قلت : روی ابو نعیم فی کتاب السواک عن عمرو بن عوف المزنی رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الاصابع تجزئ مجزی السواک اذا لم یکن سواک۱؎ وقداطبق فــ علماؤنا علی ھذا التقیید قال فی الحلیۃ لایقوم الاصبع مقام السواک عند وجودہ فان لم یوجد یقم مقامہ ذکرہ فی الکافی وغیرہ یعنی ینال ثوابہ کما ذکرہ فی الخلاصہ ۲؎ اھ وفی الغنیۃ لاتقوم الاصبع مقام العود عند وجودہ وتجویز بعض الشافعیۃ اصبع الغیر دون اصبع نفسہ تحکم بلا دلیل اھ ۳؎
میں کہوں گا ابونعیم نے کتاب السواک میں حضرت عمر وبن عوف مزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں مسواک کی جگہ کافی ہوں گی جب مسواک نہ ہو۔ اور اس تقیید پر ہمارے علماء کا اتفاق ہے۔ حلیہ میں ہے کہ: مسواک موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، اور موجود نہیں ہے تواس کے قائم مقام ہوجائے گی۔اسے کافی وغیرہ میں ذکرکیاہے۔ مراد یہ ہے کہ مسواک کا ثواب مل جائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ذکرکیا ہے اھ۔ اورغنیہ میں ہے کہ لکڑی موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہ ہوسکے گی۔اور بعض شافعیہ کایہ کہنا کہ دوسرے کی انگلی بھی اپنی انگلی کی جگہ رواہے بلادلیل اور زبردستی کاحکم ہے اھ۔
فــ:مسئلہ مسواک موجود ہوتو انگلی سے دانت مانجنا ادائے سنت و حصول ثواب کے لئے کافی نہیں۔ہاں مسواک نہ ہو تو انگلی یا کھر کھرا کپڑا ادائے سنت کردے گا اور عورتوں کے لئے مسواک موجود ہو جب بھی مسّی کافی ہے۔
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابو نعیم فی کتاب السواک،حدیث ۲۶۱۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۱)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۳)
وفی الہندیۃ عن المحیط والظھیریۃ لاتقوم الاصبع مقام الخشبۃ فان لم توجد فحینئذ تقوم الاصبع من یمینہ مقام الخشبۃ ۱؎ اھ وفی الدر عند فقدہ اوفقد اسنانہ تقوم الخرقۃ الخشنۃ اوالاصبع مقامہ کما یقوم العلک مقامہ للمراۃ مع القدرۃ علیہ ۲؎ اھ وھو ماخوذ من البحر و زاد فیہ تقوم فی تحصیل الثواب لاعند وجودہ ۳؎ اھ
ہندیہ میں محیط اور ظہیریہ سے نقل ہے کہ انگلی، لکڑی کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔اگرمسواک موجودنہیں ہے تو داہنے ہاتھ کی انگلی اس کے قائم مقام ہوجائے گی۔اھ۔درمختارمیں ہے : مسواک نہ ہویا دانت نہ ہوں توکُھردرا کپڑا یا انگلی مسواک کے قائم مقام ہوجائے گی۔ جیسے عورت کو مسواک کی قدرت ہو جب بھی مسّی اس کے قائم مقام ہوجائے گی اھ۔ یہ کلام ، بحر سے ماخوذ ہے اور بحر میں مزیدیہ بھی ہے کہ انگلی تحصیلِ ثواب میں مسواک کے قائم مقام ہوجائے گی اور مسواک موجود ہوتونہیں اھ۔(ت)
(جیساکہ اسکی نقل آئیگی۔ت) اور امام ابن امیر الحاج کے کلام سے اسکی ترجیح مفاد۔
حیث قال فی اٰداب الوضوء تحت قول المنیۃ وان یستاک بالسواک ان کان والا فبالاصبع کون الادب فی فعلہ ان یکون فی حالۃ المضمضۃ علی قول بعض المشائخ۴؎ اھ
اس طرح کہ انہوں نے آدابِ وضوکے بیان میں منیہ کی عبارت وان یستاک بالسواک(اور یہ کہ مسواک سے صفائی کرے) کے تحت فرمایا: اگر مسواک موجود ہوورنہ انگلی سے۔بعض مشائخ کے قول پراس کے استعمال میں مستحب یہ ہے کہ کُلی کرتے وقت ہو۔اھ۔(ت)
(۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
جس کا مفادفــ یہ ہے کہ اکثر علما قولِ اول پر ہیں، علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ میں فرماتے ہیں:
قولہ واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر مفھومہ ان اکثر الائمۃ یجوّز ۱؎۔
''بعض ائمہ اس کی آزادی کا انکارکرتے ہیں''۔اس کامفہوم یہ ہے کہ اکثر ائمہ جائز کہتے ہیں۔(ت)
فـــ:ھذا قول بعض المشائخ مفادہ ان اکثرھم علی خلافہ۔
(۱؎ شرح الوہبانیہ)
اور یہ کہ قول فــ۱دوم نامعتمد ہے،ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ میں ہے :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف المعتمد ۲؎۔
''بعض کے نزدیک حرج نہیں''یہ کہہ کرانہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیاکہ یہ قول خلافِ معتمدہے۔(ت)
فــ۱:نسبۃ قول الی البعض تفید ان المعتمد خلافہ۔
(۲؎ رد المحتار کتاب الصلوٰۃ،فصل(فی بیان تألیف الصلوٰۃ الی انتہائہا) دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۳۲)
اور بحرالرائق میں دوم کو قولِ اکثر بتایا اور بہتر ٹھہرایا اور اُسی کے اتباع سے دُر مختار میں تضعیف اوّل کی طرف اشارہ کیا،
نہایہ وعنایہ وفتح میں دوم پر اقتصار فرمایا نہایہ وہندیہ میں ہے :
کُلی کے وقت مسواک کرے گا دانتوں کی چوڑائی میں،لمبائی میں نہیں۔(ت)
(۴؎العنایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۱)
فتح القدیر میں ہے:
قولہ والسواک ای الاستیاک عند المضمضۃ ۵؎۔
''اورمسواک کرنا''یعنی کُلّی کے وقت مسواک کرنا(ت)
(۵؎فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۲)
بحر میں ہے:
اختلف فی وقتہ ففی النھایۃ وفتح القدیر انہ عند المضمضۃ وفی البدائع والمجتبی قبل الوضوء والاکثر علی الاول وھو الاولی لانہ الاکمل فی الانقاء ۱؎۔
وقتِ مسواک میں اختلاف ہے۔نہایہ اورفتح القدیرمیں ہے کہ یہ مضمضہ کے وقت ہے۔ بدائع اورمجتبٰی میں ہے کہ قبل وضو ہے۔اوراکثر اول پرہیں اور وہی اولٰی ہے کیونکہ صفائی میں یہ زیادہ کامل ہے۔(ت)
(۱ ؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۰)
شرح نقایہ برجندی میں ہے:
وعلیہ الاکثرون۲؎۔
اور اکثر اسی پر ہیں (ت)
(۲ ؎شرح نقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱/۱۶)