Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
58 - 135
     ثانیا  :
سنیت کو مواظبت درکار اب ہم وضو میں کُلّی کے وقت احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہرگز اُس وقت مسواک پر مواظبت ثابت نہیں ہوتی۔ خود امام محقق علی الاطلاق کو اس کا اعتراف ہے اور اسی بنا پر قول استحباب اختیار فرمایا۔ فتح میں فرماتے ہیں:
المطلوب مواظبتہ علیہ الصلوۃ والسلام عند الوضوء ولم اعلم حدیثا صریحا فیہ ۲؎۔
مطلوب یہ ہے کہ وضوکے وقت اس پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مداومت ثابت ہواورمیرے علم میں اس بارے میں کوئی صریح حدیث نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر        کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲)
اقول  :
بلکہ مواظبت درکنار چوبیس۲۴ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صفتِ وضو قولاً وفعلاً نقل فرمائی:

(۱) امیر المومنین عثمان غنی        (۲) امیر المومنین مولا علی    (۳) عبداللہ بن عباس

(۴) عبداللہ بن زید بن عاصم    (۵) مغیرہ بن شعبہ    (۶) مقدام بن معدی کرب

(۷) ابو مالک اشعری        (۸) ابو بکرہ نفیع بن الحارث    (۹) ابو ہریرہ

(۱۰) وائل بن حجر            (۱۱) نفیر بن مالک حضرمی        (۱۲) ابو امامہ باہلی

(۱۳) انس بن مالک        (۱۴) ابو ایوب انصاری     (۱۵) کعب بن عمرو یامی

(۱۶) عبداللہ بن ابی اوفی        (۱۷) براء بن عازب        (۱۸) قیس بن عائذ

(۱۹) ام المومنین صدیقہ        (۲۰) رُبیع بنت معّوذ بن عفراء    (۲۱) عبداللہ بن اُنیس

(۲۲) عبداللہ بن عمرو بن عاص    (۲۳) امیر معٰویہ
(۲۴) رجل من الصحابہ لم یسم رضی اللہ عنہم اجمعین
اوّل کے بیس۲۰ علّامہ محدث جلیل زیلعی نے ذکر کئے اُن کے بعد کے دو۲ امام محقق علی الاطلاق نے زیادہ فرمائے اخیرکے دو اس فقیرغفر لہ نے بڑھائے اوران کے پچیسویں امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہیں مگر ان سے خود اُن کے وضو کی صفت مروی ہے اگرچہ وہ بھی حکم مرفوع میں ہے،
رواہ سعید بن منصور فی سننہ عن الاسود بن الاسود بن یزید قال بعثنی عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالی عنہ الی عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالی عنہ الحدیث۱؎ والحدیث قبلہ رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ والعدنی والخطیب عن رجل من الانصار ان رجلا قال الا اریکم کیف کان وضوء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم قالوا بلی الحدیث ۲؎وحدیث معٰویۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ عند ابن عساکر۔
    اسے سعید بن منصور نے اپنی سُنن میں اسود بن اسود بن یزید سے روایت کیا۔وہ کہتے ہیں مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس بھیجا۔اس کے بعدطریقہ وضوسے متعلق پُوری حدیث ہے۔اور اس سے قبل والی حدیث جسے ہم نے بتایا کہ ایک صحابی سے مروی ہے جن کا نام مذکور نہیں، اسے ابوبکربن ابی شیبہ اور عدنی اورخطیب نے روایت کیا ایک انصاری سے کہ ایک شخص نے کہامیں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاوضونہ دکھاؤں؟لوگوں نے کہا کیوں نہیں!۔اس کے بعد باقی حدیث ہے۔ اورحضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ابن عساکرنے روایت کی ہے۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ص عن الاسودبن الاسود    حدیث ۲۶۹۰۲    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۴۴۶و۴۴۷)

(۲ کنزالعمال بحوالہ ش والعدنی وخط عن رجل     حدیث ۲۶۸۶۵    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۴۳۷)
ان پچیس صحابہ کی بہت کثیر التعداد حدیثیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں کہیں وضو یا کُلّی کرتے میں مسواک فرمانے کا اصلاً ذکر نہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا طریقہ وضو زبان سے بتایا انہوں نے مسواک کا ذکر نہ کیا،جنہوں نے اسی لئے وضو کرکے دکھایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مسنونہ بتائیں انہوں نے مسواک نہ کی علی الخصوص امیر المومنین ذوالنورین وامیر المومنین مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ دونوں حضرات سے بوجوہ کثیرہ بارہا بکثرت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرکے دکھانا مروی ہوا،کسی بار میں مسواک کا ذکر نہیں۔
عثمان غنی سے راوی اُن کے مولٰی حمران  ،عند احمد والبخاری ومسلم وابی داود والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ والبزاروابی یعلی والعدنی وابن حبان والدار قطنی وابن بشران فی امالیہ وابی نُعیم فی الحلیۃ۔ابن الجارود عند الامام الطحاوی وابن حبان والبغوی فی مسند عثمان وسعید بن منصور۔ابو وائل شقیق بن سلمہ عند عبدالرزاق وابن منیع والدارمی وابی داؤد وابن خزیمۃ والدارقطنی۔ ابو دارہ عند احمد والدارقطنی والضیاء۔عبدالرحمٰن سلمانی عند البغوی فیہ۔عبداللّٰہ بن جعفر ابو علقمہ کلاھما عند الدارقطنی عبداللّٰہ بن ابی مُلکیہ عند ابی داؤد ابو مالک دمشقی عند سعید بن منصور قال حُدثت ابو النضر سالم عند ابن منیع والحارث وابی یعلی ولم یلق عثمٰن ۔
سیدناعثمان غنی سے ایک راوی ان کے آزاد کردہ غلام حمران ہیں جن کی روایت امام احمد، بخاری، مسلم ، ابو داؤد، نسائی،ابن ماجہ، ابن خزیمہ، بزار،ابویعلٰی، عدنی ، ابن حبان،دارقطنی،ابن بشران نے اپنی امالی میں اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیا میں ذکر کی ہے۔دوسرے راوی ابن الجارود ہیں جن کی روایت امام طحاوی،ابن حبان نے، بغوی نے مسندعثمان میں،اور سعید بن منصور نے ذکر کی ہے۔تیسرے راوی ابو وائل شقیق بن سلمہ ہیں جن کی روایت عبدالرزاق، ابن منیع، دارمی، ابو داؤد، ابن خزیمہ اور دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ چوتھے راوی ابو دارہ ہیں جن کی روایت امام احمد،دارقطنی اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔پانچویں راوی عبدالرحمان سلمانی ہیں جن کی روایت بغوی نے مسندِ عثمان میں ذکرکی ہے۔چھٹے راوی عبداللہ بن جعفر،ساتویں ابو علقمہ ہیں دونوں حضرات کی روایت دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ آٹھویں راوی عبداللہ بن ابی مُلیکہ ہیں جن کی روایت ابو داؤد نے ذکر کی ہے۔نویں راوی ابو مالک دمشقی ہیں جن کی روایت سعیدبن منصور نے ذکرکی ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیاگیا۔دسویں راوی ابوالنضرسالم ہیں جن کی روایت ابن منیع، حارث اور ابویعلی نے ذکرکی ہے اور انہیں حضرت عثمان کی ملاقات حاصل نہیں۔(ت)
علی مرتضٰی سے راوی عبد خیر ، عندعبدالرزاق وابی بکربن ابی شیبۃ وسعیدبن منصوروالدارمی وابی داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والطحاوی وابن منیع وابن خُزیمۃ وابی یعلی وابن الجارود وابن حبان والدارقطنی والضیاء ابوحیہ عند عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ واحمد وابی داؤد الترمذی والنسائی وابی یعلی والطحاوی والھروی فی مسند علی والضیاء سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالی عنہ عند النسائی وابن جریرعبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنہما عند احمد وابی داؤد وابی یعلی وابن خزیمۃ والطحاوی وابن حبان والضیاء زربن حُبَیش عند احمد وابی داؤد سمویہ والضیاء، ابو العریف عند احمد وابی یعلٰی، ابو مطر عند عبد بن حمید۔
حضرت علی مرتضٰی سے ایک راوی عبدخیر ہیں جن کی روایت عبدالرزاق، ابوبکربن ابی شیبہ، سعید بن منصور، دارمی، ابوداؤد، ترمذی، نسائی،ابن ماجہ،طحاوی،ابن منیع، ابن خزیمہ،ابو یعلی، ابن الجارود،ابن حبان،دارقطنی اورضیاء نے ذکر کی ہے۔دوسرے راوی ابوحیہ ہیں جن کی روایت عبدالرزاق ابن ابی شیبہ،امام احمد،ابوداؤد، ترمذی،نسائی،ابو یعلی، طحاوی اور ہروی نے مسند علی میں اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔تیسرے راوی سیّدناامام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں جن کی روایت نسائی،طحاوی اورابن جریرنے ذکرکی ہے۔چوتھے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں جن کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ابو یعلی،ابن خزیمہ،امام طحاوی،ابن حبان اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔پانچویں راوی زِربن حبیش ہیں جن کی روایت امام احمد، ابوداؤد، سمویہ اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔ چھٹے راوی ابو العریف ہیں جن کی روایت امام احمداورابو یعلٰی نے ذکر کی ہے۔ ساتویں راوی ابو مطر ہیں جن کی روایت عبد بن حمید نے ذکر کی ہے۔
یوں ہی عبداللہ بن عباس وعبداللہ بن زیدرضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی احادیث کثیرہ بطریق عدیدہ مروی ہوئیں سب کی تفصیل باعثِ تطویل ان تمام حدیث کا ترک ذکر مسواک پر اتفاق تویہ بتارہا ہے کہ اس وقت مسواک نہ فرمانا ہی معتاد ورنہ کوئی تو ذکر کرتا۔
Flag Counter