علاوہ ازیں میں کہتاہوں قطعی وضروری طورپرمعلوم ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کومسواک کرنا بہت محبوب تھااورصرف بیانِ جواز کے لئے ایک بار ایساکیا۔توچاہئے کہ اس عمل کا وقتِ مضمضہ ہونابھی اسی غرض سے ہویعنی جس نے مثلاً بھول کر مسواک نہیں کی او ربروقت اس کے پاس مسواک موجود نہیں تووہ وقتِ مـضمضہ انگلیوں سے صفائی کرلے۔اوراس سے (مسواک کامقررہ وقت حالت مضمضہ ہونے پر )حدیث کی دلالت بہت ضعیف ہوتی ہے ۔
نعم روی ابو عبید فی کتاب الطھور عن امیر المؤمنین عثمٰن رضی اللّٰہ تعالی عنہ انہ کان اذا توضأ یسوک فاہ باصبعہ ۱؎ لکنی اقول معترک عظیم فی دلالۃ کان یفعل علی الاستمرار بل علی التکرار و لی فیھا رسالۃ سمیتھا ''التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل''فان اخترنا ان لا،لم یدل علی الاستنان اونعم فما کان عثمٰن لیواظب علی ترک السواک فی محلہ مع انھم ھم الائمۃ الاعلام العاضون بنواجذھم علی سنن سید الانام علیہ وعلیھم الصلاۃ والسلام، فاذن ینقدح فی الذھن واللّٰہ اعلم ان السنۃ السواک قبل الوضوء وان یعالج باصبعہ عند المضمضۃ لکن لااجترئ علی القول بہ لانی لم اجد احدا من علمائنا مال الیہ۔
ہاں ابوعبید نے کتاب الطہور میں امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ''
کان اذاتو ضأ یسوک فاہ باصبعہ''
( وہ جب وضو کرتے تھے توانگلی سے منہ(بطورِ مسواک) صاف کرلیا کرتے تھے-لیکن میں کہتا ہوں اس میں سخت معرکہ آرائی ہے کہ کان یفعل (کیاکرتے تھے) کی دلالت استمر اربلکہ تکرار پر ہوتی ہے یا نہیں؟،اس کے بارے میں میرا ایک رسالہ بھی ہے جس کا نام ہے
''التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل''
( کان یفعل کے مدلول کی توضیح میں آراستہ تاج)-اگر ہم یہ اختیارکریں کہ یہ لفظ استمرار و دوام پردلالت نہیں کرتا تومسنون ہونے پر اس کی دلالت ثابت نہ ہوگی۔ اور اگر یہ اختیار کریں کہ استمرار پردلالت کرتاہے تو حضرت عثمان کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ اصل مقام پرمسواک ترک کرنے پروہ مداومت فرماتے رہے ہوں۔جب کہ یہی حضرات تو وہ بزرگ پیشوا و ائمہ ہیں جو سیّدانام علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنّتوں کو دانت سے پکڑنے رہنے والے ہیں۔ اب ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ سنت یہ ہے کہ وضو سے پہلے مسواک کرے اورکُلّی کرتے وقت انگلی سے صفائی کرے لیکن میں اسے کہنے کی جسارت نہیں کرتا کیونکہ اپنے علما میں سے کسی کو میں نے اس طرف مائل نہ پایا۔
(۱؎ کتاب الطہور،باب المضمضۃ والاستنشاق یستعان علیھا بالاصابہ،حدیث۲۹۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۱۶)
فان قلت ماحداک علی التقیید بقولک ''ولا سواک عندہ الان''مع ان ابن عدی والدار قطنی والبیھقی والضیاء فی المختارۃ رووا عن انس بسند قال الضیاء لااری بہ باسا ۱؎ اھ وقد ضعفہ ابن عدی والبیہقی وقال البخاری فــ فی روایۃ عن انس عبد الحکم القسملی منکر الحدیث ۲؎ وقال فی التقریب ضعیف ۳؎ انہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یجزئ من السواک الاصابع ورواہ البیھقی بطریق اخر وقال غیر محفوظ و نحوہ للطبرانی وابن عدی وابی نعیم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہا۔
اگر سوال ہو آپ نے یہ قیدکیوں لگائی کہ ''اوربروقت اس کے پاس مسواک موجودنہیں''۔ حالانکہ سرکار کی یہ حدیث موجود ہے کہ''انگلیاں مسواک کی جگہ کافی ہیں''۔ اسے ابن عدی، دارقطنی ، بیہقی نے اورضیاء مقدسی نے مختارہ میں حضرت انس سے روایت کیا،اس کی سند سے متعلق ضیاء نے کہا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اھ۔ابن عدی اور بیہقی نے اسے ضعیف کہا۔اور امام بخاری نے اس حدیث کے حضرت انس سے روایت کرنے والے شخص عبدالحکم قسملی کو منکر الحدیث کہا۔اورتقریب میں اسے ضعیف کہا ۔ اور بیہقی نے ایک اور سند سے اس کو روایت کیا اور اسے غیرمحفوظ کہا۔اوراس کے ہم معنی طبرانی،ابن عدی اورابونعیم نے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی ہے۔
فــ:تضعیف عبد الحکم القسملی۔
(۱؎ المختارۃ فی الحدیث للضیاء)
(۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبد الحکم بن عبد اللہ القسملی۴۷۵۴ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۳۶)
(السنن الکبری(للبیہقی) کتاب الطہارۃ،باب الاستیاک بالاصابع دار صادر بیروت ۱ /۴۰)
(۳؎ تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ ۳۷۶۱ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ /۵۳۳)
(۴؎ السنن الکبری(للبیہقی) کتاب الطہارۃ،باب الاستیاک بالاصابع دار صادر بیروت ۱ /۴۰)
(الکامل لابن عدی ترجمہ عبد الحکم بن عبداللہ القسملی دارالفکر بیروت ۵ /۱۹۷۱)
(کنزالعمال بحوالہ الضیاء حدیث ۲۷۱۸۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۵)