کے کلام میں ہوں جب کہ یہ بہت شدید اورعظیم خطا ہے اس لئے کہ یہ حدیث مؤطامیں پہلے بعینہ بخاری ہی کی ذکر کردہ سندکے ساتھ مرفوعاً ہے پھر اس سے متصل دوسری سندکے ساتھ موقوفاً ہے ۔اوراسے معن بن عیسٰے، ایوب بن صالح، عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہم نے بھی امام مالک سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ سب حـضرات مؤطا کے راوی ہیں ۱۲منہ۔ (ت)
(۲؎ نیل الاوطار    ابواب السواک وسنن الفطرۃ باب الحث علی السواک     مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۲۶)
فـــ : ردعلی الشوکانی ۔
واحمد وابو داؤد والنسائی والترمذی والضیا عن زید بن خالد۱؎۔ واحمد بسند جید عن ام المؤمنین زینب بنت جحش ۲؎ وکابن ابی خیثمۃ وابن جریرعن ام المؤمنین ام حبیبۃ۳؎۔ والبزاروسمویہ عن انس۱؎ وھما والطبرانی وابو یعلی والبغوی والحاکم عن سیدنا العباس۲؎ واحمد والبغوی والطبرانی وابو نعیم والباوردی وابن قانع والضیاء عن تمام بن العباس۳؎۔
امام احمد، ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ضیاء نے زید بن خالد سے روایت کیا۔ امام احمد نے بسندِجیّد ام المومنین زینب بنت جحش سے۔ اور ابن ابی خیثمہ وابن جریر کی طرح اُم المومنین ام حبیبہ سے روایت کیا۔ بزاروسمویہ نے حضرت انس سے ۔

بزاروسمویہ اور طبرانی، ابویعلی،بغوی اورحاکم نے سیدنا عباس سے ۔ امام احمد، بغوی ،طبرانی، ابو نعیم، باوردی،ابن قانع اور ضیاء نے تمام بن العباس سے۔
(۱؎مسند الامام احمد بن حنبل بقیہ حدیث زید بن خالدلجھنی    المکتب الاسلامی بیروت     ۴ /۱۱۶)

(سنن الترمذی     ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک     حدیث ۲۲     دارالفکر بیروت      ۱/ ۹۹)

(سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ     باب کیف یستاک     آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۷)

(کنزالعمال بحوالہ حم ،ت والضیاء عن زید بن خالد الجھنی     حدیث ۲۶۱۹۰    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۳۱۵)

(۲؎مسند الامام احمد بن حنبل حدیث زینب بنت جحش    المکتب الاسلامی بیروت     ۶ /۴۴۹)

(۳؎مسند الامام احمد بن حنبل حدیث ام حبیبہ بنت ابی سفیان     المکتب الاسلامی بیروت     ۶/ ۳۲۵)

(کنزالعمال بحوالہ ابن جریر     حدیث ۲۶۲۰۳    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹ /۳۱۷)

(۱؎کنزالعمال بحوالہ البزار     حدیث ۲۶۱۷۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ / ۳۱۳

(کنزالعمال بحوالہ سمویہ     حدیث ۲۶۲۰۷    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۳۱۷)

(۲؎المعجم الکبیر     حدیث۲ ۱۳۰    المکتبہ الفیصلیہ بیروت     ۲/ ۶۴)

(المستدرک للحاکم     کتاب الطہارۃ     اولاان اشق علی امتی الخ     دارالفکر بیروت     ۱/ ۱۴۶)

(۳؎المعجم الکبیر     حدیث۳ ۱۳۰    المکتبہ الفیصلیہ بیروت     ۲/ ۶۴)

(کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ     حدیث ۲۶۲۱۱    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹/ ۳۱۸)
واحمد والباوردی عن تمام بن قثم۴؎ وصوبواکونہ عن العباس۔وعثمٰن بن سعید الدارمی فی الرد علی الجھمیۃ والدار قطنی فی احادیث النزول عن امیر المؤمنین علی۔۵؎ والطبرانی فی الکبیرعن ابن عباس ۶؎ وفی الاوسط کالخطیب عن ابن عمر ۷؎ وابو نعیم فی السواک عن ابن عمرو۸؎
امام احمد وباوردی نے تمام بن قثم سے روایت کیا اور بتایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حضرت عباس سے ہے۔ عثمان بن سعید دارمی نے الردعلی الجہمیہ میں، اور دارقطنی نے احادیث نزول میں امیرالمومنین حضرت علی سے۔ اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن عباس سے ۔ اور معجم اوسط میں خطیب کی طرح حضرت ابن عمرسے۔ اور ابو نعیم نے سواک میں حضرت ابن عمر وسے۔
(۴؎کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ     حدیث ۲۶۲۱۱    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹/ ۳۱۸)

(مسند الامام احمد بن حنبل حدیث قثم بن تمام اوتمام بن قثم الخ     المکتب الاسلامی بیروت     ۳/ ۴۴۲)

(۶؎المعجم الکبیر     حدیث۲۵ ۱۱۱و۱۱۱۳۳        المکتبہ الفیصلیہ بیروت     ۱۱/ ۸۵و۸۷)

(۷؎المعجم الاوسط     حدیث ۸۴۴۳    مکتبہ المعار ف ریاض         ۹ /۲۰۴)

(۸؎کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم عن ابن عمر     حدیث ۲۶۱۹۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۳۱۶)
و سعید بن منصور عن مکحول۱؎ وابو بکر بن ابی شیبۃ عن حسان ۲؎بن عطیۃ کلاھما مرسل۔
اور سعید بن منصورنے مکحول سے اور ابو بکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کی۔ یہ دونوں مرسل ہیں۔(ت)
(۱؎کنزالعمال بحوالہ ص عن مکحول     حدیث ۲۶۱۹۵    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹/ ۳۱۶)

(۲؎المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارات ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳      دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۵۷)
Flag Counter