| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
یہ صاع فـــ کس ناج کا تھاظاہرہے کہ ناج ہلکے بھاری ہیں جس پیمانے میں تین سیر جو آئیں گے گیہوں تین سیر سے زیادہ آئیں گے اور ماش اور بھی زائد، ابو شجاع ثلجی نے صدقہ فطر میں ماش یا مسور کا پیمانہ لیا کہ ان کے دانے یکساں ہوتے ہیں تو اُن کا کیل و وزن برابر ہوگا بخلاف گندم یا جو کہ اُن میں بعض کے دانے ہلکے بعض کے بھاری ہوتے ہیں تو دو قسم کے گیہوں اگرچہ ایک ہی پیمانے سے لیں وزن میں مختلف ہوسکتے ہیں اور اسی طرح جو۔ دُرِّمختار میں اسی پر اقتصار کیا اور امام صدرالشریعۃ نے شرح وقایہ میں فرمایا کہ احوط کھرے گیہوں کا صاع ہے۔
فـــ:مسئلہ زیادہ احتیاط یہ ہے کہ صدقہ فطر وفدیہ روزہ ونماز وکفارہ قسم وغیرہ میں نیم صاع گیہوں جوکے پیمانے سے دئیے جائیں یعنی جس برتن میں ایک سو چوالیس روپے بھر جوٹھیک ہموارسطح سے آجائیں کہ نہ اونچے رہیں نہ نیچے اس برتن بھرکرگیہووں کوایک صدقہ سمجھاجائے ہم نے تجربہ کیاپیمانہ نیم صاع جومیں بریلی کے سیرسے کہ سوروپیہ بھرکاہے اٹھنی بھراوپرپونے دوسیرگیہوں آتے ہیں فی کس اتنے دئیے جائیں ۔
اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں جو کا صاع احوط بتایا اور حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا:
ان الذی علیہ مشائخنابالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوا یفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ۱؎۔
یعنی حرمِ مکہّ میں ہمارے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ اس پر ہیں کہ آٹھ رطل جَو سے صاع کا اندازہ کیا جائے اور اکابر اسی پر فتوٰی دیتے تھے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار، کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۷۷ )
اقول ظاہر ہے کہ صاع اُس ناج کا تھا جو اُس زمان برکت نشان میں عام طعام تھا اور معلوم ہے کہ وہاں عام طعام جو تھا گیہوں کی کثرت زمانہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی۔
حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ہے:
لما کثرالطعام فی زمن معٰویۃ جعلوہ مدین من حنطۃ ۲؎۔
جب حضرت معاویہ کے زمانے میں طعام کی فراوانی ہوئی تواسے گیہوں کے دو مُدٹھہرائے (ت)
(۲؎ شرح معانی الآثار، کتاب الزکوۃ باب مقدار صدقۃ الفطر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۲)
شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے:
الطعام فی عرف اھل الحجاز اسم للحنطۃ خاصۃ ۱؎۔
طعام اہلِ حجاز کے عرف میں صرف گیہوں کانام ہے۔(ت)
(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الزکوۃ باب الامر باخراج زکوۃ الفطر الخ تحت حدیث ۲۲۵۳ دارالفکربیروت ۴ /۲۷۳۲ )
صحیح ابن خزیمہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے :
قال لم تکن الصدقۃ علی عھد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الا التمرو الزیب والشعیر ولم تکن الحنطۃ ۲؎۔
فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانے میں صدقہ کھجور، خشک انگور او رجَو سے دیا جاتااور گیہوں نہ ہوتا۔
(۲؎ صحیح ابن خزیمہ، باب الدلیل علی ان الامر الخ حدیث ۲۴۰۶ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۸۵)
صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
کان طعامنا یومئذ الشعیر الخ ۳؎
ہمارا طعام اس وقت جَو تھا۔(ت)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الزکوۃ باب الصدقۃ قبل العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۴و۲۰۵)
اور اس سے قطع نظر بھی ہوتو شک نہیں کہ مُد وصاع کا اطلاق مُد وصاع شعیر کو بھی شامل، تو اُس پر عمل ضرور اتباع حدیث کی حد میں داخل۔ فقیر نے ۲۷ ماہ مبارک رمضان ۲۷ کو نیم صاع شعیری کا تجربہ کیا جو ٹھیک چار طل جَو کا پیمانہ تھااُس میں گیہوں برابر ہموار مسطح بھر کر تولے تو ثمن رطل کو پانچ رطل آئے یعنی ایک سو چوالیس۱۴۴ روپے بھر جَوکی جگہ ایک سو پچھتر۱۷۵روپے آٹھ آنے بھر گیہوں کہ بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پَونے دو سیر ہوئے، یہ محفوظ رکھنا چاہئے کہ صدقہ فطر وکفارات وفدیہ صوم وصلاۃ میں اسی اندازہ سے گیہوں اداکرنا احوط وانفع للفقراء ہے اگرچہ اصل مذہب پر بریلی کی تول سے چھ۶ روپے بھر کم ڈیڑھ سیر گیہوں ہیں۔ پھر اُسی پیمانے میں پانی بھر کر وزن کیا تو دو سو چودہ ۲۱۴ روپے بھر ایک دوانی کم آیا کہ کچھ کم چھ رطل ہوا تو تنہا وضوفـــ۱ کا پانی رامپوری سیر سے تقریباً آدھ پاؤ سیر ہوا اور باقی غسل کا قریب ساڑھے چار سیر کے، اور مجموع غسل کا چھٹانک اوپر ساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔
فــ۱:مسئلہ تنہاوضوکامسنون پانی رامپوری سیرسے کہ چھیانوے روپے بھرکاہے تقریباآدھ پاؤ اوپر سیر بھر ہے اورباقی غسل کاساڑھے چارسیر کے قریب ،مجموع غسل کاچھٹانک اوپرساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔
یہ بحمد اللہ تعالٰی قریب قیاس ہے بخلاف اس کے اگر تنقیحات مذکورہ نہ مانی جائیں تو مجموع غسل کا پانی صرف تین سیر رہتا ہے اور امام ابو یوسف کے طور پر دوہی سیر، اُسی میں وضو اُسی میں غسل اور ہر عضو پر تین تین بار پانی کا بہنا یہ سخت دشوار بلکہ بہت دُور ازکار ہے۔