فان قلت انما علق فی الحدیث الحکم علی مطلق النوم وعللہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بقولہ فانمالایدری این باتت یدہ۱؎ والنوم لاعن استنجاء ان اریدبہ نفیہ مطلقا فمثلہ بعیدعن ذوی النظافۃ فضلاعن الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وھم المخاطبون اولا بقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی اذااستیقظ احدکم من نومہ۱؎ وان ارید خصوص الاستنجاء بالماء فالصحیح المعتمدان الاستنجاء بالحجر مطھراذا لم تتجاوزالنجاسۃ المخرج اکثرمن قدرالدرھم کمابینتہ فیماعلقتہ علی ردالمحتارفلا یظھر فرق بین الاستنجاء بالماء وترکہ فی ایراث التوھم وعدمہ۔
پھر اگر یہ سوال ہو کہ حدیث میں اس حکم کو مطلق نیندسے متعلق فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس ارشاد سے اس کی علّت بیان فرمائی ہے کہ''وہ نہیں جانتاکہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا''۔اگریہ کہئے کہ لوگ بغیر استنجا کے سوتے تھے اس لئے یہ ارشاد ہوا تواس سے اگر یہ مراد ہے کہ مطلقاً استنجا ہی نہ کرتے تھے توایساتوہر صاحبِ نظافت سے بعید ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے تو اور زیادہ بعید ہے اور وہی حضرات اولین مخاطب ہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے کہ ''جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے۔اور اگر یہ مراد ہے کہ پانی سے استنجا نہ کرتے تھے تو صحیح معتمد یہ ہے کہ پتھر کے ذریعہ استنجا سے بھی طہارت ہوجاتی ہے جب کہ نجاست قدر درہم سے زیادہ مخرج سے تجاوزنہ کرے، جیسا کہ ردالمحتارپرمیں نے اپنے حواشی میں بیان کیا ہے تواحتمالِ نجاست پیدا کرنے اور نہ کرنے میں پانی سے استنجا کرنے اور نہ کرنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں۔
(۱؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ حدیث ۲۴ دارالفکر بیروت ۱ /۱۰۰)
(سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الرجل یستیقظ من منامہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲)
(۱؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ حدیث ۲۴ دارالفکر بیروت ۱ /۱۰۰)
قلت : الحدیث لافادۃ الاستنان اماتاکدہ عند تحقق النجاسۃ فی البدن فبالفحوی ۔
قلت(میں کہوں گا)حدیث مسنونیت بتانے کے لئے ہے اوربدن میں نجاست متحقق ہونے کے وقت اس سنّت کامؤکدہونا مضمونِ کلام سے معلوم ہوا۔
فان قلت ھذا البحرقائلا فی البحراعلم ان الابتداء بغسل الیدین واجب اذاکانت النجاسۃ محققۃ فیھما وسنۃ عند ابتداء الوضوء وسنۃ مؤکدۃ عند توھم النجاسۃ کمااذا استیقظ من النوم ۲؎ اھ فھذانص فی کون کل نوم موجب تاکداالاستنان۔
اگرسوال ہوکہ محقق صاحبِ بحر، البحرالرائق میں یہ لکھتے کہ:واضح ہوکہ دونوں ہاتھ دھونے سے ابتدأ واجب ہے جب ہاتھوں میں نجاست ثابت ہواور ابتدائے وضوکے وقت سنّت ہے،اور احتمالِ نجاست کے وقت سنّتِ مؤکدہ ہے جیسے نیند سے اٹھنے کے وقت اھ۔تو یہ عبارت اس بارے میں نص ہے کہ ہر نیند اس عمل کے سنّتِ مؤکدہ ہونے کاسبب ہے۔
(۲؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۷و۱۸)
قلت : نعم فــ ارسل ھناماابان تقییدہ بعداسطراذیقول علم بماقررناہ ان مافی شرح المجمع من ان السنۃ فی غسل الیدین للمستیقظ مقیدۃ بان یکون نام غیرمستنج اوکان علی بدنہ نجاسۃ حتی لولم یکن کذلک لایسن فی حقہ ضعیف او المراد نفی السنۃ المؤکدۃ لااصلہا ۱؎ اھ لاجرم ان قال فی الحلیۃ ھو مع الاستیقاظ اذاتوھم النجاسۃ اکد ۲؎ اھ فلم یجعل کل نوم محل توھم۔
میں کہوں گاہاں یہاں پرانہوں نے مطلق رکھا مگر چند سطروں کے بعد اس کی قید واضح کردی ہے،آگے وہ فرماتے ہیں:ہماری تقریرسابق سے معلوم ہواکہ شرح مجمع میں جولکھا ہے کہ''نیند سے اٹھنے والے کے لئے دونوں ہاتھ دھونے کامسنون ہونا اس قید سے مقید ہے کہ بغیر استنجاسویا ہویاسوتے وقت اس کے بدن پر کوئی نجاست رہی ہویہاں تک کہ اگر یہ حالت نہ ہو تو اس کے حق میں سنّت نہیں ہے''۔(شرح مجمع کایہ قول)ضعیف ہے۔یااس سے مرادیہ ہوکہ سنّتِ مؤکدہ نہیں ہے،یہ نہیں کہ سرے سے سنّت ہی نہیں اھ۔یہی وجہ ہے کہ حلیہ میں کہا:نیندسے اٹھنے کے وقت جب احتمالِ نجاست ہوتو یہ زیادہ مؤکد ہے اھ۔توانہوں نے ہرنیند کو محلِ احتمال نہ ٹھہرایا۔
(۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول : وھو معنی قول الفتح قیل سنۃ مطلقاللمستیقظ وغیرہ وھوالاولی نعم مع الاستیقاظ وتوھم النجاسۃ السنۃ اٰکد ۳؎ اھ فارادبالواوالاجتماع لترتّب الحکم لامجرد التشریک فی ترتبہ وان کان کلامہ مطلقافی المستیقظ وغیرہ والتوھم غیرمختص بالمستیقظ علی ان السنن الغیرالمؤکدۃ بعضھااٰکد من بعض فافھم۔
اقول یہی فتح القدیر کی اس عبارت کابھی معنی ہے کہ :کہاگیانیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے لئے یہ مطلقاسنت ہے اور یہی قول اولٰی ہے، ہاں نیند سے اٹھنے اورنجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنّت زیادہ مؤکد ہے اھ۔واؤ(اور) سے ان کی مراد یہ ہے کہ نیند سے اٹھنااور نجاست کااحتمال ہونادونوں باتیں جمع ہوں توسنت مؤکدہ ہے یہ مراد نہیں کہ نیند سے اٹھے جب بھی سنّتِ مؤکدہ اور احتمالِ نجاست ہوجب بھی سُنّتِ مؤکدہ اگرچہ ان کا کلام نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے حق میں مطلق ہے اور احتمال نجاست ہونا نیند سے اٹھنے والے ہی کے لئے خاص نہیں۔ علاوہ ازیں سُننِ غیر مؤکدہ میں بعض سنّتیں بعض دیگر کی بہ نسبت زیادہ مؤکدہوتی ہیں۔تو اسے سمجھو۔
(۳؎ فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۹)