Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
52 - 135
    فائدہ :
 فــ۱ اُن پانیوں کے بیان میں جو اس حساب سے جُدا ہیں:
فــ۱:مسئلہ ان پانیوں کابیان جواس حساب کے علاوہ ہیں ۔
    (۱) آبِ استنجاء ہمارے فـــ۲ علما نے وضو کی تقسیم یوں فرمائی ہے کہ آدمی موزوں پر مسح کرے اور استنجے کی حاجت نہ ہوتونیم مُدپانی کا فی ہے اور موزے اور استنجا دونوں ہوں یا دونوں نہ ہوں تو ایک مُد، اور موزے نہ ہوں اور استنجا کرنا ہو تو ڈیڑھ مُد۔
فــ۲:مسئلہ حالات وضوپرمسنون پانی کے اختلافات اوریہ کہ استنجے کے لئے چھٹانک آدھ سیرپانی چاہئے۔
حلیہ میں ہے:
روی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی الوضوء ان کان متخففا ولا یستنجی کفاہ رطل لغسل الوجہ والیدین ومسح الرأس والخفین وان کان یستنجی کفاہ رطلان رطل للاستنجاء ورطل للباقی وان لم یکن متخففا ویستنجی کفاہ ثلثۃ ارطال رطل للاستنجاء ورطل للقدمین ورطل للباقی ۱؎۔
امام حسن بن زیادنے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وضو بارے میں روایت کی ہے کہ اگر موزے پہنے ہیں اوراستنجا نہیں کرنا ہے توچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے دھونے اور سر اور موزوں کے مسح کے لئے ایک رطل کافی ہے۔اوراگر استنجابھی کرنا ہے تو دو رطل۔ایک رطل استنجا کے لئے اورایک رطل باقی کے لئے اوراگر موزے نہیں ہیں اوراستنجاکرنا ہے توتین رطل کفایت کریں گے،ایک رطل استنجا کے لئے ایک رطل دونوں پاؤں کے لئے، اورایک رطل باقی کے لئے۔(ت)
(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
    (۲) ظاہر ہے کہ اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ ہو جیسے حاجتِ غسل میں ران وغیرہ پر منی تو اس کی تطہیر کاپانی اس حساب میں نہیں اور یہیں سے ظاہر کہ بعد جماع اگر کپڑا نہ ملے تو پانی کہ اب استنجے کو درکار ہوگا معمول سے بہت زائد ہوگا۔
    (۳)پیش از  استنجا   تین (فــ۱)بار دونوں کلائیوں تک دھونا مطلقاً سنّت ہے اگرچہ سوتے سے نہ جاگا ہو یہ اُس سنّت سے جُداہے کہ وضو کی ابتدا میں تین تین بار ہاتھ دھوئے جاتے ہیں سنّت یوں ہے کہ تین بار ہاتھ دھو کر استنجا کرے پھر آغاز وضو میں باردیگر تین بار دھوئے پھر منہ فـــ۲ دھونے کے بعد جوہاتھ کہنیوں تک دھوئے گااُس میں ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تک دھوئے تو دونوں کفدست تین مرتبہ دھوئے جائیں گے ہر مرتبہ تین تین بار۔اخیر کے دونوں داخل حساب وضو ہیں اور اوّل خارج، ہاں اگر استنجا کرنا نہ ہوتو دو ہی مرتبہ تین تین بار دھونا رہے گا۔
فـــ۱:مسئلہ:استنجے سے پہلے تین بار دونو ں ہاتھ کلائیوں تک دھونا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ اٹھاہو ہاں سوتے سے اٹھا اور بدن پر کوئی نجاست تھی توزیادہ تاکید یہاں تک کہ سنت مؤکدہ ہے۔
فـــ۲:مسئلہ وضو کی ابتداء میں جو دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین تین بار دھوئے جاتے ہیں سنت یہ ہے کہ منہ دھونے کے بعد جوہاتھ دھوئے اس میں پھر دونوں کفدست کو شامل کرلے سر ناخن سے کہنیوں کے اوپر تک تین بار دھوئے۔
درمختار میں ہے:
(سنتہ البداءۃ بغسل الیدین) الطاھرتین ثلثا قبل الاستنجاء وبعدہ وقیدالاستیقاظ اتفاقی (الی الرسغین وھو) سنۃ (ینوب عن الفرض) ویسن غسلہماایضامع الذارعین ۱؎ اھ ملتقطا۔
    وضو کی سنت گٹوں تک دونوں پاک ہاتھوں کے دھونے سے ابتدا کرنا۔ تین بار استنجا سے پہلے اور اس کے بعدبھی۔ اور نیند سے اٹھنے کی قید،اتفاقی ہے اور یہ ایسی سنت ہے جو فرض کی نیابت کردیتی ہے۔اور کلائیوں کے ساتھ بھی ہاتھوں کو دھونامسنون ہے اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۰و۲۱)
ردالمحتار میں ہے:
خص المصنف بالمستیقظ تبرکابلفظ الحدیث والسنۃ تشمل المستیقظ وغیرہ وعلیہ الاکثرون اھ وفی النھر الاصح الذی علیہ الاکثر انہ سنۃ مطلقالکنہ عند توھم فــ النجاسۃ سنۃ مؤکدۃ کما اذا نام لاعن استنجاء اوکان علی بدنہ نجاسۃ وغیر مؤکدۃعند عدم توھمھا کما اذا نام لاعن شیئ من ذلک اولم یکن مستیقظاعن نوم اھ ونحوہ فی البحر ۱؎اھ۔
مصنّف نے نیندسے اٹھنے والے کے ساتھ لفظ حدیث سے برکت حاصل کرنے کے لئے کلام خاص کیا۔اورسنت نیند سے اٹھنے والے کے لئے بھی اور اس کے علاوہ کے لئے بھی ہے۔ اسی پر اکثر حضرات ہیں اھ۔النہرالفائق میں ہے:اصح جس پر اکثرہیں،یہ ہے کہ وہ مطلقاسنت ہے لیکن نجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنتِ مؤکدہ ہے مثلاً بغیراستنجاکے سویاہو،یاسوتے وقت اس کے بدن پرکوئی نجاست رہی ہو۔اور نجاست کا احتمال نہ ہونے کی صورت میں سنّتِ غیر مؤکدہ ہےمثلاً ان میں سے کسی چیز کے بغیر سویا ہویانیند سے اٹھنے کی حالت نہ ہو۔اھ۔اسی کے ہم معنی بحر میں بھی ہے اھ
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۷۵)
فـــــ:مسئلہ بدن پر کوئی نجاست ہومثلاتر خارش ہے یازخم یاپھوڑا یا پیشاب کے بعد بے استنجاسورہا کہ پسینہ آکر تری پہنچنے کااحتمال ہے جب تو گٹوں تک ہاتھ پہلے دھونا سنت مؤکدہ ہے اگرچہ سویانہ ہو جب کہ ہاتھ کااس نجاست پر پہنچنا محتمل ہو اور اگر بدن پر نجاست نہیں تو ان کا دھونا سنت ہے مگر مؤکدہ نہیں اگرچہ سو کر اٹھاہو یوں ہی اگر نجاست ہے اوراس پر ہاتھ نہ پہنچنا معلوم ہے یعنی جاگ رہاہے اوریادہے کہ ہاتھ وہاں تک نہ پہنچے تواس صورت میں بھی سنت مؤکدہ نہیں ہاں سنت مطلقا ہے۔
اقول  : و وجہہ ان النجاسۃ اذا کانت متحققۃ کمن نام غیرمستنج واصابۃ الید فی النوم غیر معلومۃ کانت النجاسۃ متوھمۃ امااذا لم تکن نفسھامتحققۃ فالتنجس بالاصابۃ توھم علی توھم فلا یورث تاکدالاستنان ۔
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ نجاست جب متحقق ہے۔جیسے اس کے لئے جوبغیراستنجاکے سویاہو۔ اورنیند میں نجاست پر ہاتھ کاپہنچنا معلوم نہیں ہے توہاتھ میں نجاست لگنے کا صرف احتمال ہے لیکن جب خودنجاست ہی متحقق نہیں تو ہاتھ میں نجاست لگنے کااحتمال دراحتمال ہے اس لئے اس سے مسنونیت مؤکد نہ ہوگی۔
Flag Counter