| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
(۴) اقول اگرچہ فـــ مسواک ہمارے نزدیک سنّتِ وضوہے خلافاللامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فعندہ سنۃ الصلاۃ کمافی البحر وغیرہ (بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے کہ ان کے نزدیک سنّت نمازہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) ولہٰذا جو ایک وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کیلئے مسواک کرنا مطلوب نہیں جب تک منہ میں کسی وجہ سے تغیر نہ آگیا ہو کہ اب اس دفع تغیر کیلئے مستقل سنّت ہوگی،ہاں وضوبے مسواک کرلیا ہو تو اب پیش از نماز کرلے کما فی الدروغیرہ (جیساکہ در وغیرہ میں ہے۔ت) مگر اُس کے وقت فــ۲ میں ہمارے یہاں اختلاف ہے بدائع وغیرہ معتمدات میں قبل وضو فرمایااور مبسوط وغیرہ معتبرات میں وقت مضمضہ یعنی وضو میں کُلّی کرتے وقت ۔
فـــ: مسئلہ مسواک ہمارے نزدیک نماز کے لئے سنت نہیں بلکہ وضو کے لئے ،تو جو ایک وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کے لئے اس سے مسواک کامطالبہ نہیں جب تک منہ میں کوئی تغیر نہ آگیا ہو ہاں اگروضو بے مسواک کر لیاتھا تو اب وقت نماز مسواک کر لے ۔ فـــ۲:مسواک کے وقت میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے کہ قبل وضو ہے یا وضو میں کلی کرتے وقت اوراس بارہ میں مصنف کی تحقیق ۔
حلیہ میں ہے :
وقت استعمالہ علی مافی روضۃ الناطفی والبدائع ونقلہ الزاھدی عن کفایۃ البیھقی والوسیلۃ والشفاء قبل الوضوء وربما یشھدلہ مافی صحیح مسلم عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما عن رسول اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انہ تسوک وتوضأعــہ ثم قام فصلی وفی سنن ابی داؤد عن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان لا یرقد من لیل ولا نھارفیستیقظ الا تسوک قبل ان یتوضأ وفی المحیط وتحفۃ الفقھاء وزادالفقہاء ومبسوط شیخ الاسلام محلۃ المضمضۃ تکمیلا للانقاء واخرج الطبرانی عن ایوب قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ استنشق ثلثاوتمضمض وادخل اصبعہ فی فمہ وھذا ربمایدل علی ان وقت الاستیاک حالۃ المضمضۃ فان الاستیاک بالاصبع بدل عن الاستیاک بالسواک والاصل کون الاشتغال بالبدل وقت الاشتغال بالاصل ۱؎ اھ مختصرا۔
مسواک کے استعمال کاوقت قبل وضو ہے۔ایسا ہی ر وضۃ الناطفی اور بدائع میں ہے اور زاہدی نے اسے کفایۃ البیہقی، وسیلہ اورشفا سے نقل کیاہے۔اوراس پرکچھ شہادت صحیح مسلم کی اس حدیث سے ملتی ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی کہ سرکار نے مسواک کی اور وضو کیا پھر اٹھ کرنماز اداکی۔اورسنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دن یا رات میں جب بھی سوکربیدار ہوتے تو وضوکرنے سے پہلے مسواک کرتے۔ اورمحیط،تحفۃ الفقہا، زادالفقہا اور مبسوط شیخ الاسلام میں ہے کہ مسواک کاوقت کُلّی کرنے کی حالت میں ہے تاکہ صفائی مکمل ہو جائے ۔ اورطبرانی نے حضرت''ایوب''سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب وضو فرماتے توتین بار ناک میں پانی لے جاتے اور کُلی کرتے اورانگلی منہ میں داخل کرتے۔اس حدیث سے کچھ دلالت ہوتی ہے کہ مسواک کاوقت کُلی کرنے کی حالت میں ہے اس لئے کہ انگلی استعمال کرنامسواک استعمال کرنے کابدل ہے اورقاعدہ یہ ہے کہ بدل میں مشغولی اسی وقت ہو جس وقت اصل میں مشغولیت ہوتی اھ مختصراً۔
عــہ : ھکذاھو فی نسختی الحلیۃ بالواو والذی فی صحیح مسلم رجع فتسوک فتوضأ ثم قام فصلی ۱؎ ولعلہ اظھردلالۃ علی المراد اھ
میرے نسخہ حلیہ میں اسی طرح وتوضّأ(اور وضوکیا) واؤ کے ساتھ ہے۔ اورصحیح مسلم میں یہ ہے :
رجع فتسوک فتوضأثم قام فصلی
(لوٹ کرمسواک کی پھروضوکیاپھر اٹھ کرنمازادا کی) اورشاید دلالت مقصودمیں یہ زیادہ ظاہر ہے اھ۔ت)
(۱؎صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب السواک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸) (۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول ھکذافی نسختی الحلیۃ عن ایوب فان کان عن ابی ایوب رضی اللّٰہ تعالی عنہ واسقط الناسخ والا فمرسل والظاھرالاول فان للطبرانی حدیثاعن ابی ایوب الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی صفۃ الوضوء لکن لفظہ کمافی نصب الرایۃ کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ تمضمض واستنشق وادخل اصابعہ من تحت لحیتہ فخللھا ۲؎ اھ فاللّٰہ تعالی اعلم وعلی کل فـــ یخلو عن ابعاد النجعۃ فقداخرج الامام احمد فی مسندہ عن امیر المؤمنین علی کرم اللّٰہ تعالی وجہہ انہ دعا بکوز من ماء فغسل وجہہ وکفیہ ثلثا وتمضمض ثلثا فادخل بعض اصابعہ فی فیہ وقال فی اخرہ ھکذاکان وضوء نبی ۱؎ اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ونحوہ عندعبدبن حمیدعن ابی مطرعن علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
اقول میرے نسخہ حلیہ میں''عن ایوب'' (ایوب سے ) ہے۔اگریہ اصل میں عن ابی ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے اور کاتب سے''ابی'' چھوٹ گیاہے جب تومسندہے ورنہ مرسل ہے اور ظاہراول ہے۔اس لئے کہ طبرانی کی ایک حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے طریقہ وضو کے بارے میں آئی ہے۔لیکن ا س کے الفاظ نصب الرایہ کے مطابق۔ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو کُلّی کرتے اورناک میں پانی ڈالتے اور اپنی انگلیاں داڑھی کے نیچے سے ڈال کرریش مبارک کا خلال کرتے اھ۔توخدائے برترہی کو خوب علم ہے۔ بہر حال اس حدیث سے استناد تلاش مقصود میں قریب چھوڑکردُور جانے کے مرادف ہے اس لئے کہ امام احمد نے مسند میں امیر المومنین حضرت علی کرّم اللہ تعالٰی وجہہ سے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے ایک کُوزہ میں پانی منگا کر چہرے اورہتھیلیوں کوتین بار دھویااور تین بار کلی کی تو اپنی ایک انگلی منہ میں لے گئے۔اوراس کے آخر میں یہ فرمایا:اسی طرح خداکے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وضوتھا۔اوراسی کے ہم معنی عبد بن حمید کی حدیث ہے جو ابو مطر کے واسطہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔
فـــ : تطفل علی الحلیۃ
(۲؎ نصب الرایۃ فی تخریج احادیث ھدایہ کتاب الطہارات اماحدیث ابی ایوب نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ /۵۵) (۱؎ مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۵۱)