Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
57 - 135
اقول: وباللہ التوفیق۔اوّلاً    :
یہ معلوم فــ ہو کہ دربارہ سواک کلمات علما مختلف ہیں کہ سنّت ہے یا مستحب۔ عامہ متون میں سنت ہونے کی تصریح فرمائی اور اسی پر اکثر ہیں صغیری میں اسی کو اصح کہا جوہرہ نیرہ ودُرمختار میں سنت مؤکدہ ہونے پر جزم کیا لیکن ہدایہ واختیار میں استحباب کو اصح اور تبیین و خیرمطلوب میں صحیح بتایا فتح میں اسی کو حق ٹھہرایا حلیہ وبحر نے اُن کا اتباع کیا۔
فــ:مسئلہ مسواک وضو کے لئے سنت یا مستحب ہونے میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے اور اس بارہ میں مصنف کی تحقیق۔
علّامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں:
قد عدہ القدوری والاکثرون من السنن وھو الاصح۳؎۔
امام قدوری او ر اکثر حضرات نے اسے سنّت شمار کیا اوریہی اصح ہے۔(ت)
 (۳؎ صغیری شرح منیۃ المصلی    بحث سنن الوضوء    مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۳)

(غنیۃ المستملی    ومن الآداب ان یستاک    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۲ )
ردالمحتار میں ہے:
وعلیہ المتون۴؎
(اور اسی پر متون ہیں۔ت)
(۴؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۷۷ )
درمختار میں ہے:
السواک سنۃ مؤکدۃ کما فی الجوھرۃ۵؎
مسواک سنّتِ مؤکدہ ہے، جیساکہ جوھرہ میں ہے۔(ت)
(۵؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۱)
ہدایہ میں ہے:
الاصح انہ مستحب۶؎
(اصح یہ ہے کہ وہ یہ مستحب ہے۔ ت)
(۶؎ الہدایۃ مع فتح القدیر        کتاب الطہارۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲ )
امام زیلعی فرماتے ہیں:
الصحیح انھما مستحبان یعنی السواک والتسمیۃ لانھما لیسا من خصائص الوضوء۱؎
صحیح یہ ہے کہ دونوں- یعنی مسواک اور تسمیہ- مستحب ہیں،اس لئے کہ یہ دونوں وضوکی خصوصیات میں سے نہیں ہیں۔(ت)
(۱؎تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۳۳)
محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں:
الحق انہ من مستحبات الوضوء ۲؎
حق یہ ہے کہ وہ مستحباتِ وضومیں سے ہے ۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲)
امام ابن امیر الحاج بعد ذکر حدیث فرماتے ہیں:
ھذا عند التحقیق انما یفید الاستحباب فلا جرم ان قال فی خیر مطلوب ھو الصحیح وفی الاختیار قالوا والا صح انہ مستحب۳؎
عند التحقیق ان سب کامفاد استحباب ہے۔یہی وجہ ہے کہ خیرمطلوب میں اسی کو صحیح کہا،اور ''اختیار''میں ہے کہ علماء نے فرمایا: اصح یہ ہے کہ وہ مستحب ہے۔(ت)
(۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
علامہ خیر الدین رملی قول بحر دربارہ استحباب نقلا عن الفتح ھو الحق (فتح سے نقل کیا گیا کہ وہ حق ہے۔ ت) پھر قولِ صغیری دربارہ سنیت ھو الاصح نقل کرکے فرماتے ہیں:
فقد علم بذلک اختلاف التصحیح اھ کما فی المنحۃ۴؎
اس سے معلوم ہواکہ اس بارے میں اختلاف تصحیح ہے اھ جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔(ت)
اقول :
جب تصحیح مختلف ہے تو متون پر عمل لازم
کما نصوا علیہ
(جیساکہ علماء نے اس فائدہ کی صراحت فرمائی ہے۔ت)قول سنیت کی ایک وجہ ترجیح یہ ہوئی۔
وجہ دوم  :
خود امام مذہب رضی اللہ عنہ سے سنیت پر نص وارد۔ امام عینی فرماتے ہیں:
المنقول عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ علی ماذکرہ صاحب المفید ان السواک من سنن الدین اھ نقلہ الشلبی۵؎ علی الکنز۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ مسواک دین کی سُنّتوں میں سے ہے۔جیساکہ صاحبِ مفید نے یہ نقل ذکر کی ہے اھ۔اسے شلبی نے حاشیہ کنز میں نقل کیا۔(ت)
(۵؎ حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۳۵ و ۳۶)
بلکہ ہمارے صاحب مذہب کے تلمیذ جلیل امام الفقہاء امام المحدثین امام الاولیاء سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا: اگر بستی کے لوگ سنّیت مسواک کے ترک پر اتفاق کریں تو ہم اُن پر اس طرح جہاد کریں گے جیسا مرتدوں پر کرتے ہیں تاکہ لوگ اس سنّت کے ترک پر جرأت نہ کریں۔
فتاوٰی حجہ میں ہے:
قال عبداللّٰہ بن المبارک لوان اھل قریۃ اجتمعوا علی ترک سنۃ السواک نقاتلھم کما نقاتل المرتدین کیلا یجترئ الناس علی ترک سنۃ السواک وھو من احکام الاسلام ۱؎۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: اگرکسی بستی والے سب کے سب سنّتِ مسواک چھوڑدیں توہم ان سے اس طرح جنگ کریں گے جیسے مرتدین سے کرتے ہیں تاکہ لوگوں کوسنتِ مسواک کے ترک کی جسارت نہ ہوجب کہ یہ احکامِ اسلام میں سے ایک حکم ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الحجۃ)
حلیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا:
وھذا یفید انہ من سنن الدین کما حکاہ قولا فی المفید ولیس ببعید ۲؎۔
اس سے مستفاد ہوتاہے کہ یہ دین کی ایک سنت ہے جیسا کہ مفید میں بلفظہ یہی قول امام صاحب سے حکایت کیا، اور یہ بعید نہیں۔(ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
    وجہ سوم  :
یہی اقوی من حیث الدلیل ہے کہ احادیث متوافرہ اُس کی تاکید اور اس میں قولاً وفعلاً اہتمام شدید پر ناطق جن سے کتبِ احادیث مملو ہیں بلکہ حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اُس پر مواظبت ومداومت گویا ضروریات وبدیہیات سے ہے ہر شخص کہ احوال قدسیہ پر مطلع ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اُس پر مداومت فرمانا جانتا ہے، خود ہدایہ میں فرمایا:
والسواک لانہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یواظب علیہ ۳؎۔
اور مسواک کرنا اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس پر مداومت فرماتے تھے۔(ت)
(۳؎الہدایہ        کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۶)
تبیین میں فرمایا :
وقد واظب علیہ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ     دارالکتب العلمیۃ بیروت         ۱ /۳۵)
اسی طرح کافی امام نسفی وغیرہ میں ہے:۔
وسیرد وعلیک بقیۃ الکلام فی اتمام تقریب المرام بعون المک العلام
(بعون ملک علام اس سے متعلق بقیہ کلام تقریب مقصود کی تکمیل میں آئے گا۔ت)
Flag Counter